بھارت :گؤ رکھشا کے نام پر ایک اور مسلمان ہجوم کا شکار

135
جے پور: راجستھان میں ہجوم کے ہاتھوں مسلمان کے قتل کے بعد پولیس اہل کار تفتیش کررہے ہیں
جے پور: راجستھان میں ہجوم کے ہاتھوں مسلمان کے قتل کے بعد پولیس اہل کار تفتیش کررہے ہیں

جے پور (انٹرنیشنل ڈیسک) مغربی بھارت میں ایک بار پھر مشتعل ہجوم نے ایک مسلمان کو گائے کی اسمگلنگ کے الزام میں سرعام تشدد کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس نے ہفتے کے روز اس ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ قبل ازیں بھارتی عدالت کی جانب سے پولیس اور انتظامیہ سے بار ہا اپیل کی گئی ہے کہ وہ ملک بھر میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں کیے جانے والے تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کریں، تاہم حالیہ کچھ عرصے میں بھارت میں اس طرز کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان میں ایک ہجوم نے آدھی رات کو 2 پیدل افراد کو 2 گایوں کے ساتھ پکڑ لیا۔ الور ضلع میں ان افراد پر گائے کی اسمگلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے اس مشتعل ہجوم نے گھونسوں، لاتوں اور لاٹھیوں کی بارش کر دی۔ مقامی پولیس افسر موہن سنگھ کے مطابق یہ افراد ان گایوں کو قریبی ریاست ہریانہ میں اپنے گاؤں لے جا رہے تھے ۔ مقامی پولیس کے مطابق ان 2 میں سے ایک شخص ہجوم سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا، تاہم دوسرے کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسپتال پہنچنے تک یہ شخص دم توڑ چکا تھا۔ سنگھ نے کہا ہے کہ اس حملے کے بعد پولیس فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچی، تاہم حملہ آور پولیس کو دیکھ کر فرار ہو گئے اور اپنے پیچھے زخمی شخص اور 2 گائے چھوڑ گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ بات واضح نہیں ہو پائی ہے کہ آیا ان افراد پر گائے کی اسمگلنگ کا الزام درست تھا یا نہیں، اس حوالے سے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔ گزشتہ برس اسی ضلع میں گائیوں کو ذبح کرنے کے الزامات کے تحت ایک مسلمان کو ہلاک اور دیگر 14 کو زخمی کر دیا گیا تھا۔ ان افراد نے راجستھان میں یہ گائیں ایک میلے میں خریدی تھیں اور انہیں لے کر ہریانہ ریاست کی جانب لے جا رہے تھے۔ واضح رہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسند سیاسی جماعت بی جے پی کی حکومت ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکمرانی میں مسلمانوں پر سرعام تشدد اور گائے رکھشا کے نام پر کئی افراد پر ظلم و ستم ڈھانے کے بعد انہیں سرعام قتل کرنے کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں تاہم مودی سرکار ایسے واقعات کو نہ صرف روکنے میں ناکام رہی ہے بلکہ ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں کرنے سے بھی گریزاں ہے۔
بھارت ؍ مسلمان قتل

Print Friendly, PDF & Email
حصہ