افغان طالبان وفد کا ازبکستان کا دورہ،منصوبوں کی سیکورٹی پر مزاکرات 

162

کابل (آن لائن) افغان طالبان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ازبکستان کا دورہ کیا ہے جہاں اس کی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں ہوئیں ہیں۔ اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ازبک حکام اور طالبان قیادت نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفد کی قیادت طالبان کے سیاسی امور کے سربراہ شیر محمد عباس استانکزئی کر رہے تھے جس نے گزشتہ ہفتے 5روز تک ازبک حکام سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ قطر میں قائم افغان طالبان کے سیاسی دفترکے ترجمان محمد سہیل شاہین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 6 سے 10 اگست تک ہونے والے اس دورے کے دوران طالبان وفد نے ازبک وزیرِ خارجہ عبدالعزیز کاملوو اور افغانستان کے لیے ازبک حکومت کے خصوصی ایلچی عصمت اللہ ارگاشیو سے ملاقاتیں کیں۔ طالبان ترجمان کے بقول ان ملاقاتوں میں موجودہ اور مستقبل کے ان قومی منصوبوں پر گفتگو کی گئی جو افغانستان میں ازبکستان کے تعاون سے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ترجمان کے بقول ملاقاتوں میں ریلوے اور بجلی کی لائنوں کی حفاظت کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے جن کی سیکورٹی کے متعلق ترجمان کے بقول ازبک حکومت نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ازبکستان اور افغانستان کے درمیان ریل رابطہ اور بجلی کی ترسیل کا نظام نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بلکہ افغانستان کے پاو ر انفرااسٹرکچر کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ افغانستان اپنی ضرورت کی بیشتر بجلی ازبکستان سے خرید رہا ہے۔ طالبان ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ان کے وفد نے ازبک حکام کے ساتھ افغانستان میں قیامِ امن اور وہاں سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ ماہرین نے طالبان کے اس دورے کو افغانستان میں ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور خطے میں ان کی سیاسی موجودگی کا اظہار قرار دیا ہے۔ ازبکستان کی وزارتِ خارجہ نے طالبان وفد کے دورے سے متعلق ایک مختصر پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملاقاتوں کے دوران طرفین نے افغانستان میں امن عمل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ افغانستان کی اعلیٰ مذاکراتی کونسل نے طالبان وفد کے ازبکستان کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ازبک حکومت نے طالبان سے بات چیت سے قبل افغان حکومت کو اعتماد میں لیا تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ طالبان اور ازبکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیانات میں بھی افغان حکومت کا کوئی ذکر نہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ازبکستان کی حکومت اپنی سرحد سے متصل افغان علاقوں میں شدت پسند تنظیم داعش کے جڑیں پکڑنے کے امکانات سے بھی خائف ہے اور بظاہر اس لیے بھی طالبان سے اپنے رابطے بڑھا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ازبکستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم ‘اسلامک موومنٹ آف ازبکستان’ کے سیکڑوں جنگجو مبینہ طور پر داعش میں شامل ہوچکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ