برکس ممالک تجارتی جنگ میں متحد رہنے کیلیے پر عزم

91
جوہانسبرگ: برکس ممالک کے سربراہ متحد رہنے کا عزم ظاہر کررہے ہیں
جوہانسبرگ: برکس ممالک کے سربراہ متحد رہنے کا عزم ظاہر کررہے ہیں

جوہانسبرگ (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں 5 ابھرتی معیشتوں کا سربراہ اجلاس ختم ہو گیا۔ بھارت، چین، برازیل، روس اور جنوبی افریقا پر مشتملبرکس ممالک کا سہ روزہ اجلاس 25 جولائی کو شروع ہوا تھا، جو جمعہ کے روز اختتام پذیر ہوا۔ اس اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، چین کے صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور برازیلی صدر میشال ٹمر کے علاوہ میزبان ملک کے صدر سیرل رامافوسا شریک تھے۔ اس اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں دنیا کی ابھرتی معیشتوں کے حامل ان ممالک کے رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ تجارتی جنگ کے منڈلاتے خطرات کے سائے میں اتفاق و اتحاد برقرار رکھا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیے کہا گیا کہ حالیہ کچھ عرصے میں بعض ترقی یافتہ اقوام کی جانب سے عمومی معاشی عوامل کے تناظر میں کیے جانے والے
اقدامات باعث تشویش ہیں۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ کہ پانچوں اقوام اس پر بھی متفق ہیں کہ کھلی عالمی اقتصادیات کے اس دور میں اس وقت کثیرالجہتی تجارتی سرگرمیوں کو شدید چلنجز کا سامنا ہے۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق قریبی اقتصادی روابط ان اقوام میں خوشحالی کا باعث ہوں گے اور یہ اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ اس اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے روس کے صدر پیوٹن نے کہا کہ برکس کے پاس ساری دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ رکھنے کا اعزاز حاصل ہے اور ان پانچوں رکن ممالک کا جی ڈی پی عالمی شرح نمو کا مشترکہ طور پر 42 فیصد بنتا ہے۔ اس اجلاس کے دوسرے دن اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا تھا کہ تنظیم کے رکن ممالک کو کثیر الجہتی پالیسیوں کے ساتھ نتھی ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ برکس اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور چین کسی حد تک تجارتی جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسی طرح برکس تنظیم کی پانچوں رکن ریاستوں کے درمیان قریبی رابطہ کاری کو مزید مستحکم کرنے پر روسی صدر نے بھی زور دیا۔ دوسری جانب جوہانسبرگ اجلاس سے تقریباً ایک ہفتے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہیلسنکی میں ملاقات بھی ہوئی تھی۔ جوہانسبرگ میں ہونے والے اس اجلاس میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی خصوصی شرکت کی۔ ان کی اجلاس میں شرکت مسلمان ممالک کی تنظیم او آئی سی کے سربراہ ملک کی حیثیت سے تھی۔ اردوان نے روسی صدر سے ملاقات میں شام کی صورت حال پر بات چیت کی۔
برکس ممالک

Print Friendly, PDF & Email
حصہ