ن لیگ ،پی پی ،مجلس عمل نے حکومت بنانے کا اعلان کردیا 

297
اسلام آباد،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے گھر پر آل پارٹیز کانفرنس میں شہباز شریف،لیاقت بلوچ،اسفند یار ولی،خورشید شاہ و دیگر شریک ہیں
اسلام آباد،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے گھر پر آل پارٹیز کانفرنس میں شہباز شریف،لیاقت بلوچ،اسفند یار ولی،خورشید شاہ و دیگر شریک ہیں

اسلام آباد (صباح نیوز) مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلزپارٹی اور متحدہ مجلس عمل سمیت ہم خیال جماعتوں نے وفاق میں حکومت بنانے کا اعلان کردیا۔جمعرات کو اسپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق کی رہائش گاہ پر ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں فیصلہ کیا گیاہے کہ وزیراعظم ن لیگ ، اسپیکر پیپلزپارٹی اور ڈپٹی اسپیکر متحدہ مجلس عمل سے ہوگا۔ہم خیال جماعتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ جیت کر اور حکومت بناکردکھائیں گے۔آل پارٹیز کانفرنس میں ن لیگ کے صدر شہباز شریف ، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ ، متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی ،عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یارولی خان ، نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو، راجا ظفر الحق، سید یوسف رضا گیلانی، لیاقت بلوچ، شیری رحمن اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔شرکاء نے انتخابی بے قاعدگیوں کو پاکستان کی جمہوری بنیاد پر حملہ قرار دے کر واضح کیا ہے کہ آئین جمہوریت اور سیاسی اقدار کا تحفظ کیا جائے گا، پلان آف ایکشن وضع کرنے کے لیے 16رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے‘کمیٹی کے اراکین میں مشاہد حسین سید، خواجہ سعد رفیق ، احسن اقبال،شیری رحمن،قمر الزمان کائرہ، لیاقت بلوچ، مولانا عبدالغفور حیدری، اویس احمد نورانی، حاجی غلام احمد بلور، میاں افتخار، بیرسٹر مسرور، انیسہ زیب طاہر خیلی سینیٹر عثمان کاکڑ ، رضا محمد رضا،ملک ایوب اورسینیٹر میر کبیر شامل ہیں ۔کمیٹی نے ابتدائی لائحہ عمل طے کرلیا ہے جب کہ اس کا اہم اجلاس آج ہوگا۔ہم خیال جماعتوں کا کہنا تھا کہ سرکاری طور پر اعتراف کر لیا گیا ہے کہ 25جولائی کوانتخابات کے دن نتائج کے آرٹی ایس سسٹم کو جان بوجھ کر بند کر دیا گیا تھا ، جعلی مینڈیٹ کے گٹھ جوڑ کو پارلیمنٹ میں شکست فاش دی جائے گی۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمن نے کہا کہ اس وسیع ترجمہوری اتحاد کے مستقل ورکنگ ریلیشن شپ پر اتفاق ہوا ہے، اتحاد نے انتخابات اور اس کے جعلی نتائج کو مستردکردیا ہے، یہ الیکشن نہیں سلیکشن ہوا ہے، کٹھ پتلی گٹھ جوڑ کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہا ہے ،جیتنے والی جماعتیں بھی پریشان اور شرمسار ہیں، ہارنے والے بھی اپنی ہار پر حیران ہیں کہ وہ کیسے ہار گئے ،انہیں کیوں ہرا دیا گیا، الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت دونوں پر کوئی اور قابض تھا، انتخابی دھاندلی کی ممکنہ صورتحال خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے، متحد ہو کر آگے بڑھیں گے اور پاکستان میں شفاف انتخابات کی جدوجہد کریں گے ۔ میاں افتخار نے کہا کہ وزیر اعظم ا، سپیکر ، ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے ہماری جارحانہ پالیسی ہو گی، دفاعی پوزیشن میں نہیں ہوں گے جیت کر اور حکومت بنا کر دکھائیں گے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جمہوری قوتیں ایک محاذ ایک پیج پر ہیں۔ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ مینڈیٹ چوری ہوا ،احتجاج کے لیے تمام اہم فیصلے ہو رہے ہیں، اب پی ٹی آئی کو بتائیں گے کہ اپوزیشن کیا ہوتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ