اقوام متحدہ نے اسرائیلی جرائم کی تحقیقات امریکا کو سونپ دی

80
غزہ: قابض فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے 12سالہ مجدی سطری اور 17سالہ مؤمن ہمص کے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں
غزہ: قابض فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے 12سالہ مجدی سطری اور 17سالہ مؤمن ہمص کے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ نے فلسطین کے علاقے غزہ کی مشرقی سرحد پر حالیہ عرصے کے دوران اسرائیلی فوج کی انتقامی اور وحشیانہ کارروائیوں کی تحقیقات امریکا کو سونپنے کا اعلان کیا ہے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور تشدد کے واقعات کی تحقیقات سابق امریکی قانون دان ڈیوڈ کرین کو سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے مئی میں 30 مارچ کے بعد سے اسرائیلی ریاست کے جرائم اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی مظاہرین کے قتل عام کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔اس تحقیقاتی کمیشن کے ذمے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں وحشیانہ تشدد میں 156 فلسطینیوں کی شہادت کے واقعات کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔غزہ میں اسرائیلی فوج کے پُرتشدد حربوں کی تحقیقاتی کمیٹی میں سیراکوز یونیورسٹی کے قانون دان سمیت 3 افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ کرین 30 سال تک امریکی وفاقی حکومت میں عالمی قانون کی مہارت رکھتے ہیں۔ وہ امریکی وزارت دفاع میں پرانسپکٹرجنرل بھی رہ چکے ہیں۔تاہم دوسری طرف انسانی حقوق کے حلقوں نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی مظاہرین کے قتل عام کی تحقیقات کی نگرانی امریکا کو سونپنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب غزہ کی پٹی میں جمعہ کے روز فلسطینیوں کی ایک ریلی پر اندھادھند اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہونے والوں کی تدفین کردی گئی۔ دونوں شہدا کی تدفین ہفتہ کے روز کی گئی اور اس دوران ان کے اہل خانہ غم سے نڈھال تھے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ مشرقی غزہ میں فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج نے زہریلی آنسوگیس کی شیلنگ اور براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 فلسطینی شہری شہید اور 246 زخمی ہوگئے۔ شہدا کی شناخت 12سالہ مجدی سطری اور 17 سالہ مؤمن ہمص کے نام سے کی گئی ہے۔ زخمیوں میں سے 11 کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں لائے گئے زخمیوں میں 139 کو داخل کیا گیا ہے۔ 90 کو بندوق کی گولیاں لگی ہیں۔ زخمیوں میں 19 بچے، 10 خواتین، طبی عملے کے 4 کارکن اور ایک صحافی بھی شامل ہے۔
جرائم کی تحقیقات

Print Friendly, PDF & Email
حصہ