ن لیگ‘ پیپلز پارٹی کی انتخابی حکمت عملی اور عمران خان

141

جدون ادیب
سندھ کے سیاسی منظرنامے کو سمجھنے کے لیے اندرون سندھ کے لوگوں کا مزاج سمجھنا ضروری ہے۔ جس طرح پنجاب میں (ن) لیگ کا ایک ہتھیار ہے، تعصب سے بھرا ایک نعرہ لگا کر وہاں لوگوں کی ہمدردی حاصل کی جاتی ہے، وہ نعرہ ہے ’’جاگ پنجاب جاگ تیری پگڑی نوں لگ گیا داغ‘‘۔ اس نعرے کی بنیاد پر (ن) لیگ مخالف جماعتوں کو شکست دینے میں کام یاب ہوجاتی ہے۔ حالیہ الیکشن میں (ن) لیگ کو تحریک انصاف نے جو ٹف ٹائم دیا اور تقریباً برابری کی سطح پر آگئی تو اس کی وجہ (ن) لیگ کی کرپشن، بیڈ گورننس، تحریک انصاف کی طویل جدوجہد اور عوامی شعور ہے۔
سندھ میں مشہور ہے کہ سرپیر پگارا کا اور ووٹ بھٹو کا۔ لوگوں کا ایک ذہن بنادیا گیا ہے کہ سندھی ہونے کی بنا پر ووٹ سندھی پارٹی ہی کو دینا چاہیے۔ اسی بنا پر بلاول کی قومیت تک تبدیل کردی گئی، انہیں زرداری سے بھٹو بنادیا۔ اگرچہ بھٹو قبیلے نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا مگر قوم کو یہ لوگ بے وقوف بنانے میں کام یاب رہے۔ عام سندھی سمجھتا ہے کہ بلاول‘ بھٹو کے وارث ہیں، یہ ایک غلط فہمی ہے، اسے دور کرکے سندھ میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک متاثر کیا جاسکتا ہے اور دوسری بڑی وجہ اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی کا ایک خاص ہتھیار کام کرتا ہے اور وہ ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کارڈ۔
پیپلز پارٹی نے اس کارڈ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ حالیہ الیکشن میں نوکری کے پروانے اور یہ کارڈ بے دریغ اندرون سندھ بانٹے گئے جس خاندان میں ایک نوکری دی گئی وہ پیپلز پارٹی کا گرویدہ ہوگیا اور جس گھرانے میں انکم سپورٹ پروگرام کا کارڈ دیا گیا وہ بھی زیر احسان ہوا اور یوں پیپلز پارٹی نے اپنی حکمت عملی کے مطابق سندھ میں اکثریت حاصل کرلی۔
پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ میں ایک قدر مشترک ہے یعنی کرپشن، فرق یہ ہے کہ (ن) لیگ چوری کرتی ہے اور پیپلز پارٹی ڈاکے مارتی ہے۔ یہ عام تاثر ہے جو عوام میں پایا جاتا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب لوگوں کو پتا ہے کہ یہ لوگ کرپٹ ہیں تو ان کو ووٹ کیوں دیتے ہیں تو اس کا جواب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ چوں کہ لوگوں کی اکثریت خود کرپٹ ہے تو وہ کرپشن کو ناپسند نہیں کرتے۔ لوگوں کی اکثریت بجلی کی چوری کرتی ہے، موقع ملے تو بغیر کرائے کے لوگ سفر کرتے ہیں، ہیرا پھیری کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
گویا قوم کا مزاج ہے کہ فائدہ میسر آئے تو اخلاقیات اور مذہب کو ایک طرف رکھ کر وقتی فائدہ اٹھالیا جائے۔ جب لوگوں کی اکثریت کرپٹ ہے تو ظاہر ہے کہ وہ کرپٹ لوگوں ہی کو پسند کریں گے اور انہیں ووٹ دیں گے۔ لہٰذا سب سے پہلے قوم کو اخلاقی طور پر تربیت کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ ووٹ کا بھی بروز قیامت حساب ہوگا۔ اس شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ووٹ ڈالنے کا عمل آسان کرنا ہوگا۔ ایس ایم ایس، ای میل کے ذریعے بھی ووٹ ڈالنے کی سہولت ہونی چاہیے تا کہ درمیانی سہولت کاری کم ہو اور عوام اپنی صوابدید پر اپنے ووٹ کا فیصلہ کرسکیں۔ دوسری چیز یہ کہ تعصب کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کی ممانعت ہونی چاہیے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام پاکستان یا قائد اعظم کے نام پر ہونا چاہیے اور سب سے بڑھ کر تعلیم عام کرنی چاہیے۔ نصاب میں سیاست کے حوالے سے مواد ہونا چاہیے تا کہ طلبہ کی سیاسی تربیت ہو، ووٹ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو، الیکشن کا ہوا نہیں کھڑا کرنا چاہیے۔ الیکشن کے دن چھٹی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان تحریک انصاف کی فتح میں کے پی کے کی حکومت نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، تحریک انصاف کو یاد ہونا چاہیے کہ اس کی اتحادی جماعت اسلامی نے کے پی میں جن وزارتوں کے تحت کام کیا، تعلیم، خزانہ، بلدیات اور زکوٰۃ و عشر، ان کی شفافیت نے تحریک انصاف کے امیج کو بنایا جس کی بنا پر وہ آج کے پی میں کامیاب ہوئے۔ مذہبی معاملات اور ان کی تشریح کے لیے جماعت اسلامی سے بہتر کوئی چوائس نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی مخالفت میں ایم ایم اے کو نظر انداز کرنا بھی مناسب حکمت عملی نہیں ہوگی۔ کوئی ایسی صورت بنائیں کہ زیادہ سے زیادہ جماعتوں کو اپنے ساتھ شامل کریں۔ تحریک انصاف نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، کامیابی حاصل کرنے سے بھی زیادہ اہم چیز اس کامیابی کو برقرار رکھنا ہے اور اس کے لیے دوستوں کی تعداد بڑھانا ہوگی، دشمن کم سے کم کرنا ہوں گے۔ عمران خان کے مثبت خطاب نے کئی نئی اُمیدوں کو جنم دیا ہے۔ عوام جن بنیادی مسائل سے دوچار ہیں ان کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ احتساب کے عمل میں بہتری، تیزی اور مزید شفافیت لانے کی ضرورت ہے۔ منتخب امیدواروں سے احتساب کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ بیروزگاری ختم کرنے کے اقدام، مذہبی رواداری، مضبوط دفاع، تعلیم کا فروغ، سرکاری دفاتر میں بائیو میٹرک حاضری کا نظام، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی، کسانوں کی مدد سے غربت میں کمی، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی، آزادانہ خارجہ پالیسی، روپے کی قدر میں اضافہ، قرض کے ذریعے معاملات چلانے کی حوصلہ شکنی، سودی نظام کا خاتمہ جیسے اقدام کرکے تحریک انصاف ایک اچھی حکومت کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ