مصر: اخوان کے سربراہ سمیت 75 ارکان کو سزائے موت

186
قاہرہ: سماعت کے موقع پر سیاسی قیدیوں کو کمرہ عدالت میں پنجروں کے اندر بند رکھا گیا ہے
قاہرہ: سماعت کے موقع پر سیاسی قیدیوں کو کمرہ عدالت میں پنجروں کے اندر بند رکھا گیا ہے

قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مصر کی ایک عدالت نے 75 افراد کو موت کی سزا سناتے ہوئے ان کے کاغذات توثیق کے لیے مفتی اعظم کو بھیج دیے۔ ان افراد کو 5 سال قبل میدان نہضہ اور رابعہ عدویہ کے دھرنوں میں شریک ہونے کے بعد پُرتشدد حالات پیدا کرنے کے بے بنیاد الزامات کا سامنا تھا۔ مصر میں جس عدالت نے 75 افراد کو موت کی سزا سنائی ہے، ان میں اخوان المسلمون کے اعلیٰ سطح کے ارکان بھی شامل ہیں۔ سزائے موت پانے والوں میں ملک کی سب سے بڑے مذہبی،سیاسی اور سماجی جماعت اخوان المسلمون کے اعلیٰ ترین رہنما یعنیمرشد عام محمد بدیع بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 44ملزمان عدالت میں پیش کیے گئے، جب کہ دیگر 31مفرور ہیں۔ اس مقدمے میں 739افراد کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ ان سیاسی کارکنوں پر مصری دفتر استغاثہ نے سلامتی کے منافی اقدامات کرنے، قتل، اقدام قتل اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے تھے۔ عدالت نے موت کی ان سزاؤں پر ملکی مفتی اعظم کی توثیق طلب کی ہے۔ تاہم جامعہ ازہر سے تعلق رکھنے والے مفتی اعظم کی رائے پر عمل کرنا بظاہر لازم نہیں ہے۔ یہ ایک رسمی کارروائی قرار دی جاتی ہے۔ موت کی سزا کے خلاف اپیل صرف اعلیٰ عدالتوں میں کی جا سکتی ہے اور ان میں سماعت کے دوران مفتی اعظم کی رائے کو سامنے رکھا جاتا ہے، لیکن عدالت اس سے انحراف بھی کر سکتی ہے۔ عدالت کے سامنے 2013ء میں محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد دیے گئے دھرنے میں ملوث ملزمان کی تعداد 739 تھی۔ ان میں تحلیل شدہ مذہبی و سیاسی تنظیم اخوان المسلمون کے سپریم لیڈر کے علاوہ کئی مرکزی رہنما بھی شامل ہیں۔ مرکزی قیادت کے بیشتر رہنماؤں کو السیسی حکومت نے گرفتار کر کے پہلے ہی جیلوں میں ڈال رکھا ہے۔ آج کا فیصلہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی ایک فوجداری عدالت نے دیا ہے۔ عدالت نے ایک فوٹو جرنلسٹ محمود ابو زید کو بھی موت کی سزا سنائی ہے۔ جگر کے شدید عارضے میں مبتلا یہ فوٹو جرنلسٹ سن 2013 سے جیل میں ہے۔ تیس برس کے ابْو زید کو رواں برس اپریل میں یونیسکو پریس فریڈم کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ عالمی انسانی حقوق کے ادارے مصر کی عدالتوں کے فیصلوں اور نظام انصاف پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی اخبار الاحرام کے مطابق رواں برس 8 ستمبر کو 660 سے زائد افراد کی سزائے موت پر عمل کیے جانے کا امکان ہے۔ پھانسی کی سزا پانے والوں کے ناموں کی تفصیلات ابھی عام نہیں کی گئیں ہیں۔ بعض مصری ذرائع کے مطابق ان میں کئی دہشت گرد بھی شامل ہیں۔
سزائے موت

Print Friendly, PDF & Email
حصہ