ہرعروج کوزوال ہے

117

سمیع اللہ ملک

امریکا کے سیکرٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ اگر طالبان امن مذاکرات کا حصہ بنے تو ٹرمپ انتظامیہ طالبان کے ساتھ افغانستان میں امریکی اور بین الاقوامی فورسز کے کردار پر بات کر سکتی ہے اور امریکا، افغانستان حکومت کے ساتھ مل کر طالبان سے امن مذاکرات اور سیاسی استحکام کے لیے آمادہ ہے۔ واضح رہے کہ طالبان کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ افغانستان سے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی فورسز کے انخلا کے بغیر امن مذاکرات کی گنجائش موجود نہیں ہے۔گزشتہ ہفتے طالبان کے رہنما بیت اللہ اخونزادہ نے واشنگٹن پر زور دیا تھا کہ افغان حکومت کو نکال کر طالبان قیادت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرے۔ عالمی سیاسی تجزیہ نگاراس حیرت انگیز امریکی تبدیلی کوجہاں خوش آئندقراردے رہے ہیں وہاں افغانستان میں 17 سال سے موجودامریکاکی بالآخرپسپائی سے تشبیہ دیتے ہوئے طالبان کی جیت قراردے رہے ہیں کہ ان کی شرائط پرنہ صرف امریکانے گھٹنے ٹیک دیے ہیں بلکہ براہِ راست مذاکرات پربھی آمادگی کاعندیہ بھی دیاہے بلکہ افغانستان میں امریکاکی موجودگی اوراس کے قیام کا تعین کرنے پربھی رضامندہے۔ افغان حکومت اورافغان طالبان کی جانب سے عیدالفطرکے احترام میں جنگ بندی کے دوران افغان طالبان کی جانب سے بھرپورقوت کامظاہرہ کرنے اوردارلحکومت کابل سمیت کہیں پربھی حملہ نہ کرنے پرعملدرآمداوراپنی بات پرقائم رہنے پرامریکی وزارتِ خارجہ نے جاری ایک بیان میں کہاہے کہ امریکاافغان حکومت اورافغان طالبان کے مابین جنگ بندی کاخیرمقدم کرتاہے اورحالیہ جنگ بندی کے بعداس بات پرآمادہ ہے کہ افغان حکومت اورافغان طالبان کی جنگ بندی کوتوسیع دی جائے اورساتھ ہی امریکاکی افغانستان میں موجودگی اوربین الاقوامی فوج کے کردارکاتعین اوران کے قیام کے حوالے سے بھی بات چیت ہوسکتی ہے ۔
امریکا کے سیکرٹری اسٹیٹ اوروزیرخارجہ مائیک پومپیو نے افغان صدراشرف غنی کوپیغام ارسال کیاہے کہ امریکاافغان طالبان کی اس بات پرغورکرنے کے لیے تیارہے کہ امریکی افواج کے قیام کے حوالے سے بات چیت کی جائے اوراس بات چیت پرافغان حکومت ،طالبان اورامریکابراہِ راست مذاکرات کرسکتے ہیں۔امریکاکی جانب سے یہ عندیہ کہ امریکا بین الاقوامی فوج کے کردارکے تعین کے لیے تیارہے نہ صرف طالبان کی کامیابی ہے بلکہ اس سے نتیجہ اخذکیاجاسکتاہے کہ 17سال کے بعدامریکانے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور براہِ راست مذاکرات پرآمادہ ہوگیا ہے۔ امریکا اس سے قبل خودکوفریق تسلیم نہیں کرتا تھا اور امریکا کا یہی مطالبہ رہاکہ افغان طالبان اورافغان کٹھ پتلی حکومت آپس میں مذاکرات کریں۔ امریکاگزشتہ 17 برس سے اپنے لاکھوں فوجیوں اوراتحادیوں کے ساتھ افغانستان میں امن قائم کرنے میں ناکام رہاجبکہ طالبان افغانستان کے 47فیصد سے زائد علاقے پرنہ صرف قابض ہوگئے ہیں بلکہ امریکااورااس کے اتحادیوں کواربوں ڈالرکے نقصان کے بھاری جانی نقصان بھی اٹھاناپڑاہے اورافغانستان میں دن بدن حالات خراب سے بدترہوتے جارہے ہیں۔
افغانستان میں ایک طرف داعش اوردیگر تنظیمیں پنپ رہی ہیںتودوسری جانب امریکی حملوں میں عام لوگ جاں بحق ہورہے ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان نے امریکی وزارتِ خارجہ کے بیان پرردّ ِ عمل کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ افغان طالبان افغانستان میں ہرقسم کے مذاکرات کے لیے تیارہیںتاہم وہ امریکاکے ساتھ مذاکرات کرناچاہتے ہیں کیونکہ امریکا ہی افغانستان میں اصل فریق ہے۔ افغان طالبان کاکہناہے کہ اگرامریکاافغانستان سے پرامن انخلا میں سنجیدہ ہے توفوری طورپرمذاکرات کی میزپرآجائے تاکہ جارحیت کے مزیدالمیے کوختم کیاجاسکے جس کابڑانقصان جہاں پرامن افغان کاہورہاہے وہاں امریکی بھی جانی ومالی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔ افغان طالبان کایہ کہناہے کہ اب امریکیوں کی یہ غلط فہمی دورہوجانی چاہیے کہ ہر معاملہ یا مسئلہ بزورطاقت حل نہیں کیاجاسکتا اورنہ ہی نتیجہ خیز ہوسکتا ہے۔ کم ازکم افغانستان میں اسے اپنی غلط پالیسیوں کاادراک توضرور ہوگیا ہوگا۔ امریکا کو یہ بات تسلیم کرناہوگی کہ جس طرح روسی جارحیت کے خلاف افغانوں کی جدوجہدجائزتھی اسی طرح امریکی جارحیت کے خلاف بھی افغان کی جدوجہد بالکل درست ہے اورانہیں کوئی بھی اس کام سے نہیں روک سکتا۔
افغان طالبان چاہتے ہیں کہ افغان عوام اپنے پاؤں پرکھڑے ہوں،عوام کوروزگارملے ،معیشت ترقی کرے ،عوام کواپنے ملک میں رزقِ حلال کمانے کے امکانات میسرہوں ، کارخانوں کاقیام اورفیکٹریاں قائم کی جائیں تاکہ افغانستان میں معیارتعلیم ،شرعی نظام اوروقارکے ساتھ زندگی میسرہو۔ افغان طالبان نے مزیدکہاکہ امریکاکی جانب سے براہِ راست مذاکرات کاعندیہ طالبان کی قربانیوں کاثمرہے تاہم اس کے باوجودجنگ بندی سے ایک روزقبل امریکانے غزنی میں طالبان کے ریڈیواسٹیشن کونشانہ بنایاہے جس سے یہ بات ظاہرہے کہ امریکاہرصورت طاقت کے استعمال کوہی جائزسمجھتاہے۔اگرامریکاواقعی افغانستان کاحل چاہتاہے تواسے کھل کرمذاکرات کی دعوت دینی چاہیے اورایساماحول بھی پیدا کرنا چاہیے جس سے اس کی سنجیدگی کا پتا چلے۔افغان طالبان دنیاکے کسی بھی گوشے میں امریکاسے بات چیت کے لیے تیارہیں کیونکہ افغان طالبان سمجھتے ہیں کہ مذاکرات سے ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب عیدکے روزافغان طالبان نے پورے افغانستان میںنہ صرف اپنی دھاک بٹھادی بلکہ پہلی بارامریکااورافغان حکومت کے اس پروپیگنڈے کاتوڑبھی کردیاہے کہ افغان طالبان غیرملکی جنگجوؤں پرمشتمل ہے اورہمسایہ ممالک کے کہنے پرلڑرہے ہیں۔ 17سال بعدافغان طالبان کے دستے کابل میں داخل ہوئے اورانہوں نے کابل داخل ہوتے ہی وزارتِ داخلہ کے قریب چیک پوسٹ پراپناتمام اسلحہ جمع کروادیااورمقامی کمانڈروں کی قیادت میں وزیرداخلہ اویس برمک کے ساتھ نہ صرف ملاقات کی بلکہ عیدکی مبارکبادبھی دی ،افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے طالبان کامؤقف پیش کیا۔ اس موقع پراویس برمک اورافغان کمانڈروں کی مشترکہ تصویربھی جاری کی گئی ۔اس موقع پردنیا بھرکے ذرائع ابلاغ نے یہ دکھایاکہ کابل کے اندرتمام طالبان کمانڈرزاوران کے ساتھی ناصرف افغان ہیں بلکہ مقامی لوگ ہیں اورانہوں نے یہ ثابت کردیاکہ وہ کابل میں نہ صرف موجودہیں بلکہ ایک کثیرتعدادکاتعلق کابل اوراس کے مضافات سے ہے۔ اسی طرح کابل کے علاوہ قندھار، غزنی،بدخشاں،سرائے پل،فاریاب، ہرات،ننگرہار،لغ مان اوردیگر صوبوں میں بھی دارلحکومتوں میں آئی جی افسرز،کورکمانڈرزکے دفاترکے سامنے سیکڑوں گاڑیوں میں طالبان نمودارہوئے اورانہوں نے اپنااسلحہ افغان فوج کے حوالے کرکے ان تمام آفیسر سے ملاقات کرکے انہیں عیدکی مبارکبادپیش کی اورافغانستان میں قیام امن کے لیے اپنے مؤقف کودہراتے ہوئے تجاویزبھی پیش کیں۔
اس موقع پرنہ صرف افغان عوام بلکہ دنیابھی حیران ہوگئی کہ ہزاروں افغان طالبان کس قدرخاموشی کے ساتھ کابل اوردیگرعلاقوں میں اُمڈ آئے اورحیران تھے کہ کس دیدہ دلیری کے ساتھ انہوں نے اپنااسلحہ افغان فوج کے حوالے کیا اور ملاقاتیں کرکے اپنااسلحہ واپس لے کر خاموشی کے ساتھ واپس لوٹ گئے لیکن دنیابھرکے ذرائع ابلاغ نے بھی بغورمشاہدہ کیاکہ ان میں سے ایک بھی غیرافغان نہیں تھا۔ دراصل افغان طالبان نے نہ صرف افغان عوام کویہ پیغام دیاہے کہ وہ افغان عوام کے ساتھ پرامن رہنے کے لیے کبھی بھی ان کسی نقصان پہنچانے کے حق میں نہیںاوراس کے ساتھ افغان پولیس اورفوج کوبھی یہ پیغام دیاکہ ہم ایک ہیں لیکن امریکی افواج کی موجودگی اورمدد ان کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے اور موجودہ قتل وغارت وخانہ جنگی صرف امریکی افواج کی موجودگی کی وجہ سے ہے۔ یہاں بھی افغان پولیس اورافغان فوج نے افغان طالبان کے ساتھ بڑے شوق سے تصاویربھی بنوائیں جوبعدازاں میڈیاکی بھی زینت بنیں جبکہ پکتیااوردیگرعلاقوں میں مشترکہ طورپر علاقائی رقص بھی کیاجوایسے خوشی کے تہواروں کے مواقع پر منعقد کیا جاتاتھالیکن پچھلے کئی برسوں سے یہ سلسلہ بند ہو چکا تھا۔اس موقع پردنبے اوردیگرجانوربھی ذبح کیے گئے جس سے ایک بہت بڑی ضیافت کااہتمام بھی کیاگیا۔
افغان طالبان نے افغان فوج اورپولیس کے اعلیٰ حکام کویہ بھی بتایاکہ وہ اپنی بات پراس لیے قائم ہیں کہ سیزفائرکے اعلان کے بعداسلحہ فوج کے حوالے کیااورواپسی پراپنااسلحہ وصول کرنے کے بعد خاموشی کے ساتھ کابل کوچھوڑ دیا۔ اس عمل میں فغان حکومت کوبھی یہ پیغام دیاگیاہے کہ افغان طالبان جنگ نہیں بلکہ افغانستان کوایک فلاحی ریاست بناناچاہتے ہیں۔اس حوالے سے نہ صرف افغان طالبان نے جنگ بندی پرمکمل عملدرآمدکیابلکہ تین دن سے زائدجنگ بندی میں توسیع سے بھی انکارکردیا۔افغان صدرنے مزیدجنگ بندی میں توسیع کی درخواست بھی کی لیکن افغان طالبان نے مزیدجنگ بندی کو بے سودقراردیتے ہوئے اپنے مقصدسے انحراف سمجھتے ہوئے انکارکردیالیکن عیدکے تین دن سارے ملک میں آزادی کے ساتھ طالبان دندناتے رہے جس سے انہوں نے افغان عوام اورغیرملکی افواج سمیت میڈیاکویہ پیغام دیاکہ وہ جب چاہیں سارے ملک پر قبضہ کرسکتے ہیں لیکن وہ بے گناہ اورمعصوم عوام کی خونریزی سے گریزچاہتے ہیں۔
اس بارپہلی مرتبہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ1996ء کے بعدافغان طالبان کے چھوٹے کمانڈروں سے لے کر صوبائی کمانڈروں تک نہ صرف بین الاقوامی میڈیاسے مخاطب ہوئے بلکہ بین میڈیاکے نمائندوں کے ساتھ سیلفی بناتے ہوئے طنزبھی کرتے رہے۔ تغمان کے پولی نیکنک کے علاقے لغمان ،ننگرہار، غزنی، بلخ، بدخشاں، قندوز اورقندھار میں بین الاقوامی میڈیاکے نمائندوں کوکہتے رہے کہ بتاؤکون ہم میں غیرملکی ہے یاپاکستان یادوسروں کی لرائی لڑرہاہے؟آپ لوگ اپنے میڈیاکے ذریعے جوپروپیگنڈا کرتے رہے ہیں،اب ثابت کروکون غیرملکی ہے؟یہ سارے افغان ہیں اورمقامی علاقوں سے ان کاتعلق ہے اور پوری دنیانے یہ دیکھ لیاہے کہ ہم اپنے ملک سے تمام غیرملکیوں کے انخلا اوراپنے ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔اس سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ امریکااوراس کے اتحادی افغان جنگ ہاررہے ہیں۔
تغمان کے طالبان کمانڈر صالح نے الجزیرہ،نیویارک ٹائمز اورسی این این کے نمائندوں کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے کہاکہ آپ لوگوں کاپروپیگنڈا کہاں گیا کہ ہم آئی ایس آئی کے لیے لڑرہے ہیں،یہ جولڑنے والے ہیں ان میں کون سے پاکستانی ،ایرانی یاغیرملکی ہیں۔یہ سارے مقامی افغان ہیں۔یادرکھیں ہمیں نہ توکسی بھی ملک کی مددکی ضرورت ہے اورنہ ہی ہم پاکستان یاایران کی جنگ لڑرہے ہیں۔پاکستان کروڑوں لوگوں کاملک ہے اوروہ اپنے مسائل خودحل کرسکتے ہیں۔اگرافغانستان میں بین الاقوامی میڈیاکے مقامی نمائندے پروپیگنڈا بندکردیں توافغانستان میں قیام امن مشکل نہیں ۔طالبان کی اچانک آمداورافغان فوج کے ساتھ عیدمنانے کے بعدستمبر2017ء میں حکمت یارکی جانب سے پیش کیے جانے والے 5 نکاتی امن منصوبے کی اہمیت بڑھ گئی ہے اورافغان حکومت نے اب باقاعدہ طورپرحکمت یارسے منصوبے پرعملدرآمد کے لیے مددطلب کرلی ہے۔یہی وجہ ہے کہ افغان حکومت نے حکمت یارکے کہنے پر64 سے زائدافغان طالبان کے رہنماؤں کورہاکردیاہے جس میں اکثریت علما کی ہے جبکہ 250سے زائدحزب کے کے قیدیوں کوبھی رہا کردیا ہے۔
افغان حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے عیدکے موقع پرحکمت یارسے اس امن منصوبے پرمزیدبات چیت کی ہے جس میں پانچ نکات کے مطابق امریکی انخلا،بین الافغان مذاکرات،افغان طالبان قیدیوں کی رہائی،افغان طالبان قیادت کے لیے فری زون کاقیام اورافغانستان اورامریکاکے اسٹرٹیجک معاہدے کاازسرنوجائزہ لیناشامل ہے۔ حکمت یارنے افغان حکام کوبتایاکہ اگر امریکا انخلا کااعلان کرتاہے توافغان طالبان کے بتدریج افغان حکومت میں شمولیت کے امکان زیادہ ہیںلیکن جب تک امریکاانخلا کااعلان نہیں کرتاتوافغانستان میں امن ممکن نہیں ہے اوراس کاعملی مظاہرہ عیدکے دن نظرآیاجب ایک سال قبل انہوں نے (حکمت یار)کہاتھا کہ افغان طالبان،حزب اسلامی اورافغان فوج ایک ہی لوگ ہیں اور لیکن بین الاقوامی فوج کی موجودگی کی وجہ سے آپس میں دشمن بنے ہوئے ہیں اوراس کاعملی مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیاجب افغان طالبان اورافغان فوج باہم عیدگلے مل رہے تھے۔حکمت یارنے ایک مرتبہ پھرافغان حکومت پر زوردیاکہ اگروہ امریکی فوج کوانخلا کے لیے بات چیت پر آمادہ کریں توممکن ہے طالبان مستقل جنگ بندی کے لیے تیارہوجائیں لیکن ایک طرف مستقل جنگ بندی ہواوردوسری طرف سے امریکی بمباری کرے تویہ یقیناً قطعی طورپرکسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں۔
افغان طالبان کی موجودہ حکمت عملی کودوبارہ مستقل جنگ بندی کے لیے وسیع پیمانے پرکوششیں شروع ہوچکی ہیں اوراگرامریکاکی جانب سے انخلا کے ٹائم ٹیبل پرآمادگی اورپیش رفت ہوتی ہے توافغانستان میں مستقل جنگ بندی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان،ترکی اورسعودی عرب نے دوبارہ اپ نی کوششیں شروع کردیں ہیں اورقوی امکان ہے کہ امریکاکی جانب سے مذاکرات کی میزپربیٹھنے سے قبل انخلا کاٹائم ٹیبل کااعلان ہوسکتاہے تاہم قندوزمدرسے جیسے واقعات سے جنگ کے خطرات بھی لاحق ہیں۔ امریکاکو فوری طورپرفضائی کاروائیاں روک کرخودکواپنے اڈوں تک محدودکرنے کااعلان کرنا چاہیے تاکہ افغان طالبان سے مستقل جنگ بندی کامطالبہ کیاجاسکے تاہم 17 سال بعد افغان طالبان کی 3 روزہ جنگ بندی نے انہیں عالمی سطح پرمتعارف کرانے اورانہیں ایک بڑی مسلمہ بڑی طاقت کے طورپردنیاکے سامنے پیش کردیاہے جبکہ گزشتہ 17 سال میں افغان طالبان اورفوجی کمانڈروں کے درمیان تین روزتک مسلسل براہ راست روابط نے بہت سی غلط فہمیاں دورکردیں ہیں جومستقبل میں افغان مسئلے میں اہم کرداراداکرسکتے ہیں۔
ادھرامریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل موریل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند یا کم کر کے اس پر دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ امریکا کا پاکستان پر ناجائز دباؤ کا حربہ کارگر نہیں ہو گا البتہ اس دباؤسے امریکاکو نقصان پہنچ سکتا ہے پاکستان کو نہیں کیونکہ پاکستان امریکی امداد سے آزاد ہو چکا ہے۔ چین جیسے دوست کی امداد اسے حاصل ہے اوراس وقت سی پیک جیسےمیگا پراجیکٹ کے ذریعے پاکستان ،چین کی بھی اہم ضرورت بن چکاہے۔اہم بات یہ ہے کہ امریکا پاکستان کی فضائی اور زمینی راستوں کامحتاج ہے جس کے تعاون کے بغیر یہ جنگ امریکانہ تو جیت سکتا ہے اورنہ ہی فوری انخلا۔ سی آئی اے کے سابق قائم مقام سربراہ مائیکل موریل نے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ کی تقریر پر اپنا ردّ ِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ہم کس قدر پالیسی میں تبدیلی پر آمادہ کر سکتے ہیں کہ وہ طالبان کی حمایت سے کنارہ کش ہو جائے تاہم ایران اور روس کی امداد سے طالبان میں ایک نئی قوت پیدا ہو چکی ہے ان میں نظریاتی عنصر ایسا ہے جسے شکست دینا ناممکن ہے وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی واضح نہیں ہے نہ ہی انہوں نے کوئی پلان دیا ہے کہ کتنی فوج بھیجی جائے گی اور اس کا رول کیا ہو گا جبکہ انہوں نے افغان حکومت کے کردار کی بھی وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل اورفوری انخلا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے لیے اس سے آسانیاں پیدا ہوں گی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکی افواج کی زمین پر موجودگی میں اضافہ ہوتا ہے تو طالبان کی کارروائیوں سے امریکی فوجیوں کے تابوت پہنچنے پر امریکا میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے جوجنگی خسارے سے بھی کہیں زیادہ خوفناک ہوگا ۔یادرہے کہ طالبان کے ساتھ جاری جنگ میںاب تک صرف امریکی فورسز کے 2500 ہزار سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
مائیکل موریل نے مزید کہا کہ طالبان کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے افغان حکومت کی کرپشن کے خاتمے اور افغان فوج کی کارکردگی بہتر بنانا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ امریکا اگر ہارے نہ بھی تو جنگ جیت نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی جنگ نظریاتی ہے۔ ایران اورروس کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ