ایران حکومت مخالف مظاہروں میں پھر شدت آگئی

146
ایران: حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے ٹائر جلا رکھے ہیں
ایران: حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے ٹائر جلا رکھے ہیں

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی دارالحکومت تہران میں جولائی میں شروع ہونے والا کسانوں کے احتجاج حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہوچکا ہے۔ بدھ کے روز بھی اصفہان سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ڈالر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قدر نے معیشت کو بدحال کر دیا ہے۔ دارالحکومت کی ہر بڑی شاہراہ پر ہزاروں شہری سراپا احتجاج ہیں اور حکومت مخالف نعرے لگا رہے ہیں۔ منگل کے روز بھی تہران میں مکمل ہڑتال کی گئی تھی۔ اس دوران تمام مرکزی بازار بند رہے اور معمولات زندگی معطل رہے، جب کہ مظاہرین کو روکنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور فوج کی نفری تعینات کی گئی تھی۔ مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے حفاظتی اہل کاروں نے طاقت کا استعمال کیا، اور آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔ دوسری جانب ایرانی حکومت نے 2009ء سے گھروں میں نظر بند اصلاح پسند مخالف رہنماؤں 76 سالہ میرحسین موسوی خامنہ اور 80 سالہ مہدی کروبی کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر آیت اللہ خامنہ ای 10 دن کے اندر حتمی فیصلہ کرلیں گے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ مظاہروں کو روکنے کے لیے ان دونوں رہنماؤں کو رہا کردیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ