انڈیا میں عدالت عظمیٰ ایسا کیوں نہیں کرتی

144

پروفیسر عنایت علی خان
بہت پہلے عزیز محترم اختر عباس صاحب کا ایک کالم نظر نواز ہوا۔ جس کے ابتدائی حصے میں لاہور جیم خانہ کا تذکرہ تھا کہ وہاں بغیر ٹائی کے داخلہ ممنوع ہے گو ازراہ قوم پروری شلوار قمیص کے ساتھ واسکٹ ہو تو گوارہ کرلیا جاتا ہے۔ اس ضابطے کا شکار ہندوستان سے آئے ہوئے معروف صحافی، کالم نگار اور کشمیر میں تحریک آزادی کے مستحکم ستون جناب سید علی گیلانی کے داماد بھی ہوئے۔ جس پر انہیں تعجب بھی ہوا لیکن کسی ایک میزبان صحافی نے اُلٹی گرہ والی ہی سہی ایک ٹائی ان کے گلے میں ڈال دی۔ اس سے قبل اختر عباس صاحب نے جیم خانے کے آداب وہاں کی رکنیت کے ہفت خواں کا ذکر کیا جسے پڑھ کر علامہ اقبال کا شعر یاد آگیا:
مگر سرکار نے کیا خوب کونسل ہال بنوایا
کوئی اس شہر میں تکیہ نہ تھا سرمایہ داروں کا
خوئے غلامی کے اظہار کی یہ علامت اس شہر ناپُرساں کراچی میں بھی ہے جس میں بقول اظہر حسن مرحوم جب بعض اونچے درجے کے احباب نے رکنیت اختیار کرنے پر زور دیا تو رکن ساز کمیٹی نے اُن کی پڑتال کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ کی اہلیہ کو رقص آتا ہے۔ نفی میں جواب کے باوجود موصوف کو ان کے منصب (کمشنر کسٹمز) کی بنا پر رکن بنالیا گیا کہ ایسا نہ ہو انکار پر کسی سرمایہ دار رکن کو تگنی کا ناچ نچوادیں۔ آمدم برسر عنوان۔ گیلانی صاحب مذکور نے سیاست میں عدلیہ کی دخل اندازی کو نامناسب سمجھتے ہوئے بھارت کی مثال دی کہ وہاں کی عدلیہ نے اعلیٰ سیاسی حکمرانوں کے خلاف کسی درخواست کو کبھی قابل اعتنا نہیں گردانا اور ان کے الفاظ میں ’’کبھی عدالت نے اپنا کام چھوڑ کر ان مقتدر ہستیوں کو نہیں چھیڑا۔ یہ کوئی قانون نہیں ہے مگر عدلیہ کی ایک فہم و دانش پر مبنی انڈر اسٹینڈنگ ہے‘‘۔ بقول اختر عباس صاحب مظہر عباس سے لے کر حفیظ اللہ نیازی اور حبیب اکرم سے لے کر ارشاد عارف سبھی موجود تھے مگر کسی کے پاس مہمان کے اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ حالاں کہ جیم خانہ کی بے رحم روایت کا تو شاید سبھی کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈ ہی لیتے۔ عدلیہ کی دانش کا جواز یہ تھا کہ اگر عدلیہ حکمرانوں کے خلاف کوئی درخواست قبول کرلے اور اس کی بنیاد پر مقدمہ قائم کرے تو حکمرانوں کا وقار مجروح ہوجائے اور ان کو اپنے احکام منوانے میں دقت ہو۔ راقم کو حیرت ہے کہ پاناما لیکس سے لے کر اسلام کے صدر اولْ ْْْْتک کی تاریخ تو اس سوال کا واضح جواب دیتی نظر آرہی ہے۔ پاناما کے انکشافات کے بعد متعدد حکمرانوں پر مقدمے قائم ہوئے اور عدلیہ نے ان کے خلاف فیصلے صادر کیے اور وہ نافذ بھی ہوئے۔ ظاہر ہے یہ فیصلے بعض درخواست گزاروں ہی کے استغاثہ کے تحت عمل میں لائے گئے ہوں گے۔ ساتھ ہی راقم کو وہ واقعہ یاد آیا کہ سیدنا عمرؓ جیسے اہل دانش و حکمت شخص نے حج کے موقع پر جب ان کے فرمان کے تحت ہر صوبے کے والی حضرات جمع ہوتے تھے اور وہ برسرعام عوام سے دریافت کرتے تھے کہ اگر ان میں سے کسی کو اپنے حاکم کے خلاف کچھ کہنا ہو تو بلاتکلف اپنی شکایت پیش کرے۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے ایک والی کے خلاف شکایت کی کہ مجھے بلا جرم والی کے حکم سے کوڑے لگائے گئے تھے اور وہ والی اپنے دفاع سے قاصر رہے تھے تو سیدنا عمر فاروقؓ نے کوڑا مستغیث کے حوالے کرکے فرمایا تھا کہ وہ وہیں کھڑے کھڑے اپنا بدلہ لے لے۔ اُس وقت بھی بھارت کی عدلیہ کی دانش کار فرما تھی جو والی مصر سیدنا عمرو بن العاص کے الفاظ میں یہی تھی کہ اگر اس طرح مجمع عام میں والیوں (گورنرز) کو نشانہ تعذیب بنایا گیا تو ان کا وقار مجروح ہوگا جس سے انتظام حکومت متاثر ہوگا۔ اس دانش مندانہ حکمت عملی کا سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدھا جواب ارشاد فرمایا کہ تم حاکموں کے عزووقارکی بات کرتے ہو، میں نے نبی اکرمؐ کو بدلے کے لیے خود کو پیش ہوتے دیکھا ہے۔ یہ ناطق فیصلہ سن کر ملزم گورنر نے شکایت پیش کرنے والے کو زرکثیر دے کر اپنی زیادتی کی معافی حاصل کی۔ اسی کے ساتھ راقم کو وہ واقعہ یاد آیا جب انصار کے ایک معزز قبیلے کی خاتون نے چوری کی تھی اور قبیلے کے وقار کو مجروح ہونے سے بچانے کے لیے آپؐ سے اس کی معافی کی سفارش کی گئی تھی تو آپؐ نے صحابہ کو جمع کیا اور ارشاد فرمایا کہ سابقہ قومیں اس وجہ سے برباد ہوئیں کہ جب ان کا کوئی غریب جرم کرتا تھا تو اُسے سزا دی جاتی تھی اور کوئی باحیثیت جرم کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیا جاتا تھا۔ خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے وہ تو فلاں قبیلے (آپؐ نے قبیلے کا نام لیا) کی فاطمہ نے چوری کی ہے اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہ بھی جرم کرتی تو ہاتھ اس کا بھی قطع کیا جاتا۔ تم اللہ کے دیے ہوئے قانون کے خلاف مجھ سے سفارش کرتے ہو (اوکما قالؐ)
اگر بھارت میں عدلیہ یہ دانش اختیار کرتی ہے تو اسی دانش کا اظہار تو دور مظلمہ میں چرچ نے بھی جسے عدلیہ کے اختیارات حاصل تھے حاکمان وقت کو خدا کے نائب کا خطاب دے کر ان کے خدائی حقوق کا اظہار DEVINE RIGHTS OF THE KING (بادشاہ کے حقوق آسمانی) کے مطابق کیا تھا۔ گویا
تو مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر، بلکہ خدا کی گردن پر اور جب مسلمانوں کے علوم کے ذریعے عوام کی عقل آزاد ہوئی تو انہوں نے عیسائیت کے اورخدا کے نام پر کیے جانے والے استیصال کے خلاف بقول اقبال اعلان کردیا۔
لاسلا طین‘ لاکلیسا لاالٰہ
بھارتی عدلیہ کا موقف یہ ہے کہ حکام سے پرسش ان کے سبک دوش ہونے پر کی جانی چاہیے۔ گویا اسے اپنے دور اقتدار میں خواہ وہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو من مانی کرنے کا موقع دیا جائے۔ اللہ کے سچے نبیؐ نے ایک اور صحابی سے ارشاد فرمایا ’’انصراخاک ظالماً اومظلوماً‘‘۔ اب چوں کہ یہ دور جاہلیت کی قبائلی عصبیت کا ’’موٹو‘‘ (موقف) تھا۔ اس لیے صحابہ نے حیرت سے دریافت کیا کیا ظالم کی مدد کی جائے۔ ارشاد ہوا: ہاں اس کا ہاتھ ظلم سے روک کر۔ مذکورہ دانش کے معنی کیا یہ نہیں ہیں کہ بھیڑیے کو جب تک اس میں دم ہے چیرپھاڑ کی مہلت دی جائے جب اس کے دانت اور پنجے جھڑ جائیں تب اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ اختر عباس صاحب نے جن معتبریں کا نام لیا ہے ان میں سے کون اٹھ کر کہتا کہ نہیں ہمارے یہاں بھی عدلیہ کی چارہ گری کو ستم گری کہنے والے موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنے دائرے میں کام کرنا چاہیے، تو اصل رونا تو کام نہ کرنے بلکہ کام بگاڑنے ہی کا ہے۔ عدلیہ کا فرض ہے کہ عوام کے حقوق کی پاسداری کرے اور بھیڑوں کو بھیڑیوں کے چنگل سے نکالے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ