نو منتخب رکن اسمبلی کی شہریت کا معاملہ

176

جلال نُورزئی

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی ( ایچ ڈی پی ) کے سیکرٹری جنرل احمد علی کوہزاد 25جولائی کے عام انتخابات میں حلقہ پی بی 26 سے کامیاب ہوئے ہیں۔ کامیابی کے ساتھ ان کی پاکستانی شہریت کا معاملہ متوازی طور پر اُٹھا ہے۔ نادرا نے احمد علی کوہزاد کا قومی شناختی کارڈ نمبر 5440029402305 منسوخ کردیا ہے۔ نادرا کے مطابق احمد علی کوہزاد غیرملکی (افغان شہری) ہیں۔ نادرا نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا ہے کہ احمد علی کوہزاد کے پاس سال 1997ء سے قبل پاکستانی شہریت کا کوئی ریکارڈ یا دستاویزات موجود نہیں۔ جس نے عبدالحمید ولد حیدر علی نامی شخص کے گھرانے یعنی ریکارڈ سے جعلی تعلق جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ عبدالحمید کو بڑے بھائی کے طور پر خاندان کا سربراہ بنایا ہے۔ اور اس شخص کے ریکارڈ میں اپنے اندراج کی خاطر احمد علی کوہزاد نے جو حلف نامہ جمع کرایا ہے اس میں والدین کی وفات 1977ء سے قبل بتائی ہے اور حلف نامے میں اپنی تاریخ پیدائش 16فروری 1979ء درج کی ہے۔ یعنی پیدائش والدین کی وفات کے دو سال بعد ہوئی ہے۔ نیز نادرا یہ بھی قرار دے چکا ہے کہ احمد علی کوہزاد نے جس شخص کو عبدالحمید ظاہر کرکے اس کا مینول شناختی کارڈ نمبر بیان حلفی پر دیا ہے وہ شخص عبدالحمید نہیں بلکہ عبدالمجید تھا۔ اور اس کا شناختی کارڈ بھی اس وجہ سے بلاک کیا جاچکا ہے کہ اس کا پاکستان میں کسی سے کوئی خونی رشتہ ریکارڈ پر دستیاب نہیں۔ احمد علی کوہزاد نے انتخابات میں حصہ لینے کی خاطر بلوچستان ہائی کورٹ سے انتخابات سے قبل حکم امتناعی لیا تھا۔ 6اگست کو بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ نادرا کے لا آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ احمد علی کوہزاد کا برتھ سرٹیفکیٹ 29جون 2004ء کو بنایا گیا ہے۔ چناں چہ عدالت نے 7 اگست کی سماعت میں احمد علی کوہزاد کی پاکستانی شہریت کی بحالی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر نمٹادی۔ چوں کہ معاملہ وزارت داخلہ میں زیر التواء ہے لہٰذا عدالت کوئی فیصلہ سنا کر زیر التواء معاملے پر اثرا نداز نہیں ہونا چاہتی۔ اور ہدایت کی کہ شہریت کی
بحالی سے متعلق معاملہ وزارت داخلہ جاکر نمٹائے۔
احمد علی کوہزاد 2005ء سے 2009ء تک یونین کونسل شادیزئی ہزارہ ٹاؤن کے ناظم بھی رہے اور 2013ء کے عام انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔ اس بات میں شبہ نہیں کہ کوئٹہ یا صوبے کے دیگر علاقوں میں آباد ہزارہ برادری انگریز دور میں آکر آباد ہوگئی تھی۔ یہ لوگ بلوچستان میں ریلوے لائن بچھانے میں بطور مزدور شامل تھے۔ یعنی انگریز دور میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں مزدور کی حیثیت سے شامل تھے۔ اس غرض کے لیے ہزارہ لوگوں پر مشتمل انگریز فوج کا ایک دستہ ’’ہزارہ پانیئر‘‘ کے نام سے بھی قائم تھا۔ 1958ء میں پاکستان کی مسلح افواج کا سربراہ بننے والے جنرل موسیٰ مرحوم ہزارہ تھے۔ وہ انگریز فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے تھے۔ جنرل موسیٰ ستمبر 1966 سے مارچ 1969 تک مغربی پاکستان کے گورنر تعینات تھے۔ طویل عرصہ گورنر بلوچستان بھی رہے۔ جنرل موسیٰ کا پیدائشی تعلق افغانستان سے تھا۔ چناں چہ اس عرصے میں ہزارہ لوگ کوئٹہ کی مشرقی پہاڑی کے دامن میں مری آباد کے علاقے میں آباد ہوگئے۔ یوں ایک بڑی آبادی افغانستان سے نقل مکانی کرکے یہاں مقیم ہوئی۔ قدیم باشندے ہیں، اس لحاظ سے پاکستانی ہیں۔ ان کی فوج، پولیس، کھیل اور دوسرے شعبوں میں خدمات ہیں۔ نوے کی دہائی سے دہشت گردی کا شکار ہیں۔ سیکڑوں مرد، عورتیں اور بچے دہشت گردوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان پر اب بھی عرصہ حیات تنگ ہے۔ محنتی اور جفاکش لوگ ہیں۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ1978ء کے افغان انقلاب کے بعد ہزارہ لوگ بھی افغانستان سے ہجرت کرکے کوئٹہ میں سکونت پزیر ہوگئے تھے۔ آمد ورفت کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے پاکستانی دستاویزات حاصل کررکھی ہیں۔ اس بنیاد پر فوج، پولیس اور دیگر محکموں میں ملازمتیں حاصل کر رکھی ہیں۔ یہاں تک کہ کھیلوں کے مختلف مقابلوں میں دوسرے ملکوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔
افغان انقلاب کے بعد پشتون افغان باشندے بھی ایک بڑی تعداد میں بلوچستان کے پشتون اور دوسرے اضلاع میں مقیم ہوئے۔ پہلے ان کو مہاجر کیمپوں میں رکھا گیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ آبادیوں میں مدغم ہوگئے اور پاکستانی دستاویزات تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ گویا ہزارہ کی طرح پشتون افغان باشندے بھی ملازمتیں حاصل کرچکے ہیں۔ سیاست میں حصہ لے رہے ہیں بڑے بڑے کاروبار کے مالک بن گئے ہیں۔ غرض کوئٹہ میں افغان ہزارہ لوگ ایک بڑی تعداد میں آباد ہوچکے ہیں۔ ان کی آمد کا سلسلہ پشتونوں کی طرح روزانہ کی بنیاد پر ہورہا ہے۔ زمین کی تنگی کی وجہ سے ہزارہ عوام نے کوئٹہ کے مغربی پہاڑ کے دامن میں ہزارہ ٹاؤن کے نام سے آبادی قائم کرلی۔ اسی کی دہائی میں اس علاقے میں منتقل ہونا شروع ہوگئے۔ مقامی افراد اگرچہ آباد ہیں تاہم بڑی آبادی افغانستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی بھی ہے۔ ہزارہ افغان اور پشتون افغان باشندوں کو پاکستانی شہریت کے حصول میں اس خاطر آسانی ہے کہ یہاں کے پشتون قبائل کی طرح ہزارہ بھی مقامی ڈکلیرڈ ہیں۔ وگرنہ افغانستان سے تاجک، ازبک، مغل اور ترکمن وغیرہ بھی ہجرت کر چکے ہیں لیکن وہ ریکارڈ میں افغان مہاجر ہی ہیں۔
ان انتخابات میں ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے دو امیدوار کامیاب ہوئے۔ حلقہ پی بی 27سے پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ کو فتح ملی۔ یہ کامیابی اس جماعت کو پہلی بار اور وہ بھی طویل جدوجہد کے بعد ملی ہے۔ اچھی جماعت ہے، نظم و ضبط، اچھی رائے اور مؤقف کی حامل ہے۔ اس پارٹی کی نظریاتی شناخت ایک لبرل جماعت کے طور پر ہے۔ خصوصاً مذہبی انتہاء پسندی کے حوالے سے اہل تشیع کی جماعتوں کی بھی سخت ناقد ہے۔ بلکہ ان کے سامنے ایک واضح مؤقف کے ساتھ میدان سیاست میں ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں ان کے کئی کونسلر کامیاب ہوچکے ہیں۔ غیرملکی چاہے پشتون ہو، بلوچ ہو یا ہزارہ کو پاکستانی دستاویزات کے حصول تک رسائی نہیں دینی چاہیے۔ یہ ذمے داری ریاست اور اس کے اداروں کی ہے کہ وہ آنکھیں کھلی رکھیں۔ یہ ادارے بدعنوانی کے ذریعے اپنی ذات اور خاندان کو فائدہ پہنچانے کے بجائے قومی مفاد کو مدنظر رکھیں۔ 2018ء کے ان انتخابات میں گوادر سے شکایات آئی کہ ایرانی بلوچ باشندوں جنہوں نے جعلی طریقے سے پاکستانی شہریت بھی حاصل کر رکھی ہے نے بڑی تعداد میں ووٹ کاسٹ کیے ہیں۔ ایرانی سرحد سے ملحق بلوچ اضلاع میں دوہری شہریت عام ہے۔ حالیہ عام انتخابات میں ان اضلاع سے منتخب ہونے والے اور حصہ لینے والے امیدواروں پر دوہری شہریت کے الزامات ہیں۔ 25 جولائی کے انتخابات کے روز ایک اہم سیکورٹی ذمے دار نے راقم کو بتایا کہ پاک افغان سرحد چمن کے مقام پر باب دوستی اس مقصد کے تحت بند کیا گیا تاکہ افغانستان کی طرف سے وہ لوگ جن کے پاس پاکستانی دستاویزات ہیں آکر ووٹ کا استعمال نہ کریں۔ بہر کیف ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی احمد علی کوہزاد کی پاکستانی شہریت کے حوالے سے پُراعتماد ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ