یونان سے رواں برس 8ہزار مہاجرین وطن واپس

95
یونان: ملک بدری سے خوف زدہ تارکین وطن مغربی یورپ کی سرحدیں کھولنے کا مطالبہ کررہے ہیں
یونان: ملک بدری سے خوف زدہ تارکین وطن مغربی یورپ کی سرحدیں کھولنے کا مطالبہ کررہے ہیں

جنیوا (انٹرنیشنل ڈیسک) عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کا کہنا ہے کہ رواں برس کے آغاز سے لے کر اب تک 8 ہزار سے زائد تارکین وطن یونان سے واپس اپنے وطن کی جانب لوٹ چکے ہیں، جن میں سے اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔ یونانی پولیس کا کہنا ہیکہ صرف جولائی کے ایک مہینے کے دوران یونان سے اپنے وطنوں کے جانب لوٹنے والے تارکین وطن کی تعداد 841 تھی۔ جولائی میں واپس جانے والے افراد کی اکثریت کا تعلق پاکستان، عراق اور البانیا سے تھا۔ یونانی پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر تارکین وطن ایسے تھے جنہیں معلوم تھا کہ انہیں یورپی یونین کے رکن ممالک میں سیاسی پناہ نہیں مل سکتی، اس لیے وہ خود ہی رضاکارانہ طور پر واپس چلے گئے۔ آئی او ایم نے یونان سے رضاکارانہ وطن واپسی کا پروگرام (اے وی آر آر) کا آغاز 2010ء میں کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت سیاسی پناہ کی متلاشی افراد کو رضاکارانہ وطن واپسی کی صورت میں سفری اخراجات کے علاوہ اپنے وطن میں کاروبار شروع کرنے کے لیے 500 تا 1500 یورو بھی دیے جاتے ہیں۔ منصوبے کے آغاز سے لے کر جولائی 2018ء تک اس منصوبے کے تحت وطن لوٹنے والے غیر ملکیوں کی مجموعی تعداد 43 ہزار 119 بنتی ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ تعداد پاکستانی شہریوں کی تھی۔ ادارے کے مطابق اب تک 17 ہزار سے زائد پاکستانی شہری اپنے ملک واپس لوٹ چکے ہیں اور ان میں سے 3ہزار کے قریب تارکین وطن نے پاکستان واپسی کے بعد اپنے اپنے کاروبار بھی کامیابی سے شروع کر لیے تھے۔ رضاکارانہ وطن لوٹنے والے افغان شہریوں کی تعداد ساڑھے 4 ہزار رہی، جب کہ 4 ہزار سے زائد عراقی شہری بھی بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے اس منصوبے کے تحت وطن واپس لوٹے۔
مہاجر وطن واپس

 

Print Friendly, PDF & Email
حصہ