بیلٹ پیپرز تبدیل کیے گئے دھاندلی کیخلاف قانونی جنگ لڑینگے ، سعید غنی

166
کراچی: پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی پریس کانفرنس کے دوران کچرا کنڈی سے ملنے والے بیلٹ پیپرز میڈیا کو دیکھا رہے ہیں
کراچی: پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی پریس کانفرنس کے دوران کچرا کنڈی سے ملنے والے بیلٹ پیپرز میڈیا کو دیکھا رہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے والے سعید غنی نے کہا ہے کہ طے شدہ منصوبے کے تحت پیپلزپارٹی کو نشانہ بنایا گیا،دھاندلی کے خلاف قانونی جنگ لڑیں گے، گزشتہ روز قیوم آباد کے علاقے سے کچرا کنڈی میں ہزاروں کی تعداد میں جلے ہوئے بیلٹ پیپرز برآمد ہوئے ہیں میں اکثرپر مہر پیپلزپارٹی پر ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پیپلزپارٹی کو طے شدہ منصوبے کے تحت نشانہ بنایا گیا ہے۔ اتوار کو بلاول ہاؤس میڈیا سیل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں ہمارا مقابلہ ہم ایم کیو ایم کے ساتھ سمجھ رہے تھے،پی ٹی آئی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ ان کے اتنے ایم پی ایز اور ایم این اے کراچی سے سیٹ حاصل کرلیں گے،جو فیصلے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے ہوئے ہیں، تمام ذمے داری الیکشن کمیشن کی ہے، انتخابات کے بعد قانونی مرحلہ ہوتا ہے،جو الیکشن ٹربیونل بنیں گے ہم وہاں اپنے مطالبات لے کر جائیں گے اورہر قانونی راستہ اپنائیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخابات کے پہلے روز ہی کہہ دیا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے جبکہ الیکشن کمیشن اس بات پر ڈٹا ہوا ہے کہ انتخابات صاف اور شفاف ہوئے ہیں،ان کا کہنا تھاکہ امیدواروں اور پولنگ ایجنٹس کو تو موبائل اور کیمرے پولنگ اسٹیشنز کے اندر لے جانے کی اجازت دینی چاہیے تھی، ایمرجنسی یا شکایات کے لیے موبائل کا ہونا بہت ضروری تھا، دھاندلی کیمروں کی ذریعے ہی پکڑی جاتی ہے،الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ اسکیم بہت ناقص بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کی شرح کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، قیوم آباد کی کچرا کنڈی سے ہزاروں بیلٹ پیپرز برآمد ہوئے جو جلے ہوئے ہیں،جس میں اکثر پر مہر تیر کے نشان پر ہے،اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسر کے دستخط بھی ان بیلٹ پیپرز پر موجود ہیں، بیلٹ پیپرز تبدیل کیے گئے ہیں،کچھ بیلٹ پیپرز نکال کر دوسرے ڈالے گئے ہیں، اور بھی جگہوں پر یہ عمل ہوا ہوگا جہاں سے بیلٹ پیپرز ملنے کے امکانات ہیں، ان تمام چیزوں کے سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہورہا ہے کہ کراچی کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی۔ جن حلقوں سے پیپلزپارٹی کا امیدوار جیتا ہے وہاں ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہورہی ہے،جن علاقوں لوگ پیپلزپارٹی کو جوائن کر رہے ہیں ہم نے ان علاقوں میں عوامی رابطہ مہم بہتر اندازمیں چلائی ہے۔،ایسے حالات میں پیپلز پارٹی کا ان حلقوں سے الیکشن ہارنا ایک سازش کا حصہ ہے۔ ہمارے تحفظات پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے۔ استعفے سے متعلق صحافی کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میرا استعفاب تک پارٹی قیادت نے قبول نہیں کیا ہے۔
سعید غنی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ