تین ہفتوں کے دوران فی من 1600 روپے کا ہوشربا اضافہ

267

کراچی:مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھاؤ میں تیزی کا تسلسل جاری رہا۔ ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی جانب سے روئی کی خریداری میں اضافہ کے نسبت پھٹی کی رسد محدود ہونے کے سبب روئی کے بھاؤ میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران فی من 1600 روپے کا ہوشربا اضافہ ہو ا اسی طرح پھٹی کا بھاؤ بھی فی 40 کلو 800 روپے کے اضافہ کے ساتھ 4600 تا 4700 روپے ہوگیا۔

اس سے قبل 11۔2010 میں چین کی جانب سے روئی کی زبردست خریداری کے باعث بین الاقوامی کپاس مارکیٹوں میں بھی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا نیویارک کاٹن مارکیٹ کی تاریخ میں روئی کا بھاؤ فی پاؤنڈ 2.29 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اس وقت مقامی کاٹن مارکیٹ میں بھی روئی کا بھاؤ فی من 14000 روپے کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اور پھٹی کا بھاؤ بھی فی 40 کلو 6500 روپے کی بلند ترین سطح کو چھو لیا تھا۔

اب تقریبا 8 سال کے بعد مقامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کا بھاؤ بڑھ کر فی من 9600 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 4700 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امکان ہے روئی کے بھاؤ مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چئیرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ کپاس پیدا کرنے والے زریں سندھ کے علاقوں میں پانی کی شدید قلت اور شدید گرمی کے باعث روئی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے اور ضلع سانگھڑ میں عموما روئی کی تقریبا 14 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار ہوتی ہے جبکہ اس سے نیچے والے علاقوں میں تقریبا 6 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار ہوتی ہے۔

اس سال پانی کی شدید کمی کے باعث روئی کی پیداوار میں تقریبا 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس سے اس علاقوں میں روئی کی 4 تا 5 لاکھ گانٹھوں کی کم پیداوار ہونے کا امکان بتایا جارہا ہے۔ صوبہ پنجاب کے کپاس پیدا کرنے والے علاقوں میں بارشوں کے باعث پیداوار متاثر ہورہی ہے۔ روئی کے بھاؤ میں بے تحاشا اضافہ ہونے کی وجہ سے پھٹی کے بیوپاری اور جنرز کے درمیان اور ملز اور جنرز کے درمیان جھگڑے ہورہے ہیں جس کے باعث ڈیلیوریاں متاثر ہورہی ہیں۔

نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کے بھاؤ میں مجموعی طور پر استحکام رہا۔ چین اور امریکا کے درمیان تجارتی و اقتصادی تنازعہ کے منفی اثرات بین الاقوامی تجارت پر پڑ رہا ہے جس کے باعث کپاس کا کاروبار بھی متاثر ہورہا ہے۔ چین نے امریکا سے درآمد پر 25 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کردی ہے چین بھارت اور پاکستان سے روئی اور سوتی مصنوعات درآمد کر سکتا ہے۔ روئی کے بھاؤ میں غیر معمولی اضافہ کی وجہ سے ٹیکسٹائل سیکٹر اضطراب کا شکار ہے جبکہ جنرز بھی نقصان کر رہا ہے جبکہ پھٹی کے بھاؤ میں اضافہ کے باعث کپاس کا کاشتکار تسلی میں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com