امریکی خلانورد ایک بار پھر خلائی سفر پر

48

اسپیس شٹل پروگرام کے خاتمے کے بعد اب پہلی مرتبہ امریکی سرزمین سے خلانوردوں کو خلا میں پہنچانے کا کام دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ 2011ء میں امریکا کا اسپیس شٹل پروگرام ختم ہو گیا تھا۔
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 9خلانوردوں کو بین الاقوامی خلائی مرکز پہنچا رہا ہے۔ اس سے قبل امریکا خلانوردوں یا سازوسامان کو خلا میں پہنچانے کے لیے گزشتہ 7برسوں سے روس پر تکیہ کر رہا تھا۔
100ارب ڈالر کی خلائی رصد گاہ (بین الاقوامی خلائی اسٹیشن) تقریباً 402میل کے فاصلے پر زمینی مدار میں سفر پر مامور ہے، تاہم اسپیس شٹل پروگرام کی مدت مکمل ہو جانے کے بعد اس مرکز تک امریکی رسائی کا واحد ذریعہ روس تھا۔
اب ناسا نے اعلان کیا کہ امریکی سرزمین سے انسان بردار مشنز کو بین الاقوامی خلائی مرکز تک پہنچانے کے کام میں نجی کمپنیوں کے راکٹوں کا سہارا لیا جائے گا۔ ناسا کے مطابق اب کارگو اور انسان بردار مشنز کے لیے ایلن مُسک کی اسیپس ایکس اور بوینگ کمپنی کے راکٹوں کی مدد لی جائے گی، جو امریکی سرزمین سے اڑیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں پہلی پرواز اگلے برس متوقع ہے۔
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جم برائڈن اسٹائن نے جانسن اسپیس سینٹر ہیوسٹن میں اپنے خطاب میں کہا کہ خلا نے امریکی طرز زندگی پر بھرپور اثر کیا ہے۔ 2011ء کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب ہم امریکی خلانوردوں کو امریکی راکٹوں میں بٹھا کر امریکی سرزمین سے روانہ کریں گے۔
اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ہمارے پاس دنیا کی بہترین تنصیبات ہیں اور ہم نجی اداروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ پیسے دیں اور انہیں استعمال کریں۔ یہ بہت دلچسپ کام ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارہ ناسا چاند پر زیادہ طویل قیام اور خلا میں زیادہ دور جانے والے انسان بردار مشنز پر غور کر رہا ہے، جس میں مریخ پر انسان کو پہنچانا شامل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ