ذہنی و نفسیاتی صحت کے چند رہنما اصول

72

٭… ہر انسان کو 24 گھنٹوں کے دوران 8 گھنٹے کی نیند لازماً لینی چاہیے تاکہ دن بھر کی تھکاوٹ دور ہوسکے اور جسم کھوئی ہوئی توانائی حاصل کرسکے۔ اسی طرح معاشی تگ و دو کے لیے 8 گھنٹے صرف کرنے چاہییں اور بقیہ 8 گھنٹے سیر و تفریح یا کسی ایسے مشغلے میں گزارنے چاہییں جس کے دوران ذہن تازہ دم رہے۔
٭… ہر کھانا (ناشتہ، دوپہر اور رات کا کھانا) آرام و سکون سے کرنا بہت ضروری ہے بلکہ کوشش کریں کہ ہر کھانے پر 20 منٹ لازمی لگائیں۔
٭… غصہ حسد اور کینہ جیسی بدعادات انسان کی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہیں۔ ان سے ہمیشہ گریز کرنا چاہیے۔
٭… گھر کے اندر، دفتر اور محلے میں ملنے جلنے والوں سے ہمیشہ خوش اسلوبی اور محبت سے ملیں اور اسے اپنا شعار بنالیں۔
٭… چھوٹی موٹی باتوں پر در گزر کریں اور ہر بات کو اپنے ذہن پر سوار نہ کریں اگر کوئی تکلیف دہ واقعہ پیش آجائے تو فوری طور پر بھلانے کی کوشش کریں۔
٭… چھوٹے بچوں سے پیار و محبت اور شفقت کا برتائو کریں اور بڑوں سے ہمیشہ ادب سے پیش آئیں۔
٭… لالچ اور حرص انسان کی اندرونی کیفیات ہیں اور یہ انسان کو ہمیشہ مادی فائدے کے لیے اکساتے ہیں۔ ان ہی کی وجہ سے انسان طاقت سے زیادہ کام کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ یاد رکھیں، جو بھی فرد اپنی طاقت و استطاعت سے زیادہ بھاگ دوڑ کرے گا، اس کے ذہنی و جسمانی طور پر بیمار ہونے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
٭… معاف کرنا اور در گزر کرنا سب سے بہترین عمل ہے۔ اس کی عادت ڈال لیں کہ اسی کی بدولت انسان ذہنی و جسمانی طور پر صحت مند رہتا ہے۔
٭… کسی کو بھی کم تر نہ جانیں بلکہ ہر فرد کی بات کو تسلی و تحمل سے سنیں اور فیصلہ اپنے ضمیر کے مطابق کریں۔
٭… احساس کمتری کو کبھی خود پر غالب نہ ہونے دیں۔ ایسے لوگ، جو اپنی ذات کو بے مقصد سمجھنے لگیں، ان میں احساس کمتری پروان چڑھنے لگتا ہے جو کہ ذہنی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
٭… کسی بھی ایسی چیز کے عادی نہ بنیں جو بعد میں آپ کو نشے کی طرف لے جائے۔ ایسی تمام اشیا نہ صرف انسان کی ظاہری وضع قطع کو خراب کرتی ہیں بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہیں۔
٭… نفرت جیسے منفی جذبات کو کبھی بھی ذہن میں نہ پالیں، کیونکہ اس سے آپ کی صحت متاثر ہوگی، کوئی ناگوار شخصیت یا بات سامنے آجائے تو درگزر سے کام لیں۔
٭… ہر کام کو عقل و فہم سے حل کرنے کی کوشش کریں اگر کسی بات میں مشکل ہو تو ہمدرد ساتھیوں سے مشورہ لیں کیونکہ مشاورت غلط فیصلہ کرنے سے بہتر ہے۔
٭… بے مقصد باتوں، مذہبی و سیاسی بحث و مباحثہ سے دور رہیں، خوشامد نہ خود پسند کریں اور نہ ہی دوسروں کی خوشامد کریں۔
٭… ایک ہی وقت میں بہت سے کاموں کو انجام دینے سے گریز کریں، اگر بیک وقت بہت سے کام درپیش ہوں تو ان کی لسٹ بنالیں اور سب سے اہم کام پہلے انجام دیں۔
٭… مچھلی کا گوشت اور مچھلی کا تیل ذہنی ترو تازگی اور ذہنی صحت کے لیے اکسیر ہیں۔ اس کا استعمال لازماً کریں۔
٭… جدید تحقیق کے مطابق ہلدی، ادرک اور رنگ دار سبزیوں کے مستقل استعمال سے دماغی کارکردگی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ان کے استعمال کی عادت ڈالیں۔
٭… یہ حقیقت اب سب پر منکشف ہوچکی ہے کہ ذہنی صحت کے لیے مراقبہ (یعنی خاموشی اور یکسوئی سے کسی معاملہ پر فوکس کرنا) بہترین ورزش ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس عمل سے عمر کے ساتھ پتلا ہونے والا دماغ کا گرے مادہ موٹا ہو وجاتا ہے، جس سے دماغی کارکردگی کا معیار بلند ہوتا ہے۔
٭… مختلف سرگرمیوں میں مصروف رکھنے والے، مطالعہ کرنے اور معمے حل کرنے کے شوقین افراد بڑھاپے میں الزائمر کے مرض سے محفوظ رہتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ہفتے میں 4 دن دماغی کام کرنے والے افراد میں، عام افراد کے مقابلے میں الزائمر کا خطرہ 47 فیصد کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح زندگی کو ہنسی خوشی گزاریں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ