اسرائیل کا غیر ملکی کشتی پر دھاوا ،اور درجنوں امدادی کا رکن گرفتار

68
غزہ: اسرائیلی فوج غیرملکی امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو گرفتار کرکے لے جارہی ہے
غزہ: اسرائیلی فوج غیرملکی امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو گرفتار کرکے لے جارہی ہے

غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی پٹی کی سمندری ناکا بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے یورپی امدادی کارکنان کی ایک کشتی پکڑ لی۔ کشتی پر ناروے کا پرچم لہرا رہا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرگرمی کسی غیر معمولی واقعے کے بغیر ہی ختم ہوگئی او ر کشتی کو اسرائیلی بندرگاہ اشدود منتقل کردیا گیا ہے۔ خبررساں ادارں کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس کشتی پر اتوار کے روز دھاوا بولا اور درجنوں امدادی کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ پیر کے روز اسرائیلی شہریوں کو تو رہا کردیا گیا، تاہم 16 غیرملکی کارکنوں اور 4صحافیوں کو زیرحراست رکھا گیا۔ انہیں ملک بدر کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ العودہ نامی اس
کشتی سے وابستہ امدادی گروپ نے کہا ہے کہ اس پر 22 افراد سوار تھے اور ادویہ اور طبی سامان لدا ہوا تھا۔ فریڈم فلوٹیلا اتحاد کے ایک بیان کے مطابق اسی گروپ کی ایک دوسری کشتی کی آیندہ چند روز میں اسی علاقے میں آمد متوقع ہے۔اس کشتی کا نام آزاد ی ہے اور اس پر سوئیڈش پرچم لہرا رہا ہوگا۔ اسکنڈ ے نیویا کے ممالک سے مئی کے وسط میں 4 کشتیاں غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے کر روانہ ہوئی تھیں۔ انہوں نے غزہ تک پہنچنے میں 28 مختلف بندرگاہوں پر قیام کیا ہے۔ اس مہم میں شامل باقی 2کشتیاں پلرمو کی بندرگاہ پرقیام کے بعد اپنی منزل کی جانب روانہ ہوچکی ہیں۔ العودہ کے پکڑے جانے کے بعد فلوٹیلا اتحاد نے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا ہے کہ اسرائیلی بحریہ ہمیں انتباہ جاری کررہی ہے اور وہ یہ دعویٰ کررہی ہے کہ ہم بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اس نے امدادی کشتیوں کو روکنے کے لیے کسی بھی ضروری اقدام کی دھمکی دی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس صورت حال سے بچنے کا واحد راستہ یہہے کہ غزہ کی ناکا بندی ختم کردی جائے اور تمام فلسطینیوں کو آزادانہ نقل وحرکت کی آزادی دی جائے۔ اسرائیلی بحریہ نہ صرف غزہ کی ناکا بندی توڑنے کی کوشش کے لیے آنے والی مغربی ممالک کی کشتیاں پکڑلیتی ہے، بلکہ وہ غزہ کی بندر گاہ سے یورپ کی طرف جانے والی کشتیوں پر بھی دھاوا بول دیتی ہے۔اس نے چند ہفتے قبل غزہ سے یورپ جانے والی ایک کشتی کو روانہ ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی پکڑ لیا تھا۔ فلسطینیوں نے مئی میں بھی ایک کشتی کے ذریعے اسرائیل کی بحری ناکا بندی توڑنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس کو بھی غزہ سے چند کلومیٹر دور پکڑ لیا گیا تھا۔اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی کشتیوں کو 6 ناٹیکل میل سے باہر نہیں جانے دیتی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے 2008ء سے غزہ کی پٹی کی بری، بحری اور فضائی ناکا بندی کررکھی ہے۔اقوام متحدہ کے عہدے دار اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں کئی مرتبہ اسرائیل سے فلسطینی علاقے کا بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال کے پیش نظر محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کرچکی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل میں حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم حماس کے ترجمان ’القدس‘ ٹی وی اسٹیشن سے 4 فلسطینی صحافیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع آوِگ دور لیبر مین اس چینل کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ یہ گرفتاریاں گزشتہ رات عمل میں لائی گئیں۔ فلسطینی صحافیوں کی یونین نے بتایا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں مغربی کنارے میں چینل کے ڈائریکٹر اور 3 دیگر صحافی شامل ہیں۔
کشتی پر دھاوا

Print Friendly, PDF & Email
حصہ