گلگت،بلوچستان :چینی انجنئیرز کی بس اور پولیس پر حملے ،3 اہلکار شہید 7 زخمی 

105
دالبندین میں خود کش حملے کے بعد سیکورٹی اہلکار جائے وقوع کا جائزہ لے رہے ہیں،دوسری جانب گلگت بلتستان میں فائرنگ سے شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے 
دالبندین میں خود کش حملے کے بعد سیکورٹی اہلکار جائے وقوع کا جائزہ لے رہے ہیں،دوسری جانب گلگت بلتستان میں فائرنگ سے شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے 

کوئٹہ/پشاور(نمائندہ جسارت+مانیٹرنگ ڈیسک) گلگت بلتستان اور بلوچستان میں چینی انجینئرز کی بس اور پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملوں کے نتیجے میں 3اہلکار شہید، 4اہلکاروں سمیت 8افراد زخمی ہوگئے ۔ تفصیلات کے مطابق ہفتے کی علی الصباح دہشت گردوں نے صوبائی ہیڈ کوارٹرز سے 45کلو میٹر دو برف پوش پہاڑی علاقے کارگاہ نالے میں پولیس چوکی پر جدید اور خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کردی جب زیادہ تر اہلکار سو رہے تھے۔ذرائع کے مطابق ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے بھرپور مزاحمت کی اور دہشت گردوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباََ آدھے گھنٹے تک جاری رہا۔فائرنگ کے تبادلے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور 2اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ ایک دہشت گرد بھی مارا گیا۔پولیس کی فائرنگ سے ایک حملہ آور زخمی بھی ہوا جسے اس کے ساتھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔صوبائی حکومت کے ترجمان نے 3پولیس اہلکاروں کے شہید ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملے کے بعد گلگت بلتستان کے طول و عرض میں سیکورٹی سخت کردی گئی ہے اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ایس ایس پی تنویر احمد کے مطابق مارے گئے دہشت گرد کی شناخت خلیل کے نام سے ہوئی جو پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھا جبکہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے ملحق گلگت بلتستان کے علاقے دیامر اور چلاس میں دہشت گردوں نے ایک ہی رات میں 12 اسکولوں کو بارودی مواد سے دھماکا کرکے اور آگ لگا کر نقصان پہنچایا تھا۔اس واقعے کے ایک روز بعد دیامر کے علاقے تانگیر میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک پولیس اہلکار کو قتل کردیا تھاا ور اہلکار کے جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے سیشن جج کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی تھی۔حکومت نے واقعات میں ملوث ہونے کے شبہے میں اب تک 32 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے مگر ابھی تک مطلوب 15 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔3 اگست کو خواتین کے اسکولوں پر ہونے والے حملوں کے بعد سے گلگت بلتستان میں حالات کشیدہ ہیں اور علاقے میں سخت سیکورٹی نافذ ہے۔دوسری جانب بلوچستان کے ضلع چاغی میں سیندک منصوبے کے ملازمین کی بس پر مبینہ خودکش حملے میں 3 چینی انجینئرزسمیت 6 افراد زخمی ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق ڈڈر کے مقام پر گاڑی میں سوار مبینہ خود کش حملہ آور نے سیندک منصوبے کے ملازمین کی بس کے قریب اس وقت دھماکا کر دیا جب وہ انہیں لے کر سیندک سے دالبندین ائر پورٹ جا رہی تھی۔ دھماکے سے بس بری طرح متاثر ہوئی جبکہ اس میں سوار 3 چینی انجینئرز ، سیکورٹی پر مامور 2 ایف سی اہلکار اور بس کا ڈرائیور زخمی ہو گئے ۔ اطلاع ملنے پر ایف سی اور لیویز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا۔جہاں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد زخمی چینی شہریوں کو کراچی جبکہ ایف سی اہلکاروں اور ڈرائیور کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ۔فورسز نے دھماکے کے بعد جائے وقوع کو مکمل طور پر سیل کر دیا اور شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.