چارسدہ ، اے این پی کے احتجاجی جلسے میں قومی اداروں کیخلاف نعرے بازی

90
چارسدہ: اے این پی کے کارکنان انتخابات میں دھاندلی کیخلاف احتجاج کررہے ہیں 
چارسدہ: اے این پی کے کارکنان انتخابات میں دھاندلی کیخلاف احتجاج کررہے ہیں 

چارسدہ(مانیٹرنگ ڈ یسک)چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے حالیہ الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی جلسے میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے قومی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی۔بی بی سی اردو کی ر پورٹ کے مطابق جلسے سے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے ملک میں دوبارہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فوج کسی بھی طرح اپنے دامن پر لگا داغ دھوئے اور دھاندلی میں ملوث اہلکاروں کو گھر بھیجا جائے۔انہوں نے کہا کہ بات بات پر سوموٹو لینے والی عدلیہ صرف اس لیے خاموش ہے کیونکہ وہ خود اس سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے
کہا کہ پختون قیادت کو جان بوجھ کر پارلیمان سے باہر رکھا گیا ہے۔احتجاجی جلسے میں سرخ پوش کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی جنہوں نے قومی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو نامعلوم ہیں وہ ہمیں معلوم ہیں اور دوبارہ ایسے الیکشن کرائے جائیں جس میں فوج اور عدلیہ کا کردار نہ ہو، اس خطرناک سازش میں فوج ،عدلیہ اور الیکشن کمیشن کا ہاتھ ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ رمضان میں تمام سیاسی جماعتوں کے وفد نے الیکشن کمشنر سے ملاقات کی تھی جس میں کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف سے فوج کو اختیارات دینے کا مطالبہ نہیں کیا گیا تو پھر فوج کس کے کہنے پر آئی؟۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ الیکشن میں مداخلت سے فوج کا ادارہ متنازع ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پختون قیادت کو جان بوجھ کو پارلیمان سے باہر رکھا گیا اور حالات اس نہج پر نہ لائے جائیں جس میں ہمیں دیوار سے لگایا جائے ورنہ ہمارا ہاتھ ان کے گریبانوں پر ہو گا۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پولنگ کے اختتام پر ایک گھنٹے کے لیے دروازے بند کیے گئے اور تمام پولنگ ایجنٹوں کو گن پوائنٹ پر فوجیوں نے باہر نکال دیا اسی دوران نتائج تبدیل کیے گئے اور اندر بیٹھ کر ووٹ پول کیے گئے جس کی تمام ذمے داری فوج، عدلیہ اور الیکشن کمیشن پر عاید ہوتی ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کر دروازے بند کیے گئے؟۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے کہا کہ وہ 53 سیکنڈ میں ایک امیدوار کے ووٹ پول کر کے دکھائیں تو میں شکست تسلیم کر لوں گا۔اسفندیار نے الیکشن کمیشن کی جانب سے فارم 45 انٹر نیٹ پر ڈالنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ ایجنٹ کے دستخط کے بغیر جاری کیے گئے فارم 45 کی کوئی اہمیت نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سب ڈرامے صرف خود کو بچانے کے لیے ہیں،جنہیں ہم تسلیم نہیں کریں گے،پنجاب، سندھ اور بلوچ قیادت کو پارلیمنٹ تک پہنچایا گیا جب کہ پختونوں کے خلاف فوج نے سازش کر کے پارلیمنٹ کے دروازے بند کر دیے۔ پشتون رہنما نے واضح کیا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس الیکشن اور لاڈلے کو پرامن ماحول فراہم کرنے سے ملک میں استحکام آئے گا یہ ان کی خام خیالی ہے، ملک میں اب مزید گڑبڑ ہو گی اور پاکستان عدم استحکام کی جانب بڑھے گا۔ اے این پی بلوچستان میں بننے والی اختر مینگل کی حکومت کی حمایت کرے گی۔اسفند یار نے کہا کہ اگر باقی جماعتیں حلف لینے کے فیصلے پر متفق ہوئیں تو اے این پی کے ارکان بھی حلف اٹھا کر پارلیمنٹ کے اندر اس سازش کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ