غصے کا انجام

66

شبانہ ضیاء

مسلسل فون کی بیل بج رہی تھی اور گھر میں اس وقت کوئی موجود نہ تھا اور میں نماز عصر ادا کر رہی تھی ۔ جلدی جلدی نماز پڑھی اور سلام پھیر کر فون کی طرف بڑھی تو وہ بند ہو گیا ۔ پھر ایک سیکنڈ کے بعد دوبارہ بیل بجی تو میں نے فوراً رسیو کیا تو دوسری طرف میری بچپن کی دوست کی کال تھی ۔ہیلو! السلام و علیکم سب خیر خیریت ہے ۔ وعلکیم و السلام! الحمد اللہ ٹھیک ہوں ، کیسے فون کیا بس ایک ضروری اطلاع دینی تھی کہ فوزیہ کا انتقال ہو گیا ہے ۔ اس نے خود کشی کر لی ہے ۔ کب ہوا! کیسے ہوا ، وہ تو بڑی جاند ار اورمرنے مارنے والی تھی اس نے خود کشی کیسے کر لی! پتا نہیں یار یہ تو بعد میں پتہ چلے گا۔میں نے تم کو بتانا مناسب سمجھا۔
ہمارے محلے میں ممانی کا گھر سب سے نمایاں تھا۔ ممانی جو کہ فوزیہ کی امی تھیں تمام محلے والے انہیں بی بی سی لندن کے نام سے جانتے تھے ۔ ان کے ذریعے معلوم رہتا کہ کس کے گھر میں کیا ہور ہا ہے ۔ چھوٹی چھوٹی دیواریں ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ویسے بھی رابطہ رہتا تھا اور خبر بھی اس کے علاوہ ممانی کا روز کامعمول تھا نت نئی خبریں دینا ور سنسنی پھیلانا کام تھا ۔پان کھانا ان کا بہترین مشغلہ تھا ۔ آتے ہی پان کھاتی اور لگتی پورے محلے کی خبریں سنانے ۔ ویسے ان سے باتیں کرنے میںمزہ بھی بڑا آتا تھا ۔یاد ہے بچپن میں جب ہمارے یہاں چھوٹی بہن پیدا ہوئی تو ڈاکٹروں نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا کہ وہ دودھ نہیں پی رہی تھی اور کچھ سینے میںپرابلم بھی تھی ۔ ممانی روز صبح آتی اے لڑکیوں جلدی جلدی کھانا کھا لو اور کام ختم کر لو۔لڑکی مرنے والی ہے اور ہم سب بہن بھائی ڈرجاتے جانے کیا ہونے والا ہے ۔ مگر خیر ! پھر اس کی صحت ٹھیک ہو گئی آج وہ تین بچوں کی اماں ہے ۔ مگر کچھ عرصے بعد ممانی کا انتقال ہو گیا اور ان کے بچے ’’محلہ‘‘ چھوڑکر دوسری جگہ شفٹ ہوگئے ۔ ویسے توممانی کاگھر پورے محلے کی جان تھا ۔ لڑکیاں کیا! لڑکے تک اپنے مسئلے اور مسائل وہیںبیٹھ کرحل کرتے ۔ ہر وقت ان کا گھرکھلارہتااورپورا محلہ بے دھڑک آتا جاتا ، کھاناپینا ، پڑھنا ، پڑھانا روز کامعمول تھا ۔
فوزیہ کی چار بہنیں اور ایک بھائی تھا ۔ فوزیہ سب سے چھوٹی تھی اس لیے تھوڑی ضدی اور ہٹ دھرم بھی تھی ۔ جو دماغ میں سما جاتا پھر کر کے دم لیتی اور ممانی اس کی خوشامد کرتی رہتی ۔ اس نے مرنے مارنے میں لڑکوں کو مات دے رکھی تھی ۔ ان تمام بہنوں کی وجہ سے پورے محلے میں رونق بھی تھی اورحوصلہ بھی رہتا تھا ۔ کہیں محلے میں ہنگامہ ہو ، لڑائی جھگڑا ہو فوراً پہنچ جاتی پھر سب مل کر اتنا لڑنا جھگڑنا کرتی کہ دوسرا بندا ہار مان لیتا ۔ الیکشن کے کام ہوں، شادی بیاہ کی تقریبات ہوں ، ملی نغمے ہوں ، نعت پڑھنی ہو یا میلاد ہو ، ہرکام میں ماہر تھیں ۔تین بڑی بہنیں جاب کرتی تھیں اور شام کو ٹیوشن سینٹر کھولا ہوا تھا ۔ رات گئے تک چہل پہل رہتی تھی ۔ ایک بہن جو زیادہ پڑھی لکھی نہ تھی مگر گھر کے کام کاج میں ماہر تھیں ۔ اگر کوئی ان کے پاس آدھا گھنٹہ بیٹھ جائے تو ہنس ہنس کر پاگل ہو جاتا ان کی باتیں ہی ایسی ہوتی تھیں کہ بندہ گھر آ کر بھی ہنستا رہے ۔ ایک شور ، ایک ہنگامہ ، موج مستی ۔ ممانی کی وفات کے بعد ان کی بہن شاہدہ آنٹی کو فلیٹ مل گیا ان کی طرف سے تمام لوگ وہاں شفٹ ہو گئے ۔ محلہ کی رونق ہی ختم ہو گئی ہر آنکھ اشکبار تھی ۔ ان کے جانے سے ۔ مگر کسی کے جانے سے زندگی رک نہیں جاتی ہاں کمی ضرور محسوس ہوتی ہے ۔ فوزیہ کی بڑی بہن کی شادی ہو گئی پھر عابدہ آنٹی نے بھی ایک پنجابی سے شادی کر لی اور شاہدہ آنٹی جو ان تمام بہنوں میں تھوڑی سلجھی ہوئی اور سمجھدار تھی ۔ بھائی کی شادی کے بعد انہوںنے بھی شادی کر لی اور امریکا چلی گئیں ۔ فوزیہ اسکول تیچرسے ہیڈ مسٹریس بن گئی اور اچھی خاصی گزر بسر ہونے لگی ۔ کچھ عرصے کے بعد سننے میں آیا کہ فوزیہ نے ایک امیر سے شادی کر لی ہے ۔ جو اس سے عمر میں زیادہ ہے ۔
فوزیہ ایک تو ہیڈ مسٹریس تھی تو دوسری طرف وہ اپنے شوہر کی کمپنی بھی چلاتی تھی ۔ الگ گھر ،گائوں اورروپے پیسے کی کمی نہ تھی ۔ شادی تو کر لی تھی مگر اس کو لے کر چلنا آسان نہ تھا ۔ جس کا بچپن اور جوانی لڑائی ،جھگڑے، کھانے ، اور موج مستی میں گزرا ہو وہاں زندگی میں صبر اور برداشت کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے ۔ فوزیہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے تھوڑی ضدی تھی جس بات پر اڑ جاتی تو کروا کردم لیتی اور ممانی بیچاری اس کی خوشامد کرتے کرتے تھک جاتی ۔ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوتی ۔ اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان پراپرٹی اور فیکٹری پر بحث چل رہی تھی ۔ وہ کمپنی اپنے نام کروانے پر زور دے رہی تھی ۔ اس دن بھی شوہر سے اسی بات پر تلخ کلامی ہوئی تھی ۔ رمضان المبارک کا سولہواں روزہ تھا ۔ اور روزہ بھی رکھا ہوا تھا ، فیکٹری سے غصے میں گھر آئی ،باتھ روم میں جا کر پیٹرول اپنے اوپر ڈال کر آگ لگا لی اور لگانے سے پہلے پولیس کو بیان لکھوا دیا کہ میں نے خود آگ لگائی ہے ۔ آگ تو بھڑک گئی ، باتھ روم کے پاس جنریٹر رکھا ہوا تھا وہ پھٹا اور کچن اور تمام گھر جل کے خاک ہو گیا اور فوزیہ 90% فیصد جل گئی تھی ۔ اسپتال لے کر گئے مگر چار پانچ گھنٹے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا ۔ ہر کوئی حیران پریشان تھا یہ کیا ہو گیا ۔ کسی کو کچھ سمجھ میں نہ آیاآخر یہ کس طرح ہو گیا ۔ خود کشی حرام ہے مگر جب عقل پہ پردہ پڑ جائے اور دولت اور غصہ حاوی ہوجائے تو انسان اچھائی اور برائی میں تمیز ختم کر دیتا ہے اس کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ پیسے کی حرص اور ضد میں اپنی جان کی بھی پروا نہیں کی ۔ جب انسان کے نصیب میں کوئی چیز نہیں تو پھر وہ اس کے لیے کیوں پریشان ہوتا ہے ۔ اس کی موت کا افسوس رہا کہ اللہ اس طرح کی موت کسی کو نہ دے ۔ یہ تو اللہ کی نعمتوں کی نا شکری ہے ۔ غصہ عقل کو کھا جاتا ہے ۔ آج دیکھ بھی لیا ۔ یہ ایک حقیقت ہے ماحول سے انسان کی شخصیت سنورتی اور بگڑتی ہے انسان کو دنیا میں وہ ہی کچھ ملتا ہے جو اس کے نصیب میں ہوتا ہے ۔ دنیا کی فکر میں آخرت کو خراب کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔ اللہ فوزیہ کی مغفرت فرمائے ۔ اس کی موت بہت سے لوگوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے ۔ جان تو دی ہوئی اس کی تھی ۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ۔ ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انسان کو سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ