ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز شکن میزائل کا تجربہ کیا‘ امریکی دعویٰ

29

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں جہازشکن کم فاصلے تک مار کرنے والے ایک میزائل کا تجربہ کیا۔ امریکی عہدے داروں کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں میزائل تجربہ امریکی پابندیوں پر تہران کا جوابی اقدام ہوسکتا ہے۔ امریکی حکام نے کہا کہ بحری فوج کی مشقوں کے دوران اس طرح کے میزائل کا تجربہ غیرمعمولی ہے۔ یہ تجربہ آبنائے ہرمز میں ایرانی اور علاقائی سمندری حدود میں کیا گیا۔ خیال رہے کہ اتوار کے روز ایرانی پاسداران انقلاب نے خلیج عرب میں فوجی مشقیں شروع کی تھیں۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ دشمنوں کی طرف سے حملوں اور ممکنہ جنگ کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ دوسری جانب اسرئیل کی جانب سے فوجی مشقوں کا دفاع کرتے ہوئے امریکی فوج کے سربراہ جنرل جوزف فوٹیل نے کہا کہ اسرائیل ماضی میں بھی اس طرح کی مشقیں کرتا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ مشقیں خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیوں کہ ایران ایک طرف امریکا کی سخت پابندیوں کا سامان کررہا ہے اور دوسری طرف وہ آبنائے ہرمز کوبند کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا نے 2015ء سے قبل ایران پر عائد کردہ پابندیاں ایک بار بھر بحال کردی ہیں، جس پر ایرانی سیخ پا ہے۔ سابق امریکی صدر اوباما کے دور میں ایران اور 6عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے متنازع جوہری پروگرام پرایک سمجھوتاطے پایا تھا۔ اس سمجھوتے کے بعد امریکا نے ایران پر عائد کی گئی پابندیاں بتدریج کم کردی تھیں، لیکن موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے معاہدہ ختم کرتے ہوئے سابقہ پابندیاں بحال کرنا شروع کردی ہیں۔
امریکی دعویٰ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.