آسام میں اندھیر نگری‘ مسلمان ماں بیٹا اور بہو غیرملکی‘ باپ بھائی بھارتی

38

دسپور (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں ایک کسان کے خاندان کے کئی افراد کو حکام نے بھارتی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ بھارت کی مشرقی ریاست آسام میں چاول کاشت کرنے والے ایک کسان عبدالمنان کے 5 میں سے ایک بچے کو بھارتی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا، جب کہ ان کی بیوی اور بہو تک کوغیرقانونی تارکین وطن قرار دے دیا گیا۔ 50 سالہ عبدالمنان کا کہنا ہے کہ ہم نسلابھارتی ہیں۔ ہمارا خاندان 1930 ء سے اس علاقے میں بسا ہوا ہے۔ مجھے معلوم نہیں غلطی کہاں ہو رہی ہے۔ شناخت کے حوالے سے آسام میں جاری سیاست کے اعتبار سے اب عبدالمنان کی طرح 40لاکھ افراد کو اپنی شہریت ثابت کرنیہے۔ آسام میں غیرقانونی تارکین وطن کی موجودگی اور اس انداز کے سوالات اور کشیدگی ماضی میں خون ریزی کا باعث بن چکے ہیں۔ آسام میں کئی افراد کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش سے بہت بڑی تعداد میں افراد غیرقانونی طور پر ترک وطن کر کے آسام میں رہایش پزیر ہیں اور اس ریاست میں ان کی تعداد مقامی افراد سے بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کے اعلیٰ عہدے دار سموجل بھٹاچاریا کے مطابق بھارت بھارتی شہریوں کے لیے ہے، لیکن آسام غیرقانونی بنگلا دیشی شہریوں کے لیے نہیں۔ آل آسام اسٹوڈنٹ یونین آسام میں غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف اور شہریت کے حوالے سے عوامی جائزے کے اعتبار سے نہایت سرگرم ہے۔ جمعے کے روز 49 لاکھ افراد کو ریاست کی جانب سے شہریت ثابت نہ کر پانے کے بعد اپیل کے فارمز دیے گئے تھے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ عمل بے شمار لوگوں کی گرفتاری اور ملک بدری کا باعث بنا سکتا ہے۔
آسام اندھیر نگری

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.