بینک کھاتے ،جائداد قرق کرنے سے روکا جائے،مجید خاندان کی عدالت عظمیٰ سے استدعا 

38

اسلام آباد(آن لائن)جعلی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات میں سست روی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں انور مجید ،خواجہ عبدالغنی مجید اور دیگر نے اپنا جواب عدالت عظمیٰ میں جمع کرا دیا۔ عدالت عظمیٰ میں انور مجید اور دیگر کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ ایف ائی اے جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں 21 جولائی کو عبوری چالان خصوصی عدالت میں جمع کراچکی ہے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے چارج شیٹ 7 جولائی کو تیار کر لی ہے، جعلی بنک اکاؤنٹس کا ٹرائل پہلے ہی خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہے اس حوالے سے کیس میں عدالتی آبزرویشن سے شفاف ٹرائل اور بنیادی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ ہمارے خلاف کارروائی روکے، ہم بے قصور ہیں تمام الزمات غلط ہیں۔جواب کے مطابق مجید فیملی کے لوگ بیرون ملک ہیں بے گناہی ثابت کرنے کے لیے پاکستان واپس آئینگے، انور مجید کی صحت خراب ہے انکے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے۔ ایف آئی اے اومنی گروپ آف کمپنیز اور درخواست گزاروں کو ہراساں کرنے کی منظم مہم جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اومنی گروپ آف کمپنیز کے بنک اکاؤنٹس اور جائدادیں قرق کرلی گئی ہیں۔ جواب میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ ایف آئی اے کو جعلی بنک اکاؤنٹس کا حتمی چالان پیش کرنے کا حکم دیا جائے،جن 29 جعلی بنک اکاؤنٹس کا الزام لگایا گیا اس میں کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا گیا، میڈیا ہمارے خلاف 35 ارب روپے کے فراڈ کی خبریں چلا کر ہیجان انگیزی پھیلا رہا ہے۔جواب کے مطابق خرابی صحت کے باعث انور مجید کا اومنی گروپ کی ایگزیکٹو ذمہ داریوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ،ایف ائی اے کو مجید فیملی اور اومنی گروپ کے بنک اکاؤنٹس اور جائدادیں قرق کرنے سے روکا جائے، جائدادیں اور بنک اکاؤنٹس قرق کرنے سے اومنی گروپ کے کاروباری سرگرمیاں اور ملازمین متاثر ہونگے۔ جواب میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کی حوالے سے جاری عدالتی کارروائی روکی جائے اور ایف آئی اے کو حتمی چالان پیش کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ درخواست گزار اپنی بے گناہی ثابت کر سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ