فضل الرحمان والی بات ہم کہتے تو را کے ایجنٹ کہلا تے ،فارق ستار 

88

کراچی(خبر ایجنسیاں)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جو بات کہی اگر وہ بات غلطی سے بھی ہمارے منہ سے نکل جاتی تو ہم پر ‘را’ کے ایجنٹ ہونے کی مہر لگ جاتی۔کراچی کی مقامی عدالت میں پیشی کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الر حمان خوش قسمت ہیں کہ یہ بات کرنے کے باوجود بھی انہیں کسی نے ‘را’ کا ایجنٹ نہیں کہا، اگر ہم یہ بات کہتے تو ہم پر غیر ملکی ایجنٹ کی مہر لگ جانی تھی۔خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف
گرینڈ اپوزیشن کے احتجاج سے خطاب میں ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور یومِ آزادی نہ منانے کا اعلان کیا تھا۔ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا ایم کیو ایم پاکستان سیاسی جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور خاص طور پر ہمارے ووٹ بینک کے مفادِ عامہ کے لیے ہم کوشاں رہیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف تحقیقات میں بھی دیہی سندھ کے نمائندوں کے ساتھ کچھ نہیں ہوتا۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف جو کارروائی ہورہی ہے اس میں پیپلز پارٹی کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا۔ سب سے زیادہ مقدمات پیپلزپارٹی کے سابق وزرا پر ہیں لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔ایم کیو ایم کے رہنما نے مزید کہا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکمرانی بدترین رہی ہے۔فاروق ستار نے کہا کہ اس سے زیادہ سویا ہوا الیکشن نہیں دیکھاآرٹی ایس سسٹم سورہا تھا کاؤنٹنگ کے وقت خفیہ کیمرے سو رہے تھے ،صبح چیف الیکشن کمشنر سو رہے تھے۔پیپلزپارٹی بھی کہتی ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے تو پیپلزپارٹی کو ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ پیپلزپارٹی سے اچھی ورکنگ ریلیشن شپ ہو۔پیپلزپارٹی سے ایسا اشتراک عمل ہو جس سے سندھ میں شہری اور دیہی فرق کو ختم کیا جاسکے۔ہم اپنی طرف سے اس فرق کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں تاہم دس سال سے صوبے کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی نے اس دیہی اور شہری سندھ کے فرق میں اضافہ کیا ہے۔شہروں میں ٹیکس کی بھرمار کی گئی، لوٹ مار اور زمینوں کی بندر بانٹ کی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ