چین میں جامع مسجد شہید کرنے کا اعلان ، مسلمانوں کا شدید احتجاج

494
بیجنگ: چین کے صوبے ننگشیا میں جامع مسجد کے انہدام کے فیصلے کے خلاف ہزاروں مسلمان مسجد میں جمع ہیں
بیجنگ: چین کے صوبے ننگشیا میں جامع مسجد کے انہدام کے فیصلے کے خلاف ہزاروں مسلمان مسجد میں جمع ہیں

بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک )چینی حکام نے مغربی صوبے میں ایک جامع مسجد کو شہیدکرنے کا اعلان کیا ہے جس پرمسلمانوں نے شدید احتجاج شروع کردیا ۔ مقامی مسلمانوں اور انتظامیہ کے درمیان سخت کشیدگی جاری ہے۔بی بی سی کے مطابق مقامی انتظامیہ نے نوٹس جاری کیا کہ ننگشیا صوبے میں وائڑو نامی جامع مسجد کو زبردستی شہید کر دیا جائے گا کیونکہ اس کی تعمیر سے قبل ضروری اجازت نامے حاصل نہیں کیے گئے تھے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ نوٹس مسلم آبادی میں تقسیم کیاگیاہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نیوز پیپر کے مطابق لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ انتظامیہ نے یہ قدم مسجد کی تعمیر کے دوران
کیوں نہیں اٹھایا حالانکہ اس مسجد کو تیار ہونے میں 2سال کا عرصہ لگاہے۔اس مسجد کے کئی بلند مینار اور گنبد ہیں اور اسے مشرقِ وسطیٰ کے طرزِ تعمیر کے تحت تعمیر کیا گیا ہے۔جمعرات کواس مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرہ ہوا جو اگلے دن تک چلا۔ چینی سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی تصاویر میں مسجد کے باہر بڑی تعداد میں مظاہرین کو دیکھا جا سکتا ہے۔بی بی سی کے مطابق مسلمانوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ مسجد کو شہیدنہیں کرنے دیا جائے گا،انہوں نے خبردارکیا ہے کہ ہم حکومت کو مسجد کو ہاتھ بھی لگانے نہیں دیں گے۔یہ واضح نہیں ہے کہ مسجد کو شہیدکرنے کا منصوبہ ابھی قائم ہے یا مظاہرین اور حکام کے درمیان کوئی معاہدہ ہو گیا ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا پر اس تنازعے کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی گئی۔واضح رہے کہ چین میں مسلمانوں کی کل آبادی 2 کروڑ 30 لاکھ کے لگ بھگ ہے اور وہ ننگشیا صوبے میں کئی صدیوں سے مقیم ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ سرکاری طور پر مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ