آر ٹی ایس کام کر رہا تھا، نتائیج بھیجنے سے روکا گیا ، پریذائیڈنگ افسران

1069

کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) بی بی سی نے 25 جولائی کے عام انتخابات میں 2پریزائیڈنگ افسران کی رائے لی تو انہوں نے بتایا کہ اس روز آر ٹی ایس بخوبی کام کر رہا تھاتاہم نتائج بھیجنے سے روکا گیا ۔اسکول ٹیچر محمد رمضان (فرضی نام) کوراولپنڈی میں قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں پریزائیڈنگ افسر تعینات کیا گیا تھا۔ان کے بقول ’مجھے24 جولائی کو رات 10بجے فون آیا جس پر کوئی نمبر تو نہیں دکھائی دے رہا تھا صرف اس پر ’ان نون‘ (نامعلوم) لکھا ہوا تھا۔ فون کرنے والے نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن سے بات کر رہا ہے،پولنگ چونکہ صبح 8بجے شروع ہونی ہے اس لیے وہ کوشش کریں کہ 2 ڈھائی گھنٹے پہلے پہنچ جائیں ۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے میں 2 گھنٹے پہلے اپنے پولنگ اسٹیشن پر پہنچ گیا۔ پہلے تو وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے وقت سے پہلے اندر جانے کی اجازت نہیں دی لیکن جب اندر سے سیکورٹی اہلکار آئے تو وہ مجھے اندر لے گئے۔پولنگ اسٹیشن میں سی سی ٹی وی کیمروں کا رخ آسمان کی طرف تھا جبکہ ایک دو کیمروں کے اوپر کپڑا ڈالا گیا تھا۔ یہ وہ کیمرے تھے جن کا رخ اس جانب تھا جہاں پولنگ اسٹاف اور پولنگ ایجنٹوں نے بیٹھنا تھا۔جب میں نے ان کیمروں پر ڈالے گئے کپڑوں کے بارے میں پوچھا تو سیکورٹی اہلکار نے اس بارے میں لاعملی کا اظہار کیا۔ جب میں نے ان کیمروں کی تصویر لینے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے سختی سے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا کہ بس اپنے کام سے کام رکھو۔پولنگ کے عمل کو 3گھنٹے گزرے تو سیکورٹی اہلکار میرے پاس آیا اور رازداری کے انداز میں پوچھا کہ لوگوں کا کس امیدوار کو ووٹ ڈالنے کا رجحان زیادہ ہے۔میں نے اپنے اندازے کے مطابق اسے بتایا تو وہ کچھ دیر کے لیے وہاں سے چلا گیا اور موبائل پر کسی کو اس بارے میں اطلاع دے کر واپس آ گیا۔ اس نے یہ معاملہ کئی باردہرایا اور میری معلومات وہ کسی اور تک پہنچا دیتا تھا۔جب ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوا تو پولنگ ایجنٹوں کو اس ڈبے کے قریب نہیں آنے دیا گیا جس میں ووٹ ڈالے گئے تھے بلکہ انہیں 10فٹ دور بیٹھنے کا کہا گیا۔اس دوران ایک پولنگ ایجنٹ نے اعتراض کیا تو سیکورٹی اہلکار نے اپنے افسر کو فون کیا اورکچھ دیر کے بعد 5سیکورٹی اہلکار وہاں آئے اور پولنگ ایجنٹوں کو سخت الفاظ میں کہا گیا کہ جس طرح کہا جاتا ہے اسی طرح عمل کرو ورنہ تمہاریلیے ٹھیک نہیں ہو گا۔کچھ دیر کے لیے پولنگ ایجنٹوں کو کمرے سے نکال دیا گیا اور ڈبوں کو ایک کمرے میں تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے رکھ دیا گیا۔ اس دوران سیکورٹی کی 2 گاڑیاں پولنگ اسٹیشن کے اندر آئی تھیں۔ یہ نہیں معلوم تھا کہ کتنے ڈبے کمرے کے اندر رکھے گئے اور جب نکالے گئے تو کتنے تھے ۔ کچھ دیر کے بعد پولنگ ایجنٹوں کو کمرے میں آنے کی اجازت دی گئی۔ پولنگ ایجنٹوں کو دور سے ہی ووٹ دکھائے گئے۔ اتنے فاصلے سے صرف یہ تو نظر آتا تھا کہ کس انتخابی نشان پر مہر لگی ہوئی ہے لیکن اگر اس کی سیاہی کسی دوسرے نشان پر چلی گئی ہو تو یہ نظر آنا مشکل تھا، سیکورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں کسی پولنگ ایجنٹ نے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کی۔جب ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی اور میں فارم 45 پر کر کے نتیجہ تیار کرنے لگا تو سیکورٹی اہلکار میرے پاس آیا اور کہا کہ ابھی یہ تیار نہ کریں جب کہا جائے گا تو پھر تیار کریں۔ اس دوران سیکورٹی اہلکار نے اپنے کیمرے سے رزلٹ کی تصویر کھینچی اور تھوڑی دیر کے لیے وہ وہاں سے چلا گیا۔ میں نے غصے میں آ کر ایک سادہ کاغذ پر نتائج تیار کر کے پولنگ ایجنٹوں کو دینے کی کوشش کی تو مجھے روک دیا گیا۔ اس پریزائیڈنگ افسر کے بقول اس کا آر ٹی ایس نظام ٹھیک تھا لیکن اسے فوری نتیجہ بھیجنے کی اجازت نہیں تھی۔محمد رمضان کے مطابق انتخابات کے 3روز گزر جانے کے باوجود اسے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے اور اس کی واضح مثال یہ تھی کہ اس نے اپنی گلی میں ایسے افراد کو بھی دیکھا تھا جو اس کے محلے کے نہیں تھے۔بی بی سی کے مطابق اسی طرح ایک سرکاری اسکول کی استانی ابیہا فاروقی نے اپنے سوشل میڈیا کے ایک اکاؤنٹ پر اس روز کی داستان تحریر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا آرٹی ایس نظام بھی درست کام کر رہا تھا۔کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے آر ٹی ایس نظام کی خرابی سے متعلق اعتراضات کے بعد الیکشن کمیشن نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت کو دعوت دی تھی۔ اس کے لیے اس نے کیبنٹ ڈویژن کو ایک ماہ کا وقت دیا تھا تاہم اب تک نہ تو تحقیقات کا بظاہر آغاز ہوا ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔واضح رہے کہ بہت سے فوجی افسروں کو پولنگ کے دوران مجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے تھے۔ نگراں وزیر قانون علی ظفر سینیٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کے مطالبے کے باوجود آج تک ایسے فوجی افسران کی فہرست ایوان میں پیش نہیں کر سکے جنہیں مجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے تھے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے آیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ