غزہ: ایک اور زخمی فلسطینی دم توڑ گیا‘ 24گھنٹے میں 3 شہید

95
غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے فلسطینی طبی رضاکار کو تدفین کے لیے لے جایا جارہا ہے‘ اہل خانہ اور رفقا غم سے نڈھال ہیں
غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے فلسطینی طبی رضاکار کو تدفین کے لیے لے جایا جارہا ہے‘ اہل خانہ اور رفقا غم سے نڈھال ہیں

غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک فلسطینی شہری اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق 40 سالہ احمد جمال سلیمان ابو لولی جنوبی غزہ کے مشرقی علاقے رفح میں ملین مارچ میں شرکت کے موقع پر گولیوں سے زخمی ہوگیاتھا۔ اسرائیلی فوج کی اندھادھند فائرنگ کے نتیجے میں 24گھنٹے کے دوران2فلسطینی شہیدہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز امدادی کارکن عبداللہ قططی اور عمر رسیدہ علی سعید عالول کو شہید کردیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق غزہ کی مشرقی سرحد پر حق واپسی کے لیے احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پراسرائیلی فوج نے اندھادھند گولیاں برسائیں، جن کے نتیجے میں 307 فلسطینی زخمی بھی ہوگئے۔ جمعہ کے روز غزہ کی مشرقی سرحد پر اسرائیلی فوج اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے مشرقی رفح کے مقام پر ایک فلسطینی امدادی کارکن عبداللہ قططی کو گولیاں ماری گئیں۔ گولیاں اس کے سینے میں لگیں جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ دوسرے فلسطینی شہید کی شناخت علی سعید العالول کے نام سے کی گئی ہے۔ ادھر فلسطینی مزاحمت کاروں کی طرف سے 1948ء کے مقبوضہ شہر بئرسبع پر 2014ء کے بعد پہلی بار’گراڈ‘ راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ جمعرات کی شام بئر سبع شہر میں کھلی اراضی پر کئی گراڈ راکٹ گرے۔ راکٹ حملوں کے بعد صہیونی فوج نے خطرے کے سائرن بجائے اور یہودی آباد کار بیرکوں میں چلے گئے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ 2014ء کی جنگ کے بعد پہلی بار فلسطینی مزاحمت کاروں نے بئر سبع شہر پر راکٹ حملے کیے ہیں۔ یہ شہر غزہ کی پٹی سے 45 کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ عبرانی ریڈیو نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ فلسطینیوں کا ایک گراڈ راکٹ بئر سبع کے کھلے علاقے میں گر کر پھٹا، تاہم اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ خیال رہے کہ غزہ کی پٹی سے 80 کلو میٹر دور اسرائیل نے راکٹ شکن میزائل سسٹم’آئرن ڈوم‘ نصب کر رکھا ہے، مگر اس کے باوجود فلسطینیوں کے راکٹ صہیونی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب فلسطین کے علاقے غزہ پر اسرائیلی فوج کی مسلسل جارحیت پر یورپی ممالک نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فرانس اور جرمنی نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے خلاف جارحیت کا سلسلہ بند کرے اور حالات پُرسکون بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کہا گیا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں تشدد کے حربوں کا استعمال اور دوسری طرف فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملے امن وامان کی صورت حال کو مزید گمبھیر بنانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ وزارت خارجہ نے فریقین پر تحمل سے کام لینے اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں کشیدگی کے نتیجے میں شہریوں کی جانوں کا نقصان ہوسکتا ہے۔ اس لیے فریقین کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں اور تنازعات کو سیاسی انداز میں بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ ادھر جرمنی وزارت خارجہ نے بھی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیاہے۔ ایک بیان میں جرمن وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے بحران کے حل کے لیے ثالثی کا طریقہ کار اپنایا جائے اور فلسطینی مزاحمت کار اور اسرائیل دونوں تشدد گریز پالیسی پرعمل کریں، تاکہ ممکنہ جنگ کے خطرات کو ٹالا جاسکے۔
فلسطینی دم توڑ گیا

Print Friendly, PDF & Email
حصہ