انتخابات کے لیے ایک کھرب کے اخراجات ڈالر130.3 سے 132روپے میں فروخت ہو رہا ہے،عوام پر مہنگائی کا عذاب

159

رپورت :قاضی جاوید

qazijavaid@jasarat.comVI30-Mufassir_Atta_Malik

حکمرانی میں شفاف اور عوامی خدمت کی پالیسی کی بڑی اہمیت ہے،سراج قاسم تیلی ،مفسر عطا ملک

پاکستان مسلم لیگ(ن) پاکستان میں امن اوراستحکام کی ضمانت ہے،وسیم وہرہ

بڑی سیاسی پارٹیوں کے انتخابی منشور میں اقتصادی حالت پر توجہ نہیں ہے، شاہد رشید بٹ

نئی منتخب ہونے والی حکومت معیشت کو بحال کرنے پر خصوصی توجہ دے۔ شیخ عامر وحید

تاجروں اور صنعتکاروں کی جسارت سے گفتگو
بیشتر سیاسی جماعتیں ملکی معیشت سے لا تعلق نظر آتی ہیں حکومت معیشت کی بحالی پر خصوصی توجہ دے ملک سنگین مسائل کی طرف بڑھ رہا ہے
ملک میں 25جولائی کو ہونے والے انتخابات کے بارے میں ایک اندازے کے مطابق 1کھرب سے زائد کے کھلے اخراجات ہو رہے ہیں لیکن ان حکومتوں کی آمد سے ملکی معیشت تباہ کن صورتحال کا سامنا ہے انٹر بینک اور مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں23 جولائی کو روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق انٹر بینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر3پیسے کم ہو گئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید 128.43روپے سے کم ہو کر128.30روپے اور قیمت فروخت 128.53روپے سے کم ہو کر128.50روپے ہو گئی اسی طرح مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں80پیسے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید 130.30روپے سے کم ہو کر129.50روپے اور قیمت فروخت 130.80روپے سے کم ہو کر130روپے پر آ گئی ۔ اس کے اثرات پوری میعشت پڑ رہے ہیں
نگراں حکومت کے دور میں اسٹاک مارکیٹ میں بھونچال آ تا اور جاتا رہا ،نگراں حکومت کے ابتدائی 22 دن پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوئے۔ اس دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں ساڑھے تین ہزار پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے جس سے سرمایہ کاروں کے کھربوں روپے کا خسارہ۔ مارکیٹ میں اس بڑی مندی کی وجہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کی ’’ گرے لسٹ‘‘ میں شمولیت، عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی جانب سے پاکستان کے زرمبادلہ میں کمی کے بارے میں منفی رپورٹ، الیکشن سے متعلق شکوک و شبہات اوwaseemر نواز شریف فیملی کے خلاف احتساب عدالت کا متوقع خلاف فیصلہ شامل ہیں۔ اسٹاک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں متوقع شمولیت کے باعث مارکیٹ دو ہفتے تک خوف اور غیر یقینی کیفیت کا شکار رہی۔ 19تا 22 جون کاروباری ہفتے کے دوران مارکیٹ گرنے سے 100 انڈیکس میں مجموعی طورپر 2043 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ پھر مارکیٹ کو موڈیز کی رپورٹ نے مندی سے دوچار کیا۔ 4 جولائی کا دن سرمایہ کاروں کے لیے قیامت خیز ثابت ہوا اور انڈیکس 1219 پوائنٹس کی کمی سے 40346 پوائنٹس پربند ہوا۔ 282 حصص کی قیمتیں گریں اور صرف 20 حصص کے قدم اکھڑ نہیں سکے تھے۔

ہر انتخابات کی طرح الیکشن 2018 میں بھی ملک بھر کی تاجر برادری نے اپنی پسندیدہ یا کاروبار کے لئے سازگار سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر اربوں روپے لٹادیے ہیں۔ صف اول کے ارب پتی تاجروں، صنعتکاروں اور اسٹاک بروکرز نے اربوں روپے محض ’’مستقبل کی سرمایہ کاری‘‘ کی نیت سے خرچ کیے ہیں۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کے اخراجات کی حد گزشتہ الیکشن کی نسبت خاطرخواہ بڑھائی ہے تاہم ای سی پی کی جانب سے اخراجات میں اضافے کے باوجود رقوم اتنی نہیں ہیں کہ الیکشن کو بڑے پیمانے پر لڑا جاسکے۔ مالیاتی ماہر جمال صدیقی نے کہا کہ کاغذات نامزدگی داخل کرانے کے وقت سے الیکشن کے دن تک قومی و صوبائی اسمبلی کی انتخابی مہم میں خطیر رقوم درکار ہوتی ہیں جن کا انتظام امیدواروں کو خود کرنا پڑتا ہے۔ ہرالیکشن میں تاجروں کو کراچی سے پشاور تک کے امیدواروں کو مالی معاونت کرنی پڑتی ہے۔ سب سے زیادہ فنڈنگ اس جماعت کی ہوتی ہے جس کے اقتدار میں آنے کے قوی امکانات ہوتے ہیں‘ پھر اس جماعت کے متوقع وفاقی وزرا پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے مالیاتی تجزیہ کار عقیل عبدالرزاق نے کہا کہ ہر الیکشن میں ملک میں سب سے زیادہ فنڈنگ اسٹاک ایکسچینج سے کی جاتی ہے اور ٹاپ بروکرز مضبوط امیدواروں پر پیسہ پانی کی طرح بہاتے ہیں۔

مفسر عطا ملک صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سراج قاسم تیلی ، چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کے سی سی آئی
وائس چیئرمین بی ایم جی اور سابق صدورکے سی سی آئی طاہر خالق صاحب،زبیر موتی والاصاحب،ہارون فاروقی ،انجم نثار
کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدرعبدالباسط عبدالرزاق نائب صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف سابق صدور ،نے جسارت سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ کراچی چیمبرکو ملک کا سب سے بڑا چیمبر ہونے کے ناطے کراچی کی 90فیصد سے ذائد تاجروصنعتکاربرادری کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔ کراچی چیمبر کے براہ راست ممبران کی تعداد24ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ جبکہ کے سی سی آئی سے الحاق شدہ ساتوں صنعتی ٹاؤن ایسوسی ایشنز کےdownload (2) 55ہزار سے زائد ممبران بھی ہمارے چیمبر سے بلاواسطہ منسلک ہیں۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ کراچی چیمبر کی ترقی اور کامیابی بزنس مین گروپ کے چیئرمین اور سابق صدر کراچی چیمبر سراج قاسم تیلی کی رہنمائی میں شفاف اور عوامی خدمت کی پالیسی کی بدولت ممکن ہوسکی ۔آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ بزنس مین گروپ کراچی چیمبرکے انتخابات میں پچھلے 20سال سے مسلسل کامیابی حاصل کررہاہے۔ ۔جبکہ گزشتہ11برس سے منیجنگ کمیٹی کے ارا کین بلا مقابلہ منتخب ہو رہے ہیں اور اس سال بھی انشاء اللہ ہم ہی کراچی چیمبر کے انتخابات میں تمام سیٹوں پر کامیابی حاصل کریں گے جس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ شہر بھر کی تاجر و صنعتکار برادری کو بی ایم جی کی پبلک سروس پر مکمل بھروسہ ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ جس طرح سراج تیلی صاحب کی سربراہی میں کراچی چیمبر نے عوام الناس کی خدمت کی ایسا کوئی اورکر ہی نہیں سکتا ۔۔
جسارت کو بتانا چاہتا ہو ں کہ کراچی چیمبر اور بزنس مین گروپ کا ملکی و صوبائی سطح پر سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم بحیثت ادارہ کسی بھی سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتے تاہم ہمارے دروازے تمام سیاسی جماعتوں کے لئے ملک اور اس شہر کے وسیع تر مفاد میں ہمیشہ ہی کھلے رہتے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہم سب غیر سیاسی ہیں ہم میں سے کئی بی ایم جی اینز ایسے بھی ہوں گے اور ہیں جو کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے انفرادی طور پرجڑے ہیں اور کچھ لوگ آپ کی پارٹی سے بھی منسلک ہیں لیکن بحیثیت ادارہ ہم کسی بھی جماعت کی سیاسی سرگرمیوں کو سپورٹ نہیں کرتے۔ ہماری تمام تر توجہ تاجر وصنعتکار برادری کے مسائل کو حل کرنے پر مرکوز رہتی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہم تمام ہی سیاسی جماعتوں چاہے پی ٹی آئی ہو،مسلم لیگ نون ہو، پیپلز پارٹی ہو ، ایم کیو ایم ہو ، اے این پی ہو یا پھر کوئی اورجماعت ہو ہم سب ہی سے مضبوط روابط قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسا کہ الیکشن سر پر ہیں اور پی ٹی آئی اس سال کے انتخابات میں بھرپور طریقے سے مقابلے کی تیاریوں میں مگن ہے لہذا ہم نے یہ ضروری سمجھا کے آپ کو مدعوکیا جائے تاکہ کراچی کی پوری تاجر و صنعتکار برادری کو پی ٹی آئی کے اکنامک ایجنڈا کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جاسکے بالخصوص اگر آپ کی پارٹی انتخابات میں اکثریت حاصل کرتے ہوئے حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ کراچی شہر کے مسائل کو حل کرنے کے لئے آپ کی کیا حکمت عملی ہوگی۔یہاں میں یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا کہ وہ کراچی چیمبر تشریف لائیں اور تاجر وصنعتکار برادری کو اکنامک ایجنڈا کے حوالے سے بریفنگ دیں۔ مسلم لیگ نون کے صدر جناب شہباز شریف صاحب نے پچھلے دنوں کراچی کا دو مرتبہ دورہ کیا پر افسوس کہ کراچی چیمبر کے بلانے کے باوجود وہ ہمارے پاس نہیں آئے۔ میں عمران خان صاحب کو کے سی سی آئی کے ممبران کی جانب سے بھرپور الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے ہماری دعوت کو قبول کیا اور آج وہ ہم سب کے درمیان موجود ہیں۔ ملکی خزانے میں65 فیصد سے ذائد ریونیوجمع کرانے والے کراچی شہر کو درپیش چند اہم مسائل کی جانب دلانا چاہوں گا تاکہ اگر پوری قوم آپ کو ملک کی سربراہی سونپتی ہے تو آپ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے حکومتی منصب سنبھالتے ہی فوری طور پر احکامات جاری کریں۔
کراچی کی اہمیت کو کم کرنے کے مقصد سے پچھلی حکومت نے کئی اداروں کو لاہور اور اسلام آباد منتقل کرنے کی کوشیشیں کیں اورمختلف ادارے منتقل بھی کئے گئے جو کراچی کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔ ہم کسی شہر یا صوبے کے ہر گز خلاف نہیں کیونکہ وہاں رہنے والے بھی ہمارے ہی بھائی ہیں ۔ تاہم ہمارا مطالبہ صرف اور صرف اتنا ہے کہ کراچی شہر کو اس کا جائز حق ملنا چاہئے ۔ اس سلسلے میں ہم نے گزشتہ کئی سالوں سے بھرپور جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے اور ہمیں مختلف مواقعوں پر یقین دہانیاں بھی کروائی جاتی رہیں پر افسوس کہ عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آئے۔ ان تمام تر مشکلات، سازشوں اور منافقت کے باوجود آج تک یہ شہر ملکی معیشت میں سب سے زیادہ ریونیو جمع کرا رہاہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اس شہر کے ٹیکس گزاروں کے ساتھ جو ناروا سلوک جاری ہے اُ س سے ہر شخص بخوبی واقف ہے۔ کراچی چیمبر نے ایف بی آر کو دیئے گئے بے پناہ صوابدیدی اختیارات کو ختم کرانے کے لئے انتھک محنت و جدوجہد کی اور ماضی میں ہمیں کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں تاہم اسحاق ڈار صاحب کی مہربانی سے ایف بی آر کو وہی صوابدید ی اختیارات دوبارہ نواز دیئے گئے جنہیں استعمال کرکے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی غرض سے تاجر وصنعتکار برادری کو حراساں کیا جاتا ہے اور صرف موجودہ ٹیکس گزاروں کو ہی مزید نچوڑا جاتا ہے۔ ایف بی آر کی توپوں کا رخ عموماً کراچی کی تاجر و صنعتکار برادری کی جانب رہا ہے ۔ ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ اگر پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو کیا یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا یا ایف بی آر کی غنڈہ گردی ختم کرنے کے لئے موئثر حکمت عملی وضع کی گئی ہے اور اسے ٹیکس دوست ادارہ بنایا جائے گا جو کراچی کی تاجر برادری کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔میں آپ کی توجہ کراچی کے خستہ حال انفرااسٹرکچر کی جانب بھی مبذول کروانا چاہوں گا۔صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی نظام فعال طریقے سے کام کرتا نظر آتا ہے لیکن یہاں آج تک سالوں سے صرف اور صرف ا ختیارات کی جنگ ہی دیکھی گئی جس کی وجہ سے اس شہر میں ترقیاتی منصوبے بری طرح متاثر ہوئے اور کاروباری ماحول دن بہ دن بگڑتا چلا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی کے پورے انفراسٹرکچر پر نہ صرف صوبائی بلکہ وفاق کی جانب سے بھی خاص توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے جبکہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو بھی مزید بہتر بنانا ہوگا اور کراچی کو پانی کے بحران سے بچانے کے لئے کے فور منصوبے کی جلد تکمیل کے ساتھ ساتھ مختلف نئے منصوبے بھی متعارف کرانا ہوں گے ورنہ ہمیں ڈر ہے کہ یہ شہر پانی کی ایک ایک بوند کو ترسے گا اور اس کی معاشی سرگرمیاں تباہ ہوجائیں گی۔کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی،سڑکوں اورانڈرپاسز کی تعمیر و مرمت ،ٹریفک جام سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی وضع کرنے،ساتوں صنعتی زونز میں انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے رقوم مختص کرنے کے علاوہ،محکمہ تعلیم،کے ایم سی اور کے ڈبلیو ایس بی سے گھوسٹ ملازمین کو نکالنے،بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے فنڈز، بجلی،گیس و پانی کی بلا تعطل فراہمی اور بحران پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات عمل میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔تمام سیاست دانوں کو اس بات کا احساس کرنا ہوگا کہ کراچی شہر کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بناتے ہوئے سرمایہ کاری کے لحاظ سے پرکشش مقام بنانے سے ہی ملکی معیشت بحران سے نکل پائے گی ورنہ یہ ملک مشکلات میں ہی گھرا رہے گا جس کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ کراچی وہ شہر ہے جو پورے ملک کو چلاتا ہے اور اس شہر کو نظر انداز کرنا پورے ملک کو نظر انداز کرنے کے برابر ہے۔کئی سالوں سے جاری برآمدی شعبے کی مایوس کن کارکردگی سے نمٹنے کے لئے بھی کوئی اقدامات عمل میں نہیں لائے گئے اور معیشت کو بہتر بنانے کے بجائے ہمیں تو پیپلز پارٹی اور نواز حکومت کے دور میں صرف پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے سوا دور دور تک کچھ نظر نہیں آیا۔پچھلی حکومت کی جانب سے کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، وزیر داخلہ چودہری نثار اور کئی وزراء کے پاس کراچی چیمبر کا دورہ کرنے کے لئے وقت ہی نہیں تھا ۔ ہم کئی مواقع پر ان سب سے گزارشات کرتے رہے ہیں کہ وہ یہاں آئیں اور کراچی کی تاجر و صنعتکار برادری کے مسائل سنیں لیکن افسوس وہ یہاں آنے سے کتراتے رہے کیونکہ یہاں انہیں واہ واہ کے بجائے صرف سچ سننے کو ملتا تھا اور سوالات کئے جاتے تھے۔افسوس کہ کراچی کے مسائل وفاق کی ترجیحات میں عرصہ دراز سے کہیں نظر نہیں آئے۔ آپ کی پارٹی نے تبدیلی کا نعرہ لگایا اور عام آدمی کی آواز بن کر اُ بھرے۔۔۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ جو تبدیلی کے سہانے خواب دکھلائے گئے ہیں وہ جلد اس ملک بالخصوص کراچی شہر کے لئے حقیقت بن کر سامنے آئیں گے۔مجھے اُمید ہے کہ اگر تبدیلی آئی تو انشاء اللہ وہ کراچی کے حق میں ہو گی۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ عامر وحید، سینئر نائب صدر محمد نوید ملک اور نائب صدر نثار مرزا نے پرزور مطالبہ کیا کہ نئی منتخب ہونے والی حکومت معیشت کی بحالی پر خصوصی توجہ دے کیونکہ معیشت کی موجودہ کمزور صورت حال کی وجہ سے ملک سنگین مسائل کی طرف بڑھ رہا ہے جو تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کرنسی کی قدر گر کر 130روپے فی ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو ملکی تاریخ میں روپے کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ بھی 2017-18میں بڑھ کر 37ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے کیونکہ اس عرصے میں ہماری درآمدات 60ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہیں جبکہ برآمدات بمشکل تقریبا 23ارب ڈالرتک پہنچی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی جولائی 2017میں 20.2ارب ڈالر سے کم ہو کر 13جولائی 2018تک 15.68ارب ڈالر تک آ گئے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ ایک سال کے عرصے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 22فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا غیر ملکی قرضہ بڑھ کر تقریبا 92ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جس سے معیشت کیلئے متعدد مسائل پیدا ہوں گے۔ آئی سی سی آئی کے عہدیداران نے کہا کہ دفاع اور صحت و تعلیم سمیت تمام شعبوں کی بہتر ترقی کا دارومدار ایک مضبوط معیشت پر ہے لیکن موجودہ معاشی اعشاریے اس بات کے عکاس ہیں کہ پاکستان کی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ 25جولائی کے انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونی والی حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد ماہرین معیشت اور بزنس لیڈرز پر مشتمل ایک تھنک ٹینک بنائے جو معیشت کو موجودہ مشکلات سے نکالنے اور پائیدار ترقی کے راستے پر ڈالنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، تجارتی وصنعتی سرگرمیوں کے بہتر فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے ، برآمدات کو فروغ دینے اور ملک کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنے کیلئے معیشت کی مضبوطی بنیادی شرط ہے۔ شیخ عامر وحید نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کسی بھی معیشت کی ترقی میں انجن کا کردار ادا کرتا ہے لیکن پاکستان میں اس وقت ایس ایم ایز کو متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی منتخب ہونے والی حکومت نجی شعبے کی مشاورت سے ایس ایم ای شعبے کی بہتر ترقی کیلئے ایک نئی ایس ایم ای پالیسی تشکیل دے تا کہ یہ شعبہ معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکے۔

ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب اور پاکستان مسلم لیگ(ن)کے پی ایس 110سے امیدوار صدرمحمدوسیم وہرہ نے کہا ہے کہ کراچی کاامن میاں نوازشریف نے بحال کیا ہے اور مستقبل میں کراچی کو پتھروں کے دور میں لے جانے کی کوششیں کرنے والی سیاسی جماعتوں اور10سال تک صوبے میں حکمرانی کرنے والوں سے نجات حاصل کرکے ہی ترقی کی جانب بڑھا جاسکتا ہے،یہ حقیقت ہے کہ معاشی آزادی کے حصول تک دنیا میں ہماری عزت نہیں ہوگی، نواز شریف سے ایٹمی دھماکوں،لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے کئے گئے اقدامات اور بجلی کئے منصوبوں کے قیام،سی پیک اور موڑر ویز بنانے کا کریڈٹ چھیننے کے خواب دیکھنے والے حقائق کا سامنا کریں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے حلقے کے ایم علاقے صدر رینبو سینٹر کے دورے کے موقع پر رینبو سینٹر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور رہائشیوں سے ملاقات کے دوران کہی۔وسیم وہرہ نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) پاکستان میں امن اوراستحکام کی ضمانت ہے،عوام 25جولائی کو شیر پرمہر لگا کر مسلم لیگ(ن)کو کامیاب بنائیں گے کیونکہ وہ ملک کی واحد جماعت ہے جو اقتدار میں آ کرکراچی سمیت کئی شہروں کو لاہورجیسے منصوبے دیگی،پاکستان مسلم لیگ(ن)کے صدرمیاں شہباز شریف نے کراچی، پشاوراور کوئٹہ کو لاہور بنانے کا وعدہ کیا ہے اور وہ اپنے وعدے پورے کرتے ہیں ۔وسیم وہرہ نے کہا کہ ماضی میں حکمرانی کرنے والی سیاسی جماعتوں نے شہریوں کو سبز باغ دکھائے اوربعد میں انکے یہ خواب بھی چھین لئے گئے ،جھوٹے وعدے اور سہانے خواب دکھانے والوں کی نا اہلیاں قوم کے سامنے ہیں جبکہ عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی صرف پاکستان مسلم لیگ(ن) کے دور میں ممکن ہوئی۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام جھوٹے وعدوں کی بجائے کراچی کے امن کے حقیقی علمبردار میاں محمد نواز شریف کے نامزد امیدواروں کا ساتھ دے کر اپنے شہر کی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کا عہد کریں۔

اسلام آباد چیمبر آف ا سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں کے انتخابی منشور میں ملک کی اقتصادی حالت، دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول، زرمبادلہ کے ذخائر کی زبوں حالی اور تجارتی خسارے سمیت متعدد اہم امور کا کوئی ذکر نہیں ہے جس سے عوامی مسائل کے حل میں ان کی عدم دلچسپی کا پتہ چلتا ہے۔کئی جماعتوں کے منشور اہم قومی معاملات پر یا تو خاموش ہیں یا مبہم جو افسوسناک ہے۔ شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ آمدنی اور اخراجات میں فرق ملک کو دیوالیہ کرنے کے لیے کافی ہے جس سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ لینا واحد آپشن نظر آتا ہے مگر بڑی سیاسی جماعتیں اس بارے میں خاموش رہنے کو ترجیح دے رہی ہیں جوعوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے ۔ ن لیگ پانچ سال تک اقتدار میں رہی ہے اور اسے ملک کی اقتصادی حالت کا زیادہ بہتر اندازہ ہے اس لیے اس کی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہے جبکہ نگران حکومت کھل کر کہہ رہی ہے کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ لینا ناگزیر ہو گیا ہے۔سابقہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے کے سبب ملکی معیشت تباہی کے دہانے تک پہنچ گئی ہے مگر سیاسی پارٹیاں اس ساری صورتحال سے لا تعلق نظر آ رہی ہیں جو افسوسناک ہے۔انھوں نے کہا کئی حلقوں کا خیال ہے کہ اہم پالیسی فیصلے کر کے اور روپے کی قدر میں بار بار کی کمی کر کے نگران حکومت اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کر رہی ہے جبکہ ملکی معیشت کو اس حال تک پہنچانے والوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرنا افسوسناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیر ملکی بینکوں میں پاکستان کے کئی سو ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں جنھیں واپس لا کر قرضہ اتارنے اور ڈیم بنانے پر لگایا جائے۔

سائٹ ایسوسی ایشن کے سابق وائس چیئرمین اور ویونگ مل ایسوسی ایشن کے صدر یوسف یعقوب نے کہا ہے کہ نئی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال کو درست کر ے ملک اس وقت مہنگائی کے سیلاب میں ڈوب رہا ہے،بیشتر سیاسی جماعتیں ملکی معیشت سے لا تعلق نظر آتی ہیں اور ان کی تمام تر توجہ غیر اہم اور سیاسی معاملات پر مرکوز نظر آ تی ہے ۔ جسارت سے گفتگو کر تے ہو ئے یوسف یعقوب نے مزید کہا کہ ملک کو اقتصادی تباہی سے بچانے کے لیے ایک قابل عمل منصوبے کی ضرورت ہے،پاکستان کو اس وقت فوری معیشت کی ترقی کے لیے بیل آؤٹ پیکج اور اس کے بعد ایک نئی اسٹرٹیجک تجارتی پالیسی کی ضرورت ہے جو برآمدات کو جارحانہ انداز میں بڑھائے،ایسی پالیسی تمام شراکت داروں کی بھرپور مشاورت سے بنائی جائے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔یوسف یعقوب کا کہنا ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتیں ملکی معیشت سے لا تعلق نظر آتی ہیں اور ان کی ساری توجہ غیر اہم معاملات پر مرکوز ہے جب کہ2018ء کے جاری حسابات کا خسارہ18 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو 2برس قبل صرف 4.87 ارب ڈالر تھا جس نے ملک کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، گزشتہ 2 برس کے دوران پالیسی ساز درآمدات میں کمی لانے میں ناکام رہے ہیں جس سے2018 ء میں اس کا حجم 66 ارب ڈالر سے بڑھ گیا ،برآمدات کی بہتات نے مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو 9 ارب ڈالر سے نیچے دھکیل دیا ہے،کرنسی کی قدر میں4بار کی کمی اور دیگر اقدامات سے برآمدات میں 2.7 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا مگر قرضوں میں کھربوں روپے کا اضافہ ہوا جس سے عوام کی مالی حالت مزید خراب ہو کر رہے گی ہے ،ملک اس وقت مہنگائی کے سیلاب میں ڈوب رہا ہے ،کاروباری برادری سراسیمہ ہے جب کہ درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے اور مرکزی بینک کے نیم دلانہ اقدامات سے افراط زرمیں اضافہ اور عدم استحکام کے علاوہ کوئی مقصد حاصل نہیں ہوا ہے۔
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ نئی حکومت کے منی بجٹ سے معاشی صورتحال مزیدتباہ کن ثابت ہوسکتی ۔ تمام درآمدی مصنوعات پر ریگولیٹری ڈیوٹی 1فیصد سے بڑھا نے سے درآمدی خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا، جس سے کاروبار کرنے کی لاگت اور قیمتوں میں اضافہ ہوگا ، جس سے زندگی کا ہر طبقہ متاثر ہوگا۔ ا مپورٹ بل کو کم کرنے اور فارن ریزروز پر بڑھتے ہوئے پریشر کو قابو کرنے کے لئے درآمدات پر مختلف طریقوں سے قدغن لگانے کے بجائے برآمدات بڑھانے پر توجہ دی جائے۔ 7200درآمدی مصنوعات پر ایک فیصد ڈیوٹی عائد کرنا یا 1550لگژری مصنوعات پر ڈیوٹی میں اضافہ کرنے سے وقتی طور پر امپورٹ بل کنٹرول کرنے اور ریوینیو میں اضافہ کرنے میں معاون ہوسکتاہے، لیکن اس سے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی میں مزیدہوش ربا اضافہ ہوگا اورصورتحال صنعتی وکاروباری طبقہ اور عوام کے لئے مزیدپریشان کن ہوجائیگی۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ٹیکسز میں اضافہ سے صنعتی سیکٹربھی شدید متاثر ہوگا جس سے مزید مسائل جنم لینگے، نگران حکومت کسی بھی قسم کے معاشی اقدامات سے گریز کرے اور تمام معاشی اقدامات آنے والی منتخب حکومت پر چھوڑ دئے جائیں، آنے والی حکومت ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے ایسے اقدامات کرے جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے لئے قابل قبول ہوں اور جس سے ملکی معیشت پر غیر محدود مثبت اثرات مرتب ہوں۔میا ں زاہد حسین نے کہا کہ کسٹمز کی طرف سے درآمدات کے ڈیوٹی استثنا کے کاغذات کی مکمل جانچ کے لئے اقدامات قابل تعریف ہیں لیکن اس میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ درآمدی اداروں اور دیگر امپورٹرز کو بے جا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2018میں کسٹم ڈیوٹی رعایت198.2ارب روپے تک پہنچی جو مالی سال 2017سے 31.2فیصد زائد تھی، جس میںیہ رقم 151ارب روپے تھی۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے امپورٹ بل کو کم کرنے کے لئے درآمدات پر ایڈوانس پیمنٹ کی سہولت ختم کردی گئی، اس اقدام سے ڈالرز کے بیرون ملک منتقلی پر قابو پایا جاسکے گا مگر درآمدات کرنے والے اداروں اور افراد کو زیادہ وقت درکار ہوگا، جس سے کاروبارمتاثر ہونگے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے تمام بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ مختلف درآمدی مصنوعات پر 100فیصد کیش مارجن وصول کیا جائے جس سے بڑھتی ہوئی درآمدات قابو ہوسکیں گی۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ ان اقدامات سے کاروباری طبقہ کی پریشانیوں میں مزیداضافہ ہوگا اور ملکی معیشت کوخاطر خواہ نتائج نہیں حاصل ہوسکیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com