انتہائی حساس5700 اور 6000 حساس پولنگ اسٹیشن ہیں ،آئی جی سندھ

110
کراچی:انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ امجد جاوید سلیمی نے کہا ہے کہ انتخابات کی سیکیورٹی کے لیے منصوبہ بندی کرچکے ہیں،پورے پاکستان سمیت صوبہ سندھ میں بھی سب سے پرامن انتخابی مہم رہی ہے، اس بار سیاسی قیادت اور عوام نے ضابطہ اخلاق کی مثالی پابندی کرنے کا مظاہرہ کیا ہے، 5700 انتہائی حساس اور 6000 حساس پولنگ اسٹیشن ہیں،پولیس نے الیکشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل کروایاہے اور ہر5 پولنگ اسٹیشن پر پولیس کی بائیک پر پٹرولنگ کی جائے گی، انتخابات کے لیے 1 لاکھ پولیس
اہلکار تعینات کی گئی ہے، 25 جولائی کے انتخابات میں ہر علاقے کا ایس ایچ او 2 موبائل اسکواڈ کے ساتھ متحرک ہوگا
جبکہ گراؤنڈ پر پولیس نفری بھی موجود ہوگی، انتخابات کے دوران ریپڈ رسپانس ٹیم بنائی گئی ہے جوانتخابات کے دوران ممکنہ ہنگامہ آرائی کی صورت میں فوری کاروائی کرے گی ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو کورنگی ایسوسی ایشن آف زانڈسٹری(کاٹی)میں تاجروں سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پرسینیٹر عبدالحسیب خان، کاٹی کے سینئرنائب صدرسلمان اسلم،نائب صدر جنیدنقی،کائٹ لمٹیڈ کے سی ای اوزبیرچھایا،فرحان الرحمان اور دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ دانش خان، جوہرعلی قندھاری،عبدالسمیع خان اور دیگر بھی موجود تھے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ سندھ پولیس کو شہری دوست پولیس میں تبدیل کررہے ہیں،بہتر تربیت کے ساتھ پولیس سسٹم کو جدید خطوط کرنے کی منصوبہ بندی ہے، پولیس کی تفتیش کی صلاحیت بڑھانے تربیتی تفتیشی کورس کا آغاز کیا جارہا ہے،کراچی میں جدید فرانزک لیبارٹری بنارہے ہیں،جدید فرانزک لیب میں ڈی این اے کی تشخیص بھی ہوسکے گی، پولیس نے اس شہر کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا خون بہایا ہے اور اس شہر کوئی نوگو ایریا نہیں ہوگا
،بھتہ خوری اور اغوابرائے تاوان کا شہر میں کوئی مستقبل نہیں ہے،تاجروصنعتکاروں کے ساتھ ملکر سیکورٹی پلان ترتیب دیں گے۔انکا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ پولیس امجد جاوید سلیمی نے کہا کہ صنعتی شعبہ ریونیو کما کردینے کا اہم شعبہ ہے ، کراچی کے انتہائی خراب حالات میں بھی صنعتکاروں نے اپنا کاروبار چلایا ،میں کراچی کے صنعتکاروں کو سلام پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ میں کئی ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا گیا اعر ان سے تفتیش کی جارہی ہے
،جرائم کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے اسکا تدارک ضروری ہے،میں نے جب آئی جی سندھ کا چارج سنبھالا تو ایک تاجرتاوان کے لیے اغوا تھا جسے تاوان کے بغیر پولیس نے بازیاب کیا،سورج غروب ہوتے ہی ٹریفک جام کی شکایات ہیں، پولیس صنعتی علاقوں کے لیے موثر ٹریفک پلان ترتیب دے گی،کمیونٹی پولیسنگ دنیا بھر میں کامیاب نظام ہے، پاکستان میں مخصوص حالات کی وجہ سے کمیونٹی پولیسنگ نہیں کی جاسکتی، پولیس بیوروکریسی کا پہلا چینل ہے جس سے عوام کا رابطہ ہوتا ہے،اگر بہتر معاشرہ چاہیئے تو پولیس کو بہتر بناناہوگا، اگر معاشرہ بہتر نہیں ہوگا تو پولیس بھی بری ہوگی۔آئی جی نے کہا کہ شہر میں موٹرسائیکلوں کی چوری کی شرح بڑھ رہی ہے
یومیہ 50 سے60 موٹرسائیکلوں کی چوری ہورہی ہے جن میں سے پولیس ریکوری کی شرح 50 فیصد ہے، موٹرسائیکلوں کی چوری میں50 افراد پر مشتمل خاندان کو پکڑاہے،موٹرسائیکل چور خاندان 2000 موٹرسائیکلیں چوری کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اسٹریٹ کرائم کا سبب ہے، بے روزگاری کے خاتمے میں بزنس کمیونٹی کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے، شہر میں اسٹریٹ کی شرح کم ہوئی ہے،اسٹریٹ کرائم کی بیخ کُنی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، گزشتہ ایک ماہ میں تمام متعدد جرائم پیشہ گروہ گرفتار کیے ہیں اور گینگ کی فہرست تیار کررہے ہیں، مفرور افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ پولیس شہر کو جرائم سے پاک کرکے امن قائم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے
رینجرز سمیت پولیس نے امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اور کاٹی کی لاء اینڈ آرڈرجنیٹی کے چیئرمین ندیم خان نے 15مدد گار کے ذریعہ کورنگی صنعتی علاقے میں بزنس کمیونٹی اور پولیس کے مابین ایک بہتر رشتہ قائم کیا ہے اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ کورنگی صنعتی علاقہ کرائم فری بن چکا ہے۔
سی ای او کائیٹ لمیٹڈزبیر چھایا نے کہا کہ شہر سے اب تک لینڈ گریبنگ ختم نہیں ہوئی ہے، تمام سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ تھے جس کے اثرات اب بھی باقی ہیں،آپریشن سے پہلے شہر میں نو گو ایریا تھے، لیکناب کراچی میں کوئی نو گو ایریا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کورنگی انڈسٹری ایریا میں اسٹریٹ کرائم بڑھ گئے ہیں، غیر ملکی خریداروں اور صنعتکاروں کی گاڑی روک کر لیب ٹاپ اور نقدی چھنی جاتی ہے، پولیس کراچی میں تین زون میں بٹی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مہران ٹاؤں اب نو گو ایریا نہیں رہا لیکن وہاں زمینوں پر قبضے کے مسائل حل طلب ہیں جس کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے
Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com