الیکشن نہیں سلیکشن ہوا ،سلسلہ کب رکے گا؟حافظ نعیم

290
ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی کے اجتماع کارکنان سے حافظ نعیم الرحمن‘ اسامہ رضی‘ عبدالوہاب‘سید عبدالرشید اور راجا عارف سلطان خطاب کررہے ہیں
ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی کے اجتماع کارکنان سے حافظ نعیم الرحمن‘ اسامہ رضی‘ عبدالوہاب‘سید عبدالرشید اور راجا عارف سلطان خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ انتخابات میں ووٹنگ ختم ہونے کے بعد کے عمل نے نہ صرف جمہوریت ، انتخابات ، انتخابی عمل بلکہ جیتنے والوں کی جیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ جیتنے والے جیت کر بھی جشن نہیں مناپا رہے ۔ الیکشن نہیں سلیکشن ہوا ہے جس میں الیکشن کمیشن ملوث ہے۔ الیکشن کمیشن اور مقتدر اداروں سے سوال کرتے ہیں کہ آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ جیتنے والوں کو مبارکباد دیتے ہیں وہ اپنے دعوے اور وعدے پورے کریں اور عوام کے مسائل حل کریں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں ’’انتخابات 2018 ء اور ہمارا لائحہ عمل ‘‘
کے حوالے سے جماعت اسلامی کراچی کے خصوصی اجتماع کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجتماع سے جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی ، سیکرٹری کراچی عبد الوہاب ، امیر جماعت اسلامی ضلع جنوبی و لیاری سے نو منتخب رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید اور الیکشن سیل کے انچارج راجا عارف سلطان نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر نو منتخب رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید کو کامیابی پر مبارکباد دی گئی اور ان کی ہمت ، عزم و استقامت اور بحیثیت رکن اسمبلی کامیابی کے لیے دعا کی گئی ۔ اسٹیج پر آمد پر ان کا پر جوش نعروں سے استقبال کیا گیا ۔ اجتماع میں عبد الرشید سمیت قومی وصوبائی اسمبلی کے دیگر امیدواران کو ہار پہنائے گئے ۔ علاوہ ازیں جئے سندھ کے سابق رہنما یاسین گبول کو بھی جماعت اسلامی میں شمولیت پر ہار پہنائے گئے اور ان کا بھر پور خیر مقدم کیا گیا ۔ اجتماع کارکنان سے خطاب کر تے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ہم الیکشن کمیشن اور مقتدر حلقوں سے سوال کرتے ہیں کہ یہ کونسی جمہوریت اور انتخابات ہیں اور یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال دیا جائے ، درست اور باقاعدہ نتائج فراہم نہ کیے جائیں ؟، ہم الیکشن قوانین اور ضابطوں کی اس پا مالی کو تسلیم نہیں کریں گے اور اس عمل کو بے نقاب کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پوری انتخابی مہم میں خواتین کارکنان اور ذمے داران نے بھی بھر پور کردار ادا کیا ان کے حوصلے ،جذبے اور قر بانیاں قابل تحسین ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک منصوبہ بندی اور میڈیا کی یلغار کے ذریعے عوام کے ذہنوں کو متاثر کیا گیا۔ صرف چند پارٹیوں کے درمیان کشمکش پیدا کی گئی ۔ پھر ایک خاص پارٹی کے لیے فضا ہموار کی گئی ۔ ایک اندازے کے مطابق 2 بڑی پارٹیوں کی اشتہاری مہم میں 16ارب سے زائد خرچ کیے گئے ۔ اس طرح انتخابات میں پری پول اور پوسٹ پول دونوں طرح کی دھاندلی کی گئی اور الیکشن کمیشن اس عمل میں ملوث رہا ۔ ماضی میں بھی عوام کے مینڈیٹ کو چوری کیا جا تا رہا مگر اس دفعہ نئے طریقے اختیار کیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد جماعت اسلامی کے لیے دعوت کے میدان میں مزید مواقع اور وسعت پیدا ہوئی ہے ۔ آگے بڑھنے کے راستے کھلے ہیں ۔ ہم آگے بڑھتے رہیں گے اور اندھیروں کے چراغ جلاتے رہیں گے ۔ عوام سے رابطے جاری رکھیں گے ۔دوبارہ عوام کے درمیان جائیں گے ۔ جنہوں نے ہمیں ووٹ دیے یا جنہوں نے نہیں دیے سب کا شکریہ ادا کریں گے اور اگلے سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی تیاری شروع کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کارکنوں اور ذمے داران کو ہدایت کی کہ وہ مہم چرم قر بانی کے سلسلے میں تیاری اور منصوبہ بندی شروع کر دیں ۔ ہماری عوامی خدمت کے پروجیکٹ اور فلاحی منصوبے جاری رہیں گے ۔ ہم نے پہلے بھی عوام کی خدمت کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہماری انتخابی مہم پورے شہر بھر میں بھر پور طریقے سے چلی، شہر کے ہر حصے اور علاقے میں ہمارے امیدواران گئے اور کراچی کے اہم اور بنیادی مسائل بالخصوص کے الیکٹرک ، نادرا اور واٹر بورڈ کے حوالے سے ہماری کوششوں اور جدو جہد کو سراہا گیا اور واحد ہمارے امیدواران کی انتخابی مہم میں عوام اور ووٹروں کی طرف سے کوئی مداخلت یا مزاحمت نہیں کی گئی جبکہ پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے امیدواران کو عوام نے گھیر لیا اور ان کی نا اہلی اور نا قص کار کردگی پر احتجاج کیا ۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ گزشتہ 30سال کی مشکلات ، جبر و تشدد اور کٹھن سفر کے بعد جماعت اسلامی کی تنظیم وسیع مضبوط اور مستحکم ہو ئی ہے اور پُرعزم سفر آج بھی جاری ہے ۔ عارضی ناکامی ہماری جدو جہد اور تحریک کے راستے میں رکاوٹ ہر گز نہیں بن سکتی ۔ شہر کو 30سال تک خوف و دہشت میں رکھنے اور تباہی و بر بادی سے دو چار کر نے والا عفریت ڈوب چکا ہے ۔ سید عبد الرشید نے کہا کہ لیاری میں ہماری کامیابی ہمارے بزرگوں کی قر بانیوں اور جدو جہد کا ثمر ہے ۔ لیاری میں ہر رنگ و نسل علاقے اور زبان بولنے والے نے ہمیں ووٹ دیے ہیں اور وہ ہماری خدمت ، دیانت کے معترف ہیں ۔ عوامی خدمت اور دعوت دین کی جدو جہد جاری رہے گی اور بلدیاتی انتخابات میں لیاری سمیت پورے ضلع جنوبی سے کامیابی حاصل کریں گے ۔ راجا عارف سلطان نے کہا کہ انتخابات سے قبل ووٹر لسٹوں میں جعل سازی اور من مانی حلقہ بندیاں کر کے دھاندلی کے عمل کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ صرف پولنگ ڈے ماضی کی نسبت پر سکون گزرا لیکن 6بجے کے بعد جو صورتحال پیدا کی گئی اس نے حالیہ انتخابات پر ماضی سے بھی زیادہ تحفظات ، اعتراضات اور شکایات کا اظہار کیا ۔ ہمارے امیدواروں نے کراچی سے تقریباً ساڑے 3 لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ