اسٹیل مل کی بحالی کی پیشکش کی تھی ،سابق حکومت نے جواب نہیں دیا،روسی سفیر

118

اسلام آباد(صباح نیوز)روس کے پاکستان میں سفیر الیگزے وائی ویدوف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں ،روس اور پاکستان کی قومی سلامتی کو دہشت گردی سے خطرہ ہے،دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں مگر میں اس سے مطمئن نہیں ہوں،سابق حکومت کو کراچی اسٹیل مل کی بحالی کی پیشکش کی تھی مگر انہوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا،مسئلہ کشمیر پیچیدہ مسئلہ ہے،اس کا حل پاک بھارت مذاکرات کے ذریعے نکالیں،مسئلہ کشمیرکواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے،گوادر اہم منصوبہ ہے،منصوبے سے دنیا کی معیشت جڑی ہو گی،پاکستان کی معیشت بھی بہترہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں لیکچر سیریز کے دوران پاکستان روس تعلقات پرلیکچردیتے ہوئے کیا۔ تقریب سے صدر آئی پی آر آئی اور سابق سفارتکار عبدالباسط نے بھی خطاب کیا۔روسی سفیر نے کہا کہ گزشتہ روز پاکستان آرمی کی طرف سے مشکل ترین ریسکیو آپریشن کر کے روسی کوہ پیمار کو بچانے پر ہم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، پاکستان کے ساتھ روس کے تعلقات سرد جنگ کے دوران خراب ہوئے اس سے پہلے پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے روس کے2 دورے کیے تھے جب کہ صدر ایوب خان نے بھی روس کا دورہ کیا تھا مگر اب تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور سیکورٹی سمیت مختلف امور پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات ہوتے ہیں،انٹی نارکوٹکس فورس کے ساتھ مستقل رابطہ ہے اور ان کے جوانوں کی تربیت بھی کرتے ہیں، تعلقات بہتر ہونے کی وجہ سے سابق مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے روس کے 9دورے کیے،سابق آرمی چیف جنرل راحیل اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی روس کا دورہ کیا ہے،دونوں ممالک مشترکہ بحری مشقیں کر رہے ہیں،دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت پیش رفت ہورہی ہے مگر میں اس سے مطمئن نہیں ہوں،کراچی اسٹیل مل روس نے بنا کر دی تھی اور اس کی بحالی کے لیے سابق حکومت سے مذاکرات کیے تھے کہ ہم اس کی بحالی میں مدد کر سکتے ہیں مگر سابق حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ اس کی نجکاری کرنی ہے یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کوہاٹ میں ایک بڑی آئل ریفائنری روس کی کمپنی بنائے گی جس کامعاہدہ ہو گیا ہے، مسئلہ کشمیر ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اس پر دونوں ممالک کو مذاکرات سے مسئلے کا حل نکالنا چاہیے اگر دونوں ممالک روس کو درخواست کریں گے تو روس مدد کرے گا،روس کا مقصد خطے میں امن لانا ہے اور س کے لیے ہم مختلف ممالک سے تعاون کررہے ہیں ۔عبد الباسط نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات بہتر اور درست سمت کی طرف جا رہے ہیں مگر اس کی رفتار کم ہے جس طرح پاکستان کے روس سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں امید کی جا سکتی ہے کہ اگلے چند برس میں روسی صدر پاکستان کا دورہ کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ