الیکشن2018ء اور محنت کشوں کا کردار

66

رانا محمود
علی خان

25 جولائی کو عام انتخابات منعقد ہورہے ہیں عوام خفیہ بیلٹ کے ذریعے اپنی پسند کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے اور آئندہ پانچ سالوں کے لیے امیدواروں کو منتخب کریں گے جس کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) متحدہ مجلس عمل اور پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی میں سے کوئی ایک پارٹی مرکز /صوبوں میں حکومت بنائی گئی، الیکشن کا شفاف ہونا ضروری ہے لیکن پی ٹی آئی کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیوں نے شفاف انتخابات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جو تشویشناک بات ہے ملک کے حالات کے پیش نظر شفاف الیکشن کا انعقاد لازمی ہے اگر ایسا نہیں ہوا تو ملک شدید بحران سے دو چار ہوسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کا انعقاد شفاف کرائیں اور اداروں کی مداخلت کو روکا جائے 25 جولائی کے الیکشن میں بحیثیت ووٹر محنت کشوں کا کردار کیا ہونا چاہئے کچھ پارٹیوں کے منشور کا میں نے جائزہ لیا ہے۔ محنت کشوں کے مسائل پر تین بڑی پارٹیوں، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی کے منشور میں محنت کشوں کے مسائل پر بڑے خوبصورت وعدے شامل ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) مرکز اور صوبہ پنجاب میں برسر اقتدار رہ چکی ہے پانچ سالوں میں محنت کشوں کے مسائل پر ان کا رویہ مزدور دشمنی پر مبنی تھا ، خیبر پختون خواہ میں پی ٹی آئی برسر اقتدار رہی پی ٹی آئی کاپانچ سالوں میں کے پی کے میں محنت کشوں کے لیے کوئی ایسا اقدام نہیں جو مزدور دشمنی پر مبنی نہ ہو۔ پیپلز پارٹی نے 5 سالوں میں صوبہ سندھ کے محنت کشوں کے ساتھ عملاً مزدور دشمنی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ میں نے متحدہ مجلس عمل کے منشور کا جائزہ لیا منشور میں محنت کشوں کے متعلق جو نکات تحریر کیے گئے ہیں وہ تمام پارٹیوں کے منشور کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہیں منشور کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔*حقیقی صنعتی ترقی کے لیے موثر منصوبہ بندی، کاٹیج اور ایگرو بیسٹ انڈسٹری کا فروغ ۔ *قومی اداروں کی نجکاری سے گریز اور انھیں نفع بخش بنانے کے اقدامات ۔ *در آمدات اور بر آمدات میں توازن قائم کرنا بالخصوص بر آمدی صنعت پر سے غیر ضروری ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کا خاتمہ ۔ اشائے تعیش کی در آمدات پر پابندی ۔ *سی پیک کے تحت قائم ہونے والے 129 انڈسٹریل زونز کے ذریعہ روز گار کا بندوبست۔ *زرعی صنعت اور ڈیر فارمنگ کا فروغ ۔ *ہنر مند پاکستان اسکیم کے تحت نچلی سطح تک اسکل ڈیویلپمنٹ سنٹرز کا قیام۔ *مزدوروں کے کارخانوں میں حصہ کو یقینی بنانا، ان کے روزگار کا تحفظ ، یونین سازی کا حق ، تالہ بندی اور چھانٹیوں سے نجات۔ *مزدوروں کی تنخواہوں اور مراعات میں مہنگائی کی شرح کے مطابق اضافہ ، صنعتی اداروں میں ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ۔ *سوشل سیکورٹی اسکیم کے دائرہ کار میں وسعت۔ *ILO اور دیگر مزدور دوست عالمی معاہدات کی پاسداری۔ *اولڈ ایج پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ ۔اگر محنت کشوں نے متحدہ مجلس عمل کو ووٹ نہیں دیا تو محنت کش آئندہ پانچ سالوں تک ماتم کرتے رہیں گے۔ الیکشن میں محنت کشوں کو ایک موقع ملا ہے کہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں ایسے اُمید واروں کے حق میں جو دیانتدار ، امانتدار بھی ہو ں اور صاحب کردار بھی ہوں جو غریبوں کے مسائل سے واقف ہوں اور ان سے ہمدردی بھی رکھتے ہوں چنانچہ نیشنل لیبر فیڈریشن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن میں محنت کش سرمایہ داروں، جاگیرداروں کے خلاف متحدہ مجلس عمل کے اُمیدواروں ، نشان کتاب کے حق میں اپنی رائے کو استعمال کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ