صدی کی ڈیل امریکی منصوبہ، سعودیہ اور مصر نے ناکام بنایا،فلسطینی سفیر کا انکشاف

190

مصرمیں تعینات فلسطینی سفیر دیاب اللوح نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب اور مصر نے (صدی کی ڈیل) کا امریکی منصوبہ ناکام بنایا ہے، صدی کی ڈیل منصوبہ کا مقصد القدس کو اسرائیل کے حوالے کرنا اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روکنا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ مصرمیں تعینات فلسطینی سفیر دیاب اللوح نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے حل کے حوالے سے تجویز کردہ امن منصوبہ صدی کی ڈیل سعودی عرب اور مصر کی کوششوں سے ناکام ہوگیا ہے۔فلسطینی سفیر نے کہا کہ حالیہ ایام میں امریکا کی جانب سے صدی کی ڈیل کے بارے میں کوئی بات نہ تو فلسطینی حکام سے کی گئی ہے اور نہ ہی کسی عرب ملک سے اس پر بات کی گئی ہے۔ تاہم امریکا اور اسرائیل کی طرف سے بعض اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدی کی ڈیل میں القدس کو مکمل طورپر اسرائیل کے حوالے کرنا اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ روکنا ہے۔

فلسطینی سفیر دیاب اللوح نے مزید کہا کہ صدی کی ڈیل کے امریکی امن منصوبے کو ہم بعض اقدامات کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ امریکا نے غیرمنقسم بیت المقدس کو اسرائیل کا ابدی دارالحکومت تسلیم کرکے اپنا سفارت خانہ بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا ہے۔واشنگٹن میں تنظیم ازادی فلسطین(پی ایل او)کے مراکز بند کردیے گئے ہیں۔

امریکا کی طرف سے فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے قائم اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسیاونروا کی مالی امداد بھی کردی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کو ناممکن بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ یہ سب کچھ صدی کی ڈیل کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر سعودی عرب، مصر اور اردن سمیت کئی دوسرے ممالک کی مساعی سے امریکا صدی کی ڈیل اسکیم کا اعلان نہیں کرسکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ