اسرائیلی حکمرانوں میں ہٹلر کی روح بیدار ہوگئی‘ اِردوان

122
انقرہ: ترک صدر رجب طیب اِردوان کی حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے ساتھ فائل فوٹو
انقرہ: ترک صدر رجب طیب اِردوان کی حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے ساتھ فائل فوٹو

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اِردوان نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے یہودی قوم کی ریاست کے قانون کی منظوری پر تنقید کی ہے۔ صدر اِردوان نے اس قانون سازی کو نسلی تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں ترک صدر نے اسرائیل کو ایک فاشسٹ ریاست قرار دینے کے ساتھ یہ بھی کہا کہ وہاں ہٹلر کی روح بیدار ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اِردوان کا یہ بیان گزشتہ ہفتے اسرائیلی پارلیمان سے منظور ہونے والے قانون کے تناظر میں ہے ، جس میں اسرائیل کو ایک یہودی ریاست قرار دیا گیا ہے۔ ترک پارلیمان میں اپنی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے اراکین سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اِردوان نے کہا کہ اس وقت اسرائیلی ریاست صیہونیت نواز فاشسٹ اور نسل پرستانہ ملک بن گیا ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل میں منظور ہونے والے قانون کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرے۔ دوسری جانب انڈونیشیا کی حکومت نے اسرائیلی پارلیمان میں اسرائیل کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دینے کے متنازع قانون کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کنیسٹ میں یہودی قومیت سے متعلق قانون کی منظوری نے تنازع فلسطین کا حل مزید مشکل اور خطرات سیدوچار کردیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ