تبدیلی کا ’’ٹرانزٹ اسٹیشن‘‘ اور اسٹیشن ماسٹر عمران خان

137

ملک میں عام انتخابات کے نتیجے پاکستان تحریک انصاف کی واضح برتری کے بعد سے کچھ لوگ خوش فہمی کا شکار ہیں کہ تبدیلی آچکی ہے حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی کامیابی کے ذریعے صرف تبدیلی کی شروعات ہوئی ہیں۔ ابھی یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اس کامیابی کی وجہ سے تخت اقتدار پر بیٹھ پائیں گے یا نہیں۔ اگر انہوں نے خوش قسمتی سے ملک کا اقتدار سنبھال بھی لیا تو یہ بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ ان کی حکومت کتنے عرصے چلے گی۔ اس لیے فوری طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کی عام انتخابات میں کامیابی ملک میں مثبت تبدیلی کے لیے صرف ایک ’’ٹرانزٹ اسٹیشن‘‘ ہوسکتی ہے یا یوں سمجھ لیں کہ ملک کو جمہوری طور پر کامیاب منزل کی طرف لے جانے کے لیے یہ پہلا بڑا امتحان ہوگا جو پی ٹی آئی کے ذریعے لیا جارہا ہے۔ اس امتحان میں پی ٹی آئی کو بیٹھنے کا موقع بھی اس لیے دیا جارہا ہے کہ باقی سارے طرم خان سیاست دانوں اور ان کی جماعتوں کو آزمانے والے اچھی طرح آزما چکے۔ یہ بھی طے کرلیا گیا کہ پرانے سیاسی کھلاڑی اب ملک کو چلانے کے قابل بھی نہیں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ جیل پہنچ چکے۔ جب کہ تین مرتبہ اقتدار کے مزے لوٹنے والی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نئے مقدمات کے چکر میں آچکے۔
نتیجے میں 2013 کے عام انتخابات میں ناکامی کے باوجود ملک اور قوم کے مفاد میں تبدیلی کی بات کرنے والی تحریک انصاف کو جلد ہی اقتدار کے لیے آئیڈیل قرار دے کر نظروں میں رکھ لیا گیا تھا اور عوام کی خواہشات پر اس کے لیے راہیں بھی ہموار کی گئیں۔ بالکل اسی طرح جیسے دنیا کے بیش تر ممالک میں ہوتا ہے۔ امریکا جیسے جمہوری ملک میں ڈونلڈ ٹرمپ کا اقتدار میں آنا اور سپر پاور کا سربراہ بن جانا اگر وہاں کے عام اور باشعور لوگوں کی مرضی نہیں تھی تو پھر کس کی مرضی یا کن کن کے ’’پرسرار ووٹوں‘‘ کے سبب وہ امریکا کے صدر بن سکے؟ جب حیرت انگیز طور پر ماضی کا باکسر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا صدر بن سکتا ہے تو پھر پاکستان کا ورلڈ چیمپئن کرکٹر عمران خان ملک کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق وزیراعظم کیوں نہیں بن سکتا؟۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ ملک اور قوم کی خواہشات پر پورا اترنے کی کوششیں کرنے والی قوتوں سے غلطیاں بھی رونما ہوجاتی ہیں جس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ یہ طاقت ور عناصر ملک اور عوام کے مفاد کے خلاف کام کررہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ ہمیشہ ہی ملک اور قوم کے فوائد اور مفادات کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اوپر واضح کردیا گیا ہے تبدیلی آئی نہیں ہے بلکہ آنے والی ہے۔ مثبت تبدیلی کے لیے ہم آخری اسٹیشن پر پہنچ چکے ہیں بس یوں سمجھ لیا جائے کہ اس اسٹیشن کا ’’اسٹیشن ماسٹر‘‘ عمران خان ہے۔
عمران کا اقتدار کتنے عرصے کا ہوگا یہ سوال بھی اس لیے ہر خاص و عام کے اذہان میں اچھل رہا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی حلیف جماعتوں کے سوا سب ہی نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کردیا ہے۔ نتائج کا مطلب تمام نتائج ہوتے ہیں مگر یہاں ایسا نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کے مخالفین نے صرف ان حلقوں کے نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دیا ہے اور دے رہے ہیں جہاں سے وہ ناکام ہوئے جبکہ جہاں سے تحریک انصاف کے امیدواروں اور اس کا ساتھ دینے والی جماعتوں کو ناکامی ہوئی ہیں وہاں کے نتائج کو وہ دھاندلی سے پاک مان کر قبول کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ اسمبلیوں میں جانے اور اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہوچکے ہیں۔ لیکن کم سیٹیں حاصل کرنے کے باوجود وہ ایوانوں میں جانے کا فیصلہ کرکے جمہوریت پر تو احسان کررہے ہیں مگر ساتھ ہی وہ یہ باور بھی کرانا چاہتے ہیں کہ وہ حکومت ٹف ٹائم دیں گے۔ حکومت کے لیے آزادانہ ماحول فراہم نہیں کریں گے۔ بعض سیاسی مبصرین کو خدشہ ہے کہ عمران خان اور پہلی بار اقتدار میں آنے والی ان کی جماعت سیاست کے کھاپڑ کھلاڑیوں کی اپوزیشن کے شور شرابے سے جلد بیزار آجائے گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار میں سب سے زیادہ جس الزام کا سامنا کرنا پڑے گا وہ ’’دھاندلی زدہ انتخابات‘‘ ہیں۔ یہ اس لیے بھی ممکن ہوگا کہ انتخابات ہی نہیں بلکہ انتخابات کرانے والا ادارہ ’’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘‘ بھی متنازع بن گیا ہے۔ ناکامی کا سامنا یا کم سیٹیں حاصل کرنے والی جماعتوں کی جانب سے چیئرمین الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ ہو ہی رہا تھا مگر چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے ان ریمارکس کے بعد کہ ’’انتخابات کے روز چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان سے 3بار رابطہ کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا شاید وہ اس دن سو رہے تھے‘‘۔
انتخابات کے عمل پر ایک بڑا سوال اٹھایا جائے گا۔ کیا چیف جسٹس کے ان ریمارکس سے الیکشن کمیشن اور اس کے چیئرمین کی ساکھ متاثر نہیں ہوئی ہوگی؟ کیا ان ریمارکس کے بعد بھی الیکشن کمیشن کے چیئرمین کا مستعفی نہیں ہونا بہتر ہوگا؟ یاد رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے یہ ریمارکس منگل کو ایک خاتون امیدوار عابدہ راجا کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے دیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معلوم نہیں الیکشن کمیشن کیسے چل رہا ہے، جب ہمارے پاس مقدمات آئیں گے تو معلوم نہیں کیا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اچھا بھلا انتخابی عمل جاری تھا لیکن الیکشن کمیشن نے مہربانی فرما دی، اس روز تو ان کا سسٹم ہی نہیں چل رہا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ