بھارت میں شہنشاہ اورنگزیب پر تنقید کا اصل ہدف مسلمان ہیں ، امریکی محقق

71

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی تاریخ دان آڈری ٹرشکی کہتی ہیں کہ تمام مغل بادشاہوں میں اورنگزیب عالمگیر سے متعلق دنیا بھر میں غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ تاریخ دانوں جادوناتھ سرکاراورجواہر لعل نہرو نے انہیں اپنی اپنی نظر اور مذہبی پہلو سے دیکھا ہے۔ ’اورنگزیب دی مین اینڈ دی متھ‘ نامی کتاب کی مصنفہ کا کہنا ہیکہ اگر رواداری کے موجودہ معیار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ماضی کے تمام بادشاہ اور حکمران غیر روادار رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اورنگزیب کے بارے میں غلط فہمیاں زیادہ ہیں اور ان کو ہوا دے کر موجودہ دور میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ مصنفہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں اس وقت عدم رواداری عروج پر ہے اور حیدرآباد دکن میں ان کے لیکچر کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ آڈری بتاتی ہیں کہ اس کے برعکس اورنگزیب بادشاہ کے عہد کے برہمن اور جین مصنفین اورنگزیب کی تعریف کرتے ہیں، اور انہوں نے جب فارسی زبان میں ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن اور مہابھارت کو پیش کیا، تو اس کا انتساب اورنگزیب کے نام کیا۔ آڈری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اورنگزیب نے اگر ہولی پر سختی دکھائی تو انہوں نے محرم اور عید پر بھی سختی کا مظاہرہ کیا۔ اگر انہوں نے ایک 2 مندر توڑے تو کئی مندروں کو عطیہ بھی دیا۔ مختلف تاریخ دانوں نے اورنگزیب کو اپنی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ مصنفہ کا کہنا ہے کہ اورنگزیب نے خود کو ایک اچھے مسلمان کی طرح پیش کیا یا پھر ان کی ہمیشہ ایک اچھا مسلمان بننے کی کوشش رہی۔ وہ بہت حد تک صوفی تھے۔ اڈری ٹرشکی نے دوسرے مغل بادشاہوں کے مقابلے اورنگزیب کے امتیاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سارے مغل بادشاہوں سے میں سب سے زیادہ پاکباز تھے۔ وہ حافظ قرآن تھے، اور نماز و عبادات کے سب سے زیادہ پابندی کرنے والے تھے۔
شہنشاہ اورنگزیب

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.