شام کے دفاعی نظام نے ایک اور مبینہ حملہ ناکام بنا دیا

75
ادلب: اسدی فوج کی بم باری کے بعد ملبے سے شہید اور زخمی ہونے والے بچوں کو نکالا جارہا ہے
ادلب: اسدی فوج کی بم باری کے بعد ملبے سے شہید اور زخمی ہونے والے بچوں کو نکالا جارہا ہے

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں بشار حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے لبنانی سرحد کے نزدیک شام کے دیہی علاقے میں ایک ڈرون حملہ ناکام بنادیا۔شامی خبررساں اداروں کے مطابق واقعہ دیرعشائر کے علاقے میں پیش آیا۔ اذقیہ صوبے میں روسی فضائی عسکری اڈے حمیمیم پر2 ڈرون طیاروں کے ذریعے حملہ کیا گیا،جسے ناکام بنا دیا گیا۔ رواں ماہ 3 اگست کو بھی اسدی فوج کے فضائی دفاعی نظام نے دمشق کے مغرب میں ایک میزائل کو ناکارہ کردیا تھا۔تاہم اس حوالے سے کسی پر الزام عائد نہیں کیا گیا اور نہ بتایا گیا کہ نشانہ کس ہدف کو بنایا جانا تھا۔ عام طور پر دمشق کی جانب سے اسرائیل پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ فضائی حملوں کے ذریعے شام میں عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے۔ شام میں 2011ء کے بعد سے اسرائیل نے بارہا شام میں اسدی فوج اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ کچھ عرصہ قبل اسرائیلی کارروائی میں شام میں ایرانی ٹھکانوں پر حملہ کیا گیا تھا۔دوسری جانب شام کے شمالی صوبے حلب میں مزاحمت کاروں کے زیر قبضہ ایک قصبے پر فضائی حملے میں 14 شہری ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔ برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے حلب میں واقع قصبے اوروم کبریٰ پر فضائی حملے کی اطلاع دی، لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہے کہ یہ حملہ اسدی فوج نے کیا تھا یا کسی روسی طیارے نے بمباری کی ہے۔ رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ بمباری میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، کیوں کہ بہت سے لوگ تباہ شدہ عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں 3بچے بھی شامل ہیں۔ حملے سے قبل حلب کے پڑوس میں واقع صوبے ادلب میں روسی یا شامی لڑاکا طیاروں نے تباہ کن بمباری کی تھی، جس کے نتیجے 9افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ برطانیہ میں شامی انسانی حقوق کی تنظیم نے بتایا کہ حما، ادلب اور حلب شہروں میں ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا طیاروں نے کئی حملے کیے،جس میں 29 افراد ہلاک ہو گئے۔ شمالی حما میں مزاحمت کاروں کے رہنما ابوالبرحماوی نے بتایا کہ اریم بریٰ کے مغربی شہر حلب میں ہوائی حملوں میں 20 افراد ہلاک ہو گئے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ان حملوں میں 29افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔ اسدی فوج نے جمعرات کے روز ادلب میں پمفلٹ گرا کر لوگوں سے سرکاری قانون کو اپنانے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ 7 سال سے جاری جنگ خاتمے کے دہانے پر ہے۔ واضح رہے کہ ادلب کے بیشتر علاقوں پر مزاحمت کاروں کا کنٹرول ہے۔ اب بشار الاسد کی حکومت اس صوبے کو بھی اپنی عمل داری میں لانے کے لیے پر تول رہی ہے۔حلب میں شام کے دوسرے علاقوں سے بے دخل کیے گئے حکومت مخالفین کی ایک بڑی تعداد بھی رہ رہی ہے۔
شام/حملہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.