بیت لحم میں یہودی آبادکاری کا غیر معمولی منصوبہ شروع

40

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطینی مقامی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی حکام نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں ایک نیا تعمیراتی منصوبہ شروع کیا ہے، جس کی تکمیل سے بیت لحم کی 4 فلسطینی بستیاں شہر سے کٹ کر رہ جائیں گی۔ بیت لحم میں دیوار فاصل اور یہودی آباد کاری کے خلاف قائم قومی کمیٹی کے ایک عہدے دار حسن بریجیہ نے بتایا کہ صہیونی حکام شہر کے بتیر، وادی فوکین، نحالین اور حوسان کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان چاروں فلسطینی قصبوں کو متحدہ طورپر العرقوب گاؤں کہا جاتا ہے جن کی مجموعی آبادی 20 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ بریجیہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے انجینئروں اور اراضی کے سروے کرنے والی ٹیموں کے ارکان نے نحالین کے وسط میں نئی تعمیراتی نقشے تیار کیے۔ یہ منصوبہ بائی پاس روڈ 60 پر ’بیتار علیت‘ کے مقام پر تعمیر کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے لیے اراضی پہلے ہی غصب کی جا چکی ہے۔ اس تعمیراتی منصوبے پر 18 کروڑ 50 لاکھ شیکل کی رقم مختص کی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت بیت المقدس سے بیت علیت کالونی تک ایک سرنگ کھودنے، ایلی عازر سے بیت جالا کے بیر عونہ تک یہودی آباد کاروں کے لیے سڑک کی تعمیر، اور حیفا اور تل ابیب شہروں تک رسائی کے لیے ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے شامل ہیں۔ فلسطینی عہدے دار کاکہنا تھا کہ ’بیتار علیت‘ کالونی میں اس وقت 60 ہزار یہودی آباد ہیں، جب کہ صہیونی ریاست یہودی آباد کاروں کی تعداد دوگنا کرتے ہوئے ایک لاکھ 20 ہزار تک پہنچانا چاہتی ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں قائم کریات یہودی کالونی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ یہودی کالونی میں ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ آتش زدگی کے بعد اسرائیلی فوج اور فائر بریگیڈ کا عملہ جائے وقوع کی طرف روانہ ہوگیا، تاہم آتش زدگی کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ یہودی کالونی میں آتش زدگی کے بعد جگہ جگہ اسرائیلی فوج نے چیک پوسٹیں قائم کرکے فلسطینیوں کی نقل وحرکت بند کردی۔
یہودی آباد کاری

Print Friendly, PDF & Email
حصہ