ن لیگ پی پی کیساتھ اسمبلیوں میں بیٹھنے پر متفق ،فیصلہ اے پی سی میں ہوگا،فضل الرحمن

203
اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ، شیری رحمن ودیگر ایاز صادق اور شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کر رہے ہیں
اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ، شیری رحمن ودیگر ایاز صادق اور شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کر رہے ہیں

لاہور،اسلام آ باد(نمائندہ جسارت /خبر ایجنسیاں/ مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ(ن)پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ اسمبلیوں میں جانے اور حلف اٹھانے پرمتفق ہوگئی ہے جب کہ متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اسمبلیوں میں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ آل پارٹیز کانفرنس میں ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن نے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے ٹیلیفون پر رابطہ بھی کیااورانتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تعاون مانگ لیا ہے‘ جبکہپیپلزپارٹی نے پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے(ن)لیگ کی مکمل حمایت کا عندیہ دے دیا ہے۔ ادھر(ق)لیگ نے پنجاب اور مرکز میں تحر یک انصاف کی حمایت تو کردی ہے مگر ساتھ ہی ڈپٹی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کا مطالبہ بھی کر دیاہے تاہم پی ٹی آئی نے (ق)لیگ کو مرکز میں وفاقی وزیر اوروزیر مملکت اور پنجاب میں ایک وزیر اور ایک مشیر کا عہدہ دیے جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ (ن) لیگ نے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کردیاہے۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کولاہور میں (ن)لیگ کے صدر میاں محمد شہباز شریف کی زیر صدارت(ن) لیگ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں(ن) لیگ کی سینئر لیڈر شپ کے علاوہ نومنتخب ارکان اسمبلی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں عام انتخابات کے نتائج اور ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں قومی اسمبلی سمیت صوبائی اسمبلیوں میں حلف اٹھانے اور نواز شریف کے بیانیے پر سمجھوتا نہ کرنے کا بھی فیصلہکیا گیا۔ پنجاب میں حکومت سازی کے لیے بھرپور کوشش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی، قومی اسمبلی سمیت ہر فورم پر بھرپور احتجاج کیا جائے گا،احتجاجی تحریک کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے مزید مشاورت کی جائے گی اور اے پی سی کو بھی حلف لینے اور سی ای سی کے فیصلوں پر اعتماد میں لیاجائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کیونکہ آپ سب نے جان لگائی،جو ہار گئے یا ہرائے گئے، سب طوفان سے نکل کر آئے ہیں۔اجلاس کے بعد (ن) لیگی ر ہنما خواجہ آصف نے میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔خواجہ آصف نے یاددہانی کرائی کہ تحریک انصاف کے مطالبے پر کمیشن (ن) لیگ کی حکومت نے بھی بنایا تھا۔انہوں نے کہا کہ کمیشن نان پی سی او ججوں پر مشتمل ہونا چاہیے، الیکشن پر وائٹ پیپر بھی شائع کیا جائے گا۔ قبل ازیں اجلاس میں (ن) لیگی رہنمااحسن اقبال نے کہا کہ 25جولائی کا الیکشن ملکی تاریخ کا متنازع ترین الیکشن ہوا، پاکستان کے اقتصادی مستقبل پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، معیشت کی جو بنیاد رکھی تھی اس کے ٹیک آف کا موقع تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک اناڑی حکومت پاکستان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی، اس سے ہماری 5 سال کی کاوشوں پر پانی پھر جائے گا، یہ پاکستان کے مستقبل کے ساتھ گھناونا کھیل کھیلا گیا ہے۔علاوہ ازیں فرحت اللہ بابر کی سربراہی میں پیپلزپارٹی وفد جس میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی،سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ ،سید نوید قمر،قمر زمان کائرہ اور دیگر شامل تھے نے ا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے منسٹر کالونی میں اسپیکر ہاؤس میں ملاقات کی جو ایک گھنٹے تک جاری رہی۔دونوں جماعتیں قومی وصوبائی اسمبلیوں میں حلف اٹھانے پر متفق ہوگئیں ہیں۔فرحت اللہ بابر نے میڈیا سے گفتگو کرتے کہا کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا مضبوط اور متحرک کردار ادا کیا جائے گا اور انتخابات میں دھاندلی میں ملوث قوتوں کو بے نقاب کیا جائے گا،الیکشن کمیشن قبل از اور بعدازاں دھاندلی کو روکنے میں ناکام رہا،دونوں جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان سے فی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیاہے، مرکز اور صوبوں میں تعاون پر اتفاق ہوگیا ہے، ملک میں کوئی بھی آئینی بحران پیدا نہیں ہونے دیا جائے گاتاکہ کسی طالع آزما کو جمہوریت کا بوریابستر گول کرنے کا موقع نہ مل سکے ،متحدہ مجلس عمل کی قیادت کو بھی اپنے موقف سے آگاہ کررہے ہیں،(ن)لیگ نے مثبت جواب دیا ہے ،اب متحدہ مجلس عمل کی قیادت سے ملاقات کے بعد پیپلزپارٹی، (ن)لیگ اورمتحدہ مجلس عمل کا مشترکہ مشاورتی اجلاس متوقع ہے تاکہ مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جاسکے۔ دوسری جانب متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن نے پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کے بعد سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی،سید خورشید شاہ اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ چھینے گئے عوام کے مینڈیٹ کی جنگ لڑیں گے،اس معاملے سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے، مینڈیٹ چوری، لوٹا اور ڈاکا ڈالا گیا ہے،فیصلے کے لیے مزید آل پارٹیز کانفرنس کا اجلاس ہوگا،یہ کانفرنس جلد ہوگی،ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں، آئین کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں مگر عوامی مینڈیٹ کو چرانا ناقابل قبول ہے، ہم(آج) پیر کو بھی مل بیٹھیں گے، بات چیت جاری ہے،جمہوری فیصلے کیے جائیں گے جب کہ مولانا فضل الرحمن نے آصف زرداری سے ٹیلیفونک رابطہ کیا،جس میں فضل الرحمن نے آصف زرداری کو متحدہ مجلس عمل کے احتجاجی پروگرام میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی انتخاب میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف دیگر سیاسی جماعتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہییں اور ہمارے احتجاجی پروگرام میں شرکت کرنی چاہیے ،جس پر آصف زرداری نے پارٹی سے مشاورت کے بعد شرکت کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلے کا عندیہ دیا ہے۔ ادھر پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے (ن)لیگ کو اہم بریک تھرو ملا ہے اور پیپلزپارٹی نے پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے(ن) لیگ کی مکمل حمایت کا عندیہ دیدیا ہے اور اس حوالے سے(ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی ملاقات میں پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت نے(ن)لیگ کو پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے ان کی حمایت کا مکمل اشارہ دیتے ہوئے ان سے مشاورت کے لیے مزید مہلت مانگ لی ہے۔پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے پنجاب میں تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور پیپلزپارٹی حکومت سازی کے دوران اپنا ووٹ (ن) لیگ کو دے گی جب کہ مشاورت کے لیے (ن) لیگ کاوفد پیپلزپارٹی کی7رکنی کمیٹی سے ملاقات کرے گا، جس کے بعدپنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔علاوہ ازیں پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے مسلم لیگ(ق) نے تحریک انصاف سے ڈپٹی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کا مطالبہ کر دیا ہے تاہم پی ٹی آئی مرکز اور پنجاب میں(ق)لیگ کو ساتھ رکھنا چاہتی ہے اس کے لیے تحریک انصاف نے (ق) لیگ کو مرکز میں وفاقی وزیر اور وزیر مملکت اور پنجاب میں ایک وزیر اور ایک مشیر کا عہدہ دیا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات جلد متوقع ہیجبکہ پی پی رہنماخورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ہم نے انتخابات کا نتیجہ مسترد کیا مگر اس کے باوجود پارلیمنٹ میں جائیں گے، عمران خان نے اکثریت لی ہے توحکومت بنائیں، پنجاب میں حکومت بنانے یا نہ بنانے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں،ہمیں اپوزیشن میں بیٹھ کر ملک کے لیے کردارادا کرنا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ