ڈنمارک :برقع پر پابندی نافذ ،مسلمانوں خواتین سڑکوں پر آگئیں

84
کوپن ہیگن: مسلمان خواتین برقع پر پابندی کے خلاف پمفلٹ تقسیم اور اسلامی احکام سے آگاہ کررہی ہیں
کوپن ہیگن: مسلمان خواتین برقع پر پابندی کے خلاف پمفلٹ تقسیم اور اسلامی احکام سے آگاہ کررہی ہیں

کوپن ہیگن (انٹرنیشنل ڈیسک) ڈنمارک میں یکم اگست سے چہرہ چھپانے یعنی نقاب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ رواں برس مئی میں ڈینش پارلیمان نے اس قانون کو کثرت رائے سے منظور کیا تھا۔ ڈنمارک میں بدھ کے روز اس پابندی کے اطلاق کے بعد دارالحکومت کوپن ہیگن میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ریلی میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے مسلمان خواتین نے نقاب پر پابندی کے خلاف پمفلٹ تقسیم کیے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے لڑیں گی اورنقاب نہیں اتاریں گی۔ ا حتجاجی ریلی میں غیرمسلم خواتین نے بھی نقاب پہن کر شرکت کی۔ ڈنمارک میں مسلمان خواتین پر عوامی مقامات پر چہرے پر نقاب لگانے پر پابندی کے قانون کے مطابق پولیس اہل کار عوامی مقامات پر نقاب لگانے والی خواتین کو نقاب ہٹانے کا حکم دے سکیں گے یا انہیں وہاں سے گھر جانے کے لیے کہیں گے۔ پہلی بارخلاف ورزی پر ایک ہزار ڈینش کراؤن یعنی 120پاؤنڈ جرمانہ کیا جائے گا، جب کہ کسی بھی خاتون کی جانب سے چوتھی بار خلاف ورزی کرنے پر 10ہزار ڈینش کراؤن تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔ یاد رہے مئی میں ڈنمارک کی پارلیمان نے عوامی مقامات پر خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی کے قانون کی منظوری دی تھی۔ پابندی کے حق میں 75 اور مخالفت میں 30 سے زائد ووٹ اپڑے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پابندی کو مذہبی اور شخصی آزادی کے منافی قرار دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ دیگر یورپی ممالک پہلے ہی اسی طرح کے اقدامات اٹھا چکے ہیں، جن میں فرانس، بلجیم، آسٹریا، ہالینڈاور بلغاریہ شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ