دماغی امراض بڑا مسئلہ بن گئے ،ملک کے 2 کروڑ متاثر ہیں،طبی ماہرین 

279
کراچی،جناح اسپتال میں نیورو لوجی ٹرانسفارمیشن کا نفرنس سے پروفیسر ڈاکٹر واسع شاکر، پروفیسر شوکت علی،ڈاکٹر سیمی جمالی،ڈاکٹر اقبال آفریدی و دیگر خطاب کررہے ہیں
کراچی،جناح اسپتال میں نیورو لوجی ٹرانسفارمیشن کا نفرنس سے پروفیسر ڈاکٹر واسع شاکر، پروفیسر شوکت علی،ڈاکٹر سیمی جمالی،ڈاکٹر اقبال آفریدی و دیگر خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ماہرین اعصابی امراض نے کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 10 سال کے دوران دماغی امراض میں اضافہ ہوا ہے‘ 2 کروڑ افراد دماغی امراض کا شکار ہیں‘ 21 کروڑ عوام کے لیے صرف 200 نیورولوجسٹ موجود ہیں‘ سالانہ ایک ہزار افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں‘ صرف6 اسپتالوں میں اسٹروک یونٹ قائم ہے‘ دماغی صحت ہر گزرتے دن کے ساتھ مسئلہ بنتی جا رہی ہے‘ پاکستان میں 50 لاکھ افراد ذہنی معذوری کا شکار ہیں‘ کراچی میں ’’کراچی انسٹیٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈیزیز اینڈ ری ہیبلی ٹیشن سینٹر‘‘ قائم کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے نیورولوجی اویئر نیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے تحت جناح اسپتال کراچی کے نجم الدین آڈیٹوریم میں منعقدہ 2 روزہ نیورولوجی ٹرانسفارمیشن ان پاکستان کانفرنس کے دوسرے روز شرکا سے خطاب
کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے معروف نیورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، نیورولوجی اویئر نیس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) کے سیکرٹری ڈاکٹر عبد المالک، جناح اسپتال کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی اور پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے سابق صدر پروفیسر شوکت علی، ڈاکٹر سلیم بریچ، پروفیسر عالم ابراہیم صدیقی، ڈاکٹر ٹیپو سلطان، ڈاکٹر اقبال آفریدی، پروفیسر اختر شیریں، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی، ڈاکٹر فاروق راٹھور، ڈاکٹر سرور صدیقی اور دیگر دماغی و اعصابی امراض کے ماہرین نے خطاب کیا۔ اعصابی ماہرین کا کہنا تھا کہ اس وقت پورے پاکستان میں 200 نیورولوجسٹ ہیں جو کہ آبادی کی شرح اور بیماریوں کی شرح کے حساب سے کم ہیں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں نیورو لوجی کے شعبے سے وابستہ افراد نے آگہی، علاج اور اس شعبے کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بڑے شہروں میں تو اس حوالے سے بڑی سہولیات موجود ہیں لیکن دیہی علاقوں میں یہ سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے امراض اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو کہ باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرگی، سردرد، رعشہ، یادداشت، آدھے سرکا درد اور دیگر دماغی و اعصابی امراض کے متعلق مناسب آگہی اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے‘ اس شعبے میں دستیاب سہولیات ناکافی ہیں جس کی وجہ حکومت اور پبلک سیکٹر کی عدم توجہ ہے جس کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے‘ملک کے پسماندہ اور دیہی علاقوں میں اس حوالے سے مراکز صحت قائم ہونے چاہئیں اس کے علاوہ نیورو لوجی کے شعبے میں مزید لوگوں کو ٹریننگ دینے کے لیے ورکشاپ منعقد کی جائیں تاکہ ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کیا جا سکے‘ علاوہ ازیں پیشنٹ ویلفیئر کے حوالے سے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے جن میں مریضوں کے لیے آگاہی سیشن، مفت ادویات کی فراہمی اور فری کلینک سروس شامل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ