چین : 5 سال میں 125 ممالک اور علاقوں سے فضائی نقل و حمل کے معاہدے

35

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے 5 سال میں چین نے 125 ممالک اور علاقوں کے درمیان فضائی نقل و حمل کے حوالے سے بین الحکومتی معاہدوں پر دستخط کیے۔ ان ممالک اور علاقوں میں دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ 62 ممالک اور علاقے بھی شامل ہیں۔ چین کے سول ایوی ایشن بیورو کے اعلیٰ عہدے دار چانگ چھینگ نے سول ایوی ایشن بیورو کی پریس کانفرنس میں کہا کہ تاحال چین اور دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ 45 ممالک کے درمیان ہر ہفتے براہِ راست 5100 پروازوں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں چینی سول ایوی ایشن باہمی روابط، معیشت و تجارت کے روابط اور ثقافتی تبادلوں میں پل کا کردار ادا کرے گی۔ دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ ممالک کے درمیان سول ایوی ایشن کے شعبے میں باہمی روابط کو توسیع دینے اورخطے میں اس شعبے میں تعاون کا پلیٹ فارم اور نظام قائم کرنے کی کوشش کرے گی، تاکہ سول ایوی ایشن کے شعبے میں تعاون کے لیے مزید سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ دوسری جانب چین اور امریکا کے درمیان تجارتی تنازع کے بعد سے چینی ذرائع ابلاغ امریکا پر تنقید کا زوردار سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ چینی میڈیا تنقید کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضحکررہا ہے کہ امریکی محصولات میں اضافے کے باوجود بیجنگ حکومت کی اقتصادی حالت انتہائی مضبوط ہے۔ چین کے سب سے اہم سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی نے امریکا کو ایک ایسا بیل قرار دیا ہے، جس کے کھروں پر کیلیں لگی ہوئی ہیں اور وہ عالمی تجارتی ضوابط کو روندنے میں مصروف ہے۔ یاد رہے کہ امریکی محصولات کے جواب میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے اضافی ٹیکس عائد کر دیے ہیں۔ ادھر ایک ہفتے کے دوران ایران کے توانائی کے علاوہ دیگر شعبوں پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے، روس پر قومی سلامتی سے متعلق حساس اشیا اور ٹیکنالوجی کی برآمدات پر پابندی لگانے کے اعلان اور ترکی کی اسٹیل اور ایلومونیم مصنوعات پر عائد محصولات کو دوگنا کرنے کے امریکی حکومت کے اقدامات پر اندرونی حلقوں کی جانب سے ٹرمپ حکومت پر شدید تنقید جاری ہے۔ امریکی پالیسی ساز ادارے پیٹرسن بین الاقوامی معاشی ریسرچ سینٹر کے سینئر محقق چاڈ بون کا کہنا ہے کہ امریکا کے اس عمل سے دنیا کو اضطراب کا احساس دیا گیا ہے۔ جب کہ کارنیل یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات ایسور پرساد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت نے محصولات کو خارجہ تنازعات کے حل کا طریقہ کار بنا دیا ہے اور یہ ایک تشویش ناک اقدام ہے۔ سابق اوباما حکومت کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ایڈورڈ پرائس نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت کی محصولات کی حکمت عملی کی قیمت امریکی صارفین کو ادا کرنا پڑے گی، کیوں کہ ان اقدامات سے مسائل سے نہیں نمٹا جا سکے گا۔
فضائی نقل و حمل

Print Friendly, PDF & Email
حصہ