چین میں 10 لاکھ مسلمان گرفتار ہیں ، اقوام متحدہ

207

جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کا کہنا ہے کہ بہت سی مصدقہ رپورٹیں موصول ہوئی ہیں کہ چین میں ایغور اقلیت کے تقریباً 10 لاکھ افراد کو ایک بہت بڑے خفیہ حراستی کیمپ نما مقام پر تحویل میں رکھا گیا۔ اقوام متحدہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی کی رکن جائے مکڈوجل نے جمعہ کے روز بتایا کہ چین میں ایغور اور مسلمان اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے 10 لاکھ افراد کو ملک کے مغرب میں واقع صوبے سنکیانگ میں سیاسی نظریے کی جبری تلقین کے کیمپوں میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ خاتون رکن نے بتایا کہ ہمیں اس بارے میں موصول ہونے والی باوثوق رپورٹوں نے گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ چین نے اویغور کے خود مختار علاقے کو ایک بہت بڑے تربیتی کیمپ جیسی شکل دے دی ہے اور شدت پسندی کے انسداد کے نام پر اس علاقے کو حقوق کے لیے ممنوع علاقے شمار کر کے اسے مکمل طور پر مخفی رکھا گیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ سنکیانگ کے علاقے میں مسلمان علاحدگی پسندی کا رجحان ہے۔ چین میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے گزشتہ ماہ اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2017ء میں چین میں ہونے والی مجموعی گرفتاریوں میں 21 فیصد سنکیانگ کے علاقے میں ہوئیں۔ ادھر اقوام متحدہ میں امریکی مشن نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ہم چین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی اس پالیسی کو ختم کرے، جس کے برعکس نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ساتھ ہی تمام جبری گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کرے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ میں چین کے سفیر یوجیان ہووا کا کہنا ہے کہ ان کا ملک تمام نسلی گروہوں کے درمیان مساوات اور یکجہتی یقینی بنانے پر کام کر رہا ہے۔ تاہم جائے مکڈوجل نے باور کرایا ہے کہ چین میں اویغور اقلیت اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ ان کی نسلی اور مذہبی شناخت پر ریاست کے دشمنوں جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصر اور ترکی سے واپس آنے والے 100 اویغور طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں سے بعض دوران حراست فوت ہوچکے ہیں۔ جنیوا میں موجود 50 رکنی چینی وفد کی جانب سے میکڈوگل کے ان الزامات پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ یاد رہے کہ ہوئی یا خوذو مسلمانوں کے اکثریتی شہر لنشیا کو ’چھوٹا مکہ‘ کے نام سے چین میں شہرت حاصل ہے۔ اس شہر میں چھوٹی بڑی 80 مساجد واقع ہیں۔ یہ شہر دریائے ڈاشیا کے کنارے پر آباد ہے۔ ایغور مسلم دانشور خوذو مسلمان کمیونٹی کو چین کی ہان نسل کے مسلمان قرار دیتے ہیں۔ چین میں 2کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں، جن میں سب سے بڑی تعداد ہوئی اور ایغوروں کی ہے۔ ایغوروں نے مغربی چین کے سنکیانگ کو اپنا مسکن بنایا ہوا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس خطے میں بد امنی کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں، جن میں 2009ء کی خوں ریزی نمایاں ہے۔ جولائی 2009ء میں ایغور مسلمانوں اور ہان نسل کے چینی باشندوں کے درمیان فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ اسے خطے میں نسلی بنیادوں پر ہونے والی تاریخی ہنگامہ آرائی قرار دیا گیا اور اس دوران تقریباً 200 افراد مارے گئے تھے۔ دوسری جانب چینی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق چین میں کوئی مذہب ملکی قوانین سے بالاتر نہیں ہے اور ہر مذہب پر اس کا احترام لازم ہے۔ اخبار نے یہ اداریہ ننگ شا کے علاقے میں ایک بڑی جامع مسجد شہید کرنے کی کوشش پر پیدا ہونے والے تنازع کے تناظر میں شائع کیا ہے۔ جمعہ کے وائی ژو شہر میں ہوئی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس مسجد کو شہید کرنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا تھا۔
چین مسلمان

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.