ایران پر اقتصادی پابندیاں‘ 5 لاکھ افغان کوچ پر مجبور

30

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کو اس وقت اپنی جدید تاریخ میں غیر مسبوق نوعیت کے اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ امریکا کی جانب سے سخت اقتصادی پابندیوں نے اس بحران کی ابتری میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس صورت حال نے نہ صرف ایرانی شہری کی معاشی زندگی پر منفی اثرات ڈالے ہیں، بلکہ ایران میں موجود افغان مہاجرین بھی اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ ان مہاجرین میں لاکھوں افراد نے افغانستان میں طالبان اور فوج کے درمیان شدید لڑائی کے باوجود اپنے وطن واپسی کو ایران میں رہنے پر ترجیح دی ہے۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کی رپورٹ کے مطابق ایران میں حالیہ اقتصادی بحران اور ایرانی کرنسی کی قدر میں غیر مسبوق نوعیت کی گراوٹ نے افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو ایرانی سرزمین چھوڑ کر اپنے وطن افغانستان کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ گزشتہ 7 ماہ کے دوران 4 لاکھ 40ہزار سے زیادہ افغان شہری ایران سے واپس جا چکے ہیں۔ ہرات میں مذکورہ تنظیم کے ترجمان نے واضح کیا کہ 2018ء میں ایران سے واپس لوٹنے والے افغان مہاجرین کی تعداد غیر مسبوق ہے جو کہ 2017ء میں ایران سے افغانستان واپس آنے والوں کے مقابلے میں دو گنا ہے۔ رواں برس 8 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے سے یک طرفہ علاحدگی کا اعلان کر دیا جس کے بعد ایرانی کرنسی کی قیمت گزشتہ 6 ماہ کے دوران اپنی تاریخ کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی۔ افغانستان کے صوبے پروان سے تعلق رکھنے والے شہری عبدالمنصور نے اپنے آبائی علاقے واپس لوٹنے کے بعد فرانسیسی ریڈیو کی فارسی سروس کو بتایا کہ وہ 3 برس قبل ہجرت کر کے ایران کے شہر اصفہان پہنچا تھا۔ وہاں اس نے ماہانہ 215 یورو کے مساوی تنخواہ پر گاڑیوں کے ایک کارخانے میں کام شروع کر دیا۔ تاہم ایرانی کرنسی کی قدم میں کمی کے بعد اس کی تنخواہ کم ہو کر ایک تہائی رہ گئی۔ یہ رقم اس کے والدین اور 9 بہن بھائیوں کے گزر بسر کے لیے کافی نہ تھی۔ اس کے سبب وہ اصفہان سے واپس آ گیا اور اب افغانستان کے شہر ہرات میں بہتر آمدنی والے روزگار کی تلاش میں ہے۔ ایران میں موجود افغانوں کو اس وقت کئی مسائل درپیش ہیں۔ ایرانی حکام انہیں اشیا صرف سرکاری نرخوں پر فروخت نہیں کرتے ہیں۔ انہیں آمد و رفت کے عام ذرائع میں سوار ہونے کی اجازت نہیں ہے اور اسکولوں میں ان کے بچوں کا اندراج نہیں ہو سکتا ہے۔ ادھر ایران ان میں بعض ضرورت مندوں کو فاطمیون ملیشیا میں بھرتی کرتا ہے، جو شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ماتحت بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔ دوسری جانب ایران کو عنقریب مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی لہر کا سامنا ہو گا۔ 4 نومبر کو امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی قوت خرید میں شدید کمی آئے گی۔ اس مرحلے میں تیل، گیس اور بحری آمد و رفت کا سیکٹر شامل ہو گا۔ لہٰذا ایران کی روزگار کی منڈی اب افغان مہاجرین کے لیے پُر کشش نہیں رہی جنہوں نے جنگوں کے سبب اپنا وطن چھوڑا اور بہتر معاشی حالات کی خاطر ایران کا رخ کیا۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کے امکان کی تردید کی ہے۔ نیم سرکاری ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق ظریف نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔ ظریف نے واضح طور کہا کہ جنرل اسمبلی کے حاشیے میں کسی بھی امریکی اہل کار سے کوئی ملاقات طے نہیں کی گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے نیوز ایجنسی کو یہ بھی بتایا کہ تہران حکومت اپنے موقف پر قائم ہے اور اس کا بار بار اعادہ کیا جا چکا ہے۔
افغان مجبور

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.