حکومت سازی کیلیے جوڑ توڑ جاری،پی پی اور تحریک انصاف کے اکثریت حاصل کرنے کے دعوے 

148

اسلام آباد/کراچی(خبر ایجنسیاں+اسٹاف رپورٹر) وفاق میں حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی جانب اکثریت حاصل کرنے کے دعوے کیے جارہے ہیں، پی پی رہنما مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں اور پی ٹی آئی میں شامل آزاد امیدواروں سے رابطے کیے ہیں اور انہوں نے اسپیکر کے انتخاب کے لیے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے ،دوسری جانب پی ٹی آئی کے نامزد اسپیکر کے امیدار اسد قیصر نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں 180سے زاید ووٹ مل سکتے ہیں جبکہ ن لیگ اور پی پی کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں حکمت سازی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور حکمت عملی طے کی گئی ہے ۔ تفصیلات کے ہفتے کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول زرداری کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے بتایا کہ متحدہ اپوزیشن الائنس نے اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے خورشید شاہ کے نام پر اتفاق کیا ہے ،امید ہے تمام اپوزیشن جماعتیں خورشید شاہ کو سپورٹ کریں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے والے آزا دامید واروں سے پیپلزپارٹی نے رابطہ کر کے اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے ووٹ مانگا ہے جس کے لیے انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلاول کی سربراہی میں الیکشن 2018ء میں مبینہ دھاندلی پر 13اگست کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کی حکمت عملی تیار کر لی ہے ۔ دوسری جانب بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے نامزد اسپیکر اسد قیصر نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ انتخاب کے سلسلے میں انہیں 180سے زاید ووٹ مل سکتے ہیں، خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے معاملے پر پرویز خٹک ،محمود خان ،عاطف خان اور اسد قیصر میں کوئی اختلافات نہیں ہے ۔ متوقع اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اعلان کیا کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے قومی اسمبلی کو میرٹ کے مطابق حکومت اپوزیشن کے ساتھ مشترکہ طور پر مل کر چلائیں گے ۔ اپوزیشن کا تعاون درکار رہے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو 180ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے ۔ ادھرمسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف سے ان کی رہائش گاہ 96ایچ ماڈل ٹاؤن میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید یوسف رضا گیلانی اور سید خورشید شاہ نے اہم ملاقات کی ۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، خواجہ سعد رفیق اور رانا تنویر حسین بھی موجود تھے ۔ملاقات میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور وفاق او رپنجاب میں حکومت سازی کے مراحل کے حوالے سے جاری امور بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ حالیہ انتخابات میں تاریخ کی بد ترین دھاندلی ہوئی ہے اور اس کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور آوازبلند کی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں قومی اسمبلی میں بھرپور کردار ادا کرنے اور خصوصاً آئندہ کے اجلاس کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی طے کی گئی جس پر دیگر جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ اس موقع پر طے پایا کہ اجلاس میں اراکین کی حاضری کو یقینی بنایا جائے گا اور اس کے لیے مختلف گروپس بنانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اس موقع پر مستقبل میں بھی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں وزیرا عظم ا سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کر مراحل کے بارے میں بھی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ پنجاب کے حوالے سے بھی معاملات زیر بحث آئے۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف نے عمران اسماعیل کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ عمران اسماعیل بحیثیت گورنر تقرر کی منظوری پی ٹی آئی کے بنی گالہ میں چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس میں دی گئی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز تحریک انصاف نے چودھری سرور کو گورنر پنجاب بنانے کی منظوری دی تھی جبکہ پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ایک مرتبہ پھر مراد علی شاہ کو صوبہ سندھ میں وزیراعلیٰ اور آغا سراج درانی کو اسپیکر جبکہ ریحانہ لغاری کو ڈپٹی اسپیکر نامزد کردیا۔صوبائی دارالحکومت میں قائم پیپلز پارٹی کے مرکزی دفتر بلاول ہاؤس میں چیئرمین پی پی پی بلاول کی قیادت میں پارٹی کا پارلیمانی اجلاس منعقد ہوا جس میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں سمیت پارٹی ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہونے والے اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔سندھ کے سابق وزیرناصر حسین شاہ نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے نامزدگیوں کی تصدیق کی اور کہا کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ