سانحہ مستونگ: لوگ تو اپنے ہی ہیں

150

جلال نورزئی

مستونگ (13 جولائی 2018) کے ہلاکت خیز خودکش دھماکے کی گونج دنیا بھر میں سنی گئی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دنیا کے مختلف ممالک نے سانحہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور دہشت گردی کے عفریت کی مذمت کی۔ مستونگ واقعہ میں اب تک جاں بحق شہریوں کی تعداد ایک سو اکیاون تک پہنچ چکی ہے اور 185افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تحقیقات ہمہ پہلو ہورہی ہیں، کافی حد تک پیش رفت ہوچکی ہے۔ خودکش بمبار کوئی غیر ملکی نہ تھا بلکہ اس ملک ہی کا شہری تھا۔ جس نے اپنے درجنوں کلمہ گو بھائیوں کو پیوند خاک کردیا۔ درجنوں کو زندگی بھر کے لیے معذور کردیا۔ خاندانوں کو بر باد کردیا۔ مرنے والوں کی اکثریت انتہائی غریب، لٹے پٹے اور کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ البتہ ان کی آخرت ضرور سنور گئی ہے۔ اور خودکش بمبار نے زندگی کے ساتھ اپنی آخرت بھی بر باد کرلی۔ یقیناًاس کے ساتھی بھی اللہ کے قہر سے نہیں بچ پائیں گے۔ آخرت میں دائمی عذاب ان سب کا مقدر ہوگا۔ خودکش بمبار جس کا نام پولیس نے حفیظ نواز بتایا ہے صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کا رہائشی تھا۔ اس کے والد محمد نواز تیس سال قبل اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد سے ٹھٹھہ منتقل ہوگئے تھے۔ یعنی اس خاندان کا آبائی علاقہ ایبٹ آباد ہے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ مرنے والے خودکش بمبار حفیظ نواز کے دوبھائی اور تین بہنیں بھی دہشت گردی کی راہ پر ہیں۔ یہ سب افغانستان میں مقیم ہیں جس کی تصدیق والد نے بھی کردی ہے۔ پولیس نے جلسے میں موجود حفیظ نواز کی تصاویر اور ویڈیو کلپس باپ کو دکھائیں اس نے اپنے بیٹے کو پہچان لیا۔ مطلب یہ ہوا کہ خودکش بمبار کے دو بھائی اور تین بہنیں بھی دہشت گردی کے لیے استعمال ہوں گی۔ یقینی طور پر یہ بدبخت افغانستان اور پاکستان میں معصوم اور بے گناہ عوام کو نشانہ بنائیں گے۔ خودکش بمبار کو مقامی سہولت کاروں نے پاس رکھا تھا۔ یہ سہولت کار مستونگ ہی کے باشندے ہیں اور 13جولائی کو درینگڑھ میں سراج رئیسانی کے جلسہ میں لے جاکر بٹھا دیا۔ اس کے ہاتھ میں بلوچستان عوامی پارٹی کا جھنڈا بھی تھمادیا تھا۔ درینگڑھ دیہاتی علاقہ ہے۔ درینگڑھ بلکہ پورے مستونگ کی آبادی سُنی مسلک سے ہے۔ احناف ہیں یعنی فقہ حنفی پر عمل کرنے والے ہیں۔ یہاں تک کہ دیوبندی مکتبہ فکر کے حامل ہیں۔ مذہب کے پابند لوگ ہیں۔ ان علاقوں میں ماضی میں اور اب بھی لشکر جھنگوی کا نیٹ ورک موجود ہے۔ اس سانحہ کے سہولت کاروں کا تعلق لشکر جھنگوی ہی سے بتایا جا تاہے۔ گویا مستونگ ہی کے رہائشیوں نے اپنے بھائیوں کا اس بے دردی سے قتل عام کیا۔ بہر حال ان سہولت کاروں کی شاید شناخت ہوچکی ہے۔ بلکہ مجھے اہم ذرائع نے بتایا کہ تین چار افراد حراست میں لیے جاچکے ہیں۔
سراج رئیسانی کے جلسہ میں یقینی طور پر سیکورٹی نظر انداز کی گئی تھی۔ سراج رئیسانی محتاط رہتے تھے۔ شاید اس پہلو پر اس خاطر زیادہ توجہ نہ دی گئی کہ اپنا علاقہ اور اپنے ہی لوگ ہیں۔ انہیں کیا پتا تھا کہ اپنے ہی ان کی موت کے درپے ہیں۔ ایک المیہ یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد افغان مہاجرین کی رٹ شروع کردی جاتی ہے کہ افغان مہاجرین جرائم اور دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ یہ ایک لغو دعویٰ اور الزام ہے۔ بات یہ ہے کہ دہشت گرد کوئی بھی ہوسکتا ہے اسے کسی خاص طبقے، قوم یا ملک سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ جماعت الاحرار، ٹی ٹی پی، لشکر جھنگوی اور داعش کے ساتھ افغانستان اور پاکستان کے باشندے وابستہ ہیں۔ اگر بات بلوچستان کی کی جائے تو یہاں مقامی لوگ ہی لشکر جھنگوی یا طالبان سے وابستہ پائے گئے ہیں۔ نوے کی دہائی میں جب ٹی ٹی پی کا وجود ہی نہ تھا صوبے میں لشکر جھنگوی متحرک تھی۔ خودکش حملہ آور، ٹارگٹ کلر مقامی شناخت کے حاملس ہیں۔ جب فاٹا میں طالبان نے زور پکڑا تو یہ ان سے منسلک ہوگئے۔ بعد ازاں افغانستان میں داعش کے بننے کے بعد تعلق ان سے بھی پیدا ہوا۔ پہلے لشکر جھنگوی بلوچستان اور پنجاب کے دہشت گردوں کے اشتراک ہی سے منظم تھی۔ بڑے بڑے کمانڈر بلوچستان سے تھے۔ اب بھی بلوچستان ہی کے نوجوان اس تنظیم کی کمانڈ کررہے ہیں۔ لہٰذا اس بناء پر لشکر جھنگوی کو مقامی نوجوانوں کو بھرتی کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ 20جولائی کو فورسز نے قلات میں داعش بلوچستان کے امیر کو ہلاک کر دیا، جس کا نام مفتی ہدایت اللہ ہے، عالم دین بتایا جاتا ہے۔ مستونگ کے علاقے کنڈاوہ کا رہائشی تھا، جہاں پر اس کا مدرسہ بھی تھا جو دو ہزار سولہ میں فورسز نے مسمار کر دیا تھا۔ ہدایت اللہ افغانستان میں بھی طویل عرصہ مقیم رہا ہے بہر حال ان کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ صوبے میں کئی سنگین کارروائیوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ سراج رئیسانی پر خودکش حملہ کرنے والا نوجوان اس کے بھائیوں اور بہنوں کو فضل اللہ، زر ولی یا فلاں فلاں نے یا افغانستان میں موجود داعش اور ان تنظیموں کے دوسرے کمانڈروں نے آکر تبلیغ تو نہیں کی۔ یقیناًان کے لوگ ہمارے شہروں، قصبوں اور دیہات میں موجود ہیں جو نوجوانوں کو اپنے راستے پر لگانے کی تبلیغ کرتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے نوجوان ان تنظیموں کا حصہ ہیں ان کو اس راہ سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔
سانحہ مستونگ کے بعد تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ مستونگ کے تمام علماء، سیاسی و غیر سیاسی معروف و غیر معروف سب ہی جمع ہوتے اور اس بیانیے کے قطعی حرام اور خلاف دین ہونے کا فتویٰ دیتے۔ اوراُن جماعتوں سے تعلق و وابستگی کو بھی حرام قرار دیتے جو شدت پسندی کے لیے ذہنی و فکری غذا کی فراہمی کا کام دیتی ہیں۔ مستونگ میں ایک بھی بیگانہ بندہ نہیں مرا۔ غیر اگر کوئی تھا تو وہ خودکش دہشت گرد تھا۔ چناں چہ اب اگر مقامی علماء، معتبرین اور سیاسی لوگ ایک ہوکر آواز نہیں اٹھائیں گے تو بدی کی قوتوں کو کون روکے گا؟۔ گویا ہمیں ہی اپنے نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کی جدوجہد کرنی ہے۔ بھارت کا جھنڈا پاؤں تلے روندنے و جلانے جیسی غیر اخلاقی و نا پسندیدہ حرکات، بے مقصد کی مشق ہے۔ جس سے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی گریز کرنا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ