انتخابات کو متنازع بنایا جا رہا ہے‘ ، کمزور جمہوریت آمریت سے بہتر ہے، بلاول

123
دادو: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری جلسے سے خطاب کررہے ہیں
دادو: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری جلسے سے خطاب کررہے ہیں

سہون شریف/ اسلام آباد (خبر ایجنسیاں/ نمائندگان جسارت) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ عام انتخابات کو متنازع بنایا جا رہا ہے‘ جتنی بھی کمزور جمہوریت ہو آمریت سے بہتر ہوتی ہے‘ ہمارا دھیان الیکشن پر ہے اور اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے پر ہے‘ پیپلز پارٹی مسائل کا حل نکال سکتی ہے‘ جیت تیر کی ہوگی‘ گالم گلوچ کی نہیں نظریات اور اصولوں کی سیاست کر رہا ہوں‘ کسانوں و مزدوروں کو حقوق اور غریب خواتین کو بلاسود قرضے دیں گے‘ کامیاب جلسوں کے باعث مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو سہون شریف دربار پر چادر چڑھانے کے بعد میڈیا سے گفتگو، ریلی سے خطاب اور پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بلاول زرداری نے کہا کہ الیکشن کو متنازع بنایا جارہا ہے اور
میری انتخابی مہم زور شور سے جاری ہے اور ہمیں عوامی رسپانس بھی بہت اچھا مل رہا ہے، امید ہے انتخابات میں بھی بہتر نتائج دیں گے اور بی بی شہید کے وعدے کی تکمیل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسانوں اور مزدوروں کو ان کے حقوق دیں گے جبکہ غریب خواتین کو بلاسود قرضے بھی دیں گے‘ ہم نے سندھ میں کئی یونیورسٹیاں اور نئے اسپتال بنائے ہیں‘ لیاری میں پیپلز پارٹی کے خلاف احتجاج ایک سازش کے تحت کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو وفاق کی علامت ہے اور جس کی جڑیں عوام میں موجود ہیں اور میری حالیہ انتخابی مہم کے دوران ملک بھر سے ملنے والا عوامی رسپانس بھی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گالم گلوچ کی نہیں نظریات اور اصولوں کی سیاست کر رہا ہوں‘ ہمارا منشور غریب ، کسان اور عوام دوست ہے‘ عوام کی خدمت ہی گڈ گورننس ہے‘ ہمیں انتخابی مہم سے روکا جا رہا ہے‘ نصیر آباد میں بھی جلسے سے روکا گیا‘تھر کے جلسے میں عوام کی شرکت نے مخالفین کو بوکھلا دیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ