مقبوضہ کشمیر، حملے میں میجر سمیت 4 بھارتی فوجی ہلاک ۔ فائرنگ سے 2 کشمیری شہید

58

سری نگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع بانڈی پورہ میں2 اور کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے ان نوجوانوں کو ضلع میں گریزکے علاقے گووند میں تلاشی اور محاصرے کی ایک پر تشدد کا رروائی کے دوران شہید کیا ۔ اس سے قبل اسی علاقے میں بھارتی فوج کی گشت پر مامور ایک ٹیم پر حملے میں ایک میجر سمیت 4 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ہلاک ہونے والے فوجیوں میں میجر کے پی رانے، حوالدارجامی سنگھ ، حوالدار وکرم جیت اور سپاہی مندیپ شامل ہیں۔ سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے سری نگر سے جاری ایک بیان میں کہاہے کہ بھارتی آئین کی دفعہ 35 اے پریلغار کے خلاف احتجاجی پروگرام جاری رہے گا۔ حریت رہنماؤں نے کہاکہ سماعت کو چند ہفتوں کے لیے ملتوی کرنے سے بھارتی عدالت عظمیٰ کے ارادوں کاعندیہ ملتا ہے جس نے آر ایس ایس کی حمایت یافتہ درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کیا ہے اور آر ایس ایس کا کشمیر سے متعلق ایجنڈا جانا پہچانا ہے ۔ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام دفعہ 35اے کی منسوخی کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔جماعت اسلامی نے کہاکہ بھارت کی فرقہ پرست حکومت کو جموں وکشمیر میں فلسطین جیسی صورتحال پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ادھر بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہفتے کے روز تلاشی اور محاصرے کی کارروائی اورمظاہرین پر فائرنگ میں 6 نوجوانوں کے قتل کے خلاف آج مسلسل چوتھے روز بھی شوپیاں میں مکمل ہڑتال کی گئی ۔ضلع شوپیاں میں تمام دکانیں ، تجارتی مراکز ،اسکول ، کالجزاور پیٹرول پمپ بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ معطل رہی ۔ بھارتی پولیس نے سری نگر کے علاقے وانبل راول پورہ سے 3 لڑکوں کو پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے ایک بیان میں پارٹی رہنماؤں بشیر احمد قریشی اور عمر ڈار کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری اور جموں کی جیلوں میں منتقلی کی مذمت کی ہے۔ تحریک حریت کا ایک وفد شہید عارف احمد میر کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کے لیے پہل گام گیا۔ دریں اثنا کٹھوعہ کی اجتماعی عصمت دری کے بعد قتل کا نشانہ بننے والی ننھی آصفہ بانو کو انصاف دلانے کے لیے مہم چلانے والے سماجی کارکن طالب حسین کو جموں کے سانبہ پولیس اسٹیشن میں پولیس کی حراست کے دوران تشدد سے سر پر شدید چوٹیں آئی ہیں۔مقامی افراد نے پولیس کی حراست میں اس کی زندگی کو لاحق خطرے پر تشویش ظاہر کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ