الیکشن یا سلیکشن ،کامیابی بھی سراب 

241

نعمان اعوان

انتخابات دو ہزار اٹھارہ ایک نئی تاریخ رقم کر گئے، انتخابات سے قبل ہی یہ طے کر لیا گیا تھا کہ کون سی جماعت جیتے گی بلکہ جتوائی جائے گی اور اس کے لیے انتظامات انتہائی منظم انداز میں کیے گئے۔ سیاسی جماعتوں کی جوش وخروش سے عاری انتخابی مہم، میڈیا کا مخصوص جماعتوں کا بائیکاٹ اور ان کے خلاف پروپیگنڈا، جس کو میڈیا کی زبان میں اینگلنگ کہا جاتا ہے۔ بڑے پیمانے پر وفاداریوں کی تبدیلیاں اور نئی جماعتوں کا جنم جنہوں نے بعد میں انتخابات میں کامیابی بھی حاصل کی، اس صورت حال نے الیکشن سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ہوا کس رخ پر چلنے والی ہے۔
انتخابات کی شفافیت کا یہ عالم تھا کہ سوائے ایک جماعت کے تمام سیاسی پارٹیوں اور ملک کے معروف صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے ان پر انگلی اٹھا دی۔ کراچی کے حلقے این اے 244 کے بیلٹ پیرز قیوم آبادکی کچرا کنڈی سے ملے، خیبر پختون خوا کے حلقہ پی کے 72میں بیلٹ پیپر کچرا کنڈی سے ملے، کراچی کے حلقہ این اے 247 میں گزری کے ایک اسکول کو پولنگ اسٹیشن بنایا گیا، چھٹیوں کے بعد جب اسکول کھلا تو اس کی ایک کلاس کی میز میں چھپائے گئے ووٹ ملے، چمن پھاٹک سے این اے کی پوری بک غائب ہوگئی۔ یہ تو وہ چند مثالیں ہیں جو میڈیا پر رپورٹ ہوئیں یا سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئیں جن کی تحقیقات کے لیے سوائے کمیٹی بنانے کے یقیناًکچھ نہیں ہونا۔ اس کی مثال ہم 2013 کے عام انتخابات کی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے قائم ہونے والے کمیشن کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔
25جولائی کی صبح 8 سے شام 6بجے تک پولنگ انتہائی پر امن رہی اور ملک بھر میں کسی ایک یا دو حلقوں میں بدنظمی کے سوا کسی جگہ سے کوئی بڑی خبر رپورٹ نہیں ہوئی۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوا تو وہ صورت حال کھل کر سامنے آگئی ۔
The People who cast the vote decide nothing The People who count the vote decide every thing.Joseph Stalin
مختلف مقامات پر پولنگ ایجنٹس کو گنتی سے قبل ہی پولنگ اسٹیشنوں سے باہر نکالنے کی شکایات آنے لگیں، کہیں گنتی کے دوران بتی گل ہوگئی، تو کہیں نتیجہ الیکشن کمیشن کے فارم 45پر نہیں دیا گیا، بعض مقامات پر فوجی اہلکار ووٹوں کی گنتی کرتے رہے، بلوچستان کے حلقے میں تو پی ٹی آئی امیدوار کی جیت پر فوجی اہلکار نے کھلے عام ہوائی فائرنگ کی، ہو سکتا ہے وہ نظریاتی طور پر اس امیدوار کا حامی ہو۔ کراچی کے ایک دوست نے بتایا کہ ان کے گھر کے سامنے پولنگ اسٹیشن میں مشکل سے 3ہزار ووٹ ڈالے گئے لیکن نتیجہ نو گھنٹے بعد بھی نہیں دیا گیا۔ پرائیویٹ چینلز رات گیارہ بجے تک پورے ملک سے مستقل نتائج دیتے رہے اور اس کے بعد مخصوص علاقوں اور حلقوں کے نتائج آنا رک گئے اور اگلے تین روز تک نتائج آتے رہے جو اتنے حیران کن تھے کہ ہارنے والوں کو تو یقین نہیں آرہا تھا لیکن جیتنے والے بھی اپنی انہونی جیت پر ششدر رہ گئے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ الیکشن کمیشن رات بھر ایک بھی نتیجہ نہ دے سکا اور رات تین یا چار بجے اچانک ٹی وی پر نمودار ہو کر انتخابات کا سب سے بڑا لطیفہ سنایا کہ انہیں پہلا غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ موصول ہوگیا، چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ ان کا نتائج موصول کرنے والا نظام آر ٹی ایس خراب ہو گیا ہے جو آدھے گھنٹے میں ٹھیک کر لیا جائے گا لیکن یہ نظام بھی اگلے 24گھنٹے تک ٹھیک نہ ہوسکا۔
دوسری جانب ملک کے معروف صحافی اور تجزیہ کاروں نے بھی الیکشن کے غیر منصفانہ اور جانبدارانہ ہونے پر تنقید کی۔ ان صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو ان کے اپنے ہی نیوز چینلوں پر تو نہیں بولنے دیا گیا لیکن انہوں نے دوسرے چینلوں اور اخبارات میں لکھ کر پول کھول دیا۔ معروف صحافی سلیم صافی نے اپنے کالم میں لکھا کہ حالیہ انتخابی مہم کے دوران میں نے کسی قومی یا صوبائی حلقے کی جانکاری لی اور نہ کسی علاقے کا دورہ کیا۔ ایک تو نتیجہ پہلے سے معلوم تھا اور دوسرا ضمیر کے مطابق تجزیہ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ نوے فی صد کام پہلے سے ہوچکا تھا اور بطور صحافی ہمیں اندازہ تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے۔ الیکشن ٹرانسمیشن کے دوران ملک بھر سے یہ شکایات موصول ہونی شروع ہوئیں کہ گنتی کے عمل کے دوران پولنگ ایجنٹوں کو نکال کر ان کی عدم موجودگی میں گنتی کی جارہی ہے اور فارم 45پر پولنگ ایجنٹوں کے دستخطوں کے ساتھ نتائج دینے کے بجائے سادہ کاغذوں پر نتائج دیے جارہے ہیں۔ الیکشن کی بے ضابطگیوں پر جب بات کرنے کی کوشش کی تو اس پر اتنا دباؤ آیا کہ ہم جیسے لوگوں کو پینل سے اٹھنا پڑا۔ ایکسپریس کے اینکر فہد حسین نے اینکر عبدالمالک کے پروگرام میں جو بات کی اس نے مزید واضح کر دیا کہ کس طرح صحافیوں کی زبان بندی کی گئی، فہد کا کہنا تھا کہ زخم اندر ہیں جو بات گھر کے کمرے میں ہم چائے پر کر سکتے ہیں وہ ٹی وی پر بیٹھ کر نہیں کر سکتے ہم وہ بات کرنا آن ائر افورڈ نہیں کر سکتے اور یہ سب جانتے ہیں۔ جس پر عبدالمالک نے بھی نجانے کس رو میں کہہ گئے کہ فوج نے تحریک لبیک کو الیکشن میں سپورٹ کیا۔ تحریک لبیک نے موجودہ انتخابات میں ہر حلقے سے دوسرے سے چوتھے نمبر پر ووٹ لیے اور کراچی کے دو حلقے پی ایس ایک سو سترہ اور پی ایس ایک سو سات سے کامیابی حاصل کی۔ صحافی وسعت اللہ خان نے سوشل میڈیا پر بڑا دلچسپ اسٹیٹس اپ ڈیٹ کیا اور لکھا کہ آج کے الیکشن ارینج میرج کی طرح ہیں جو گھر کے بڑوں نے پہلے ہی طے کر لیے ہیں۔
ملک بھر میں بڑے بڑے سیاسی نام ہار گئے اور جن حلقوں سے ان کو شکست ہوئی وہاں سے ان کی ہار کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، جس کی مثال ڈی آئی خان سے جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمن، دیر سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق، امیر مقام، اکرم خان درانی، چیئرمیں پی پی بلاول زرداری لیاری سے، سعد رفیق، شاہد خاقان عباسی، اسفند یار ولی، آفتاب شیر پاؤ، محمود خان اچکزئی، غلام احمد بلور جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک لبیک جو انتخابات سے چند ماہ پہلے معرض وجود میں لائی گئیں نے حیران کن کامیابی حاصل کی۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ انتخابات میں الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت پر تو انگلیاں اٹھتی ہی رہی ہیں لیکن اس بار عاقبت نااندیشوں نے ملک کے انتہائی باوقار ادارے فوج پر بھی شدید تنقید کی اور بعض مقامات پر الیکشن ڈیوٹی سے واپس جانے والے اہلکاروں کی گاڑیوں کے سامنے انتہائی شرمناک نعرے بازی کی گئی۔ دھاندلی کے خلاف سیاسی رہنماؤں نے تو احتجاج کیا لیکن بعض مقامات پر عوام بھی سراپا احتجاج رہے جس میں مانسہرہ کا احتجاج انتہائی شدید تھا عوام دھاندلی کے خلاف دو روز تک سڑکوں پر رہے۔ احتجاج ختم کرانے کے لیے سیکورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی جس کی زد میں آکر دو افراد بھی جاں بحق ہوئے لیکن میڈیا نے دباؤ کے تحت احتجاج دکھایا نہ ہی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی خبر دی۔
انتخابات ہو گئے نتائج آگئے اور پی ٹی آئی حکومت بنانے کی تیاری میں ہے۔ لیکن بیس ارب روپے قوم کے ان انتخابات میں جھونکنے اور ان کو متنازع بنانا بڑی بدقسمتی ہے، بقول امیر جماعت اسلامی انتخابات میں جیتنے والوں کو ابھی تک اپنی کامیابی سراب دکھائی دے رہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ