اینگرو اور رائل ووپاک کے ایل این جی انفرااسٹرکچر کے معاہدے پر دستخط

105

کراچی: پاکستان کی اینگرو کارپوریشن لمیٹیڈ اور دی نیدرلینڈز کے رائل ووپاک نے حصص کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ایلنجی ٹرمینل پاکستان لمیٹیڈ (EPTL) میں ووپاک 29 فیصد شیئر حاصل کرے گا۔

ETPL کی مکمل طور پر ملکیت میں موجود اینگرو ایلنجی ٹرمینل پرائیویٹ لمیٹیڈ(EETPL) نے ایل این جی سہولت کی ملکیت حاصل کر لی ہے جو پاکستان میں واقع پورٹ قاسم میں موجود اینگرو ووپاک کیمیکل ٹرمینل کے ساتھ واقع ہے۔ یہ سہولت 2015 سے کام کر رہی ہے اور یہ پاکستان میں ایل این جی کی درآمدات کی پہلی سہولت ہے۔

یہ سہولت ایک ایل این جی جیٹی پر بھی مشتمل ہے جن میں ساڑھے7 کلو میٹر ہائی پریشر گیس پائپ لائن بھی شامل ہے۔ یہ پائپ لائن EETPL کے واحد صارف اور حکومت پاکستانکی زیر ملکیت ادارے سوئی سدرن گیس کمپنی کے گرڈ سے منسلک ہے۔ EETPL کو فلوٹنگ اسٹوریج اور ری گیسی فکیشن یونٹ(FSRU) کا 15 سالہ ٹائم چارٹر بھی حاصل ہے۔

مائع شدہ گیس(liquified gas) طویل مدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کیریئرز کے ذریعے مختلف برآمداتی ملکوں سے FSRU میں سپلائی کی جاتی ہے جس سے تیزی سے EETPL جیٹی سے جوڑ کر پائپ لائن سے منسلک کیا جاتا ہے۔ ری گیسی فکیشن کا عمل FSRU پر طے پاتا ہے اور گیس کو خشکی پر منتقل کیا جاتا ہے جہاں ہائی پریشر میں یہ صارف کے گرڈ میں داخل ہوتی ہے۔

پاکستان 20 کروڑ لوگوں کی مارکیٹ ہے اور اس میں توانائی کی مانگ بڑھتی چلی جا رہی ہے جس میں گیس کا شیئر بڑھنے کا امکان ہے۔ گیس کا دراصل استعمال بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی استعمال اور فرٹیلائزر کے فیڈ اسٹاک کو پاور سپلائی کے لیے کیا جاتا ہے۔

اس ٹرانزیکشن کے مکمل ہونے کے بعد ETPL میں اینگرو کارپوریشن، ووپاک اور انٹرنیشنل فنانش کارپوریشن شیئرپولڈرز ہوں گے۔
ان شیئرز کے حصول کے ساتھ چند شرائچ کا بھی اطلاق ہو گا جس میں 2018 کی چوتھی سہ ماہی میں کسٹمری ریگولیٹری اور شیئرہولڈرز کی منظوری اور closing عمل میں لائی جائے گی۔

اینگرو کارپوریشن کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر غیاث خان نے کہا کہ صنعت کے لیڈر رائل ووپاک سے ہمارا دو دہائیوں سے مضبوط رشتہ ہے اور آج کا اعلان اس رشتے کو مزید مضبوط کرنے کی جانب ایک اور قدم ہے۔ ہم رائل ووپاک کے ساتھ اس باہمی مفادات کی حامل اس شراکت داری کا حصہ بننے پر بہت خوش ہیں جو ووپاک کو انداشہ لدائے گی کہ انہیں کس حکمت عملی کے ساتھ پاکستانی توانائی کی مارکیٹ میں قدم رکھنا ہے اور اینگرو اور ووپاک کی راہیں ہموار کرے گی تاکہ وہ مشترکہ وسائل اور مہارت کا استعمال کرتے ہوئے ملک اور بیرون ملک مزید منصوبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کر سکیں۔ اینگرو نے ہمیشہ دنیا کی بہترین چیزیں پاکستان لانے کی کوششیں کی ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ترقیاتی مارکیٹوں کو ترقی کی راہ پر سفر برقرار رکھنے کے لیے انفرااسٹرکچر اور منصوبوں کے FDI کی ضرورت ہوتی ہے۔

رائل ووپاک کے ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلکو ہوئیکسٹرا نے کہا کہ ہم اینگرو کے ساتھ اپنی شاندار شراکت کے ذریعے پاکستان کے اندر اور باہر مزید تعمیر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارے تعاون کا یہ نیا قدم ووپاک کو پاکستان کی ایل این جی مارکیٹ میں بہترین انداز میں انٹری فراہم کرے گا۔ یہ ایل این جی میں ترقی کرنے اور اپنی سروسز کو متنوع کرنے کے ہمارے مقصد کو بہترین طریقے سے پورا کرتا ہے۔

اینگرو کے رائل ووپاک کے ساتھ کاروباری تعلقات 1997 میں شروع ہوئے تھے جب اس وقت اینگرو کیمیکلز نامی ادارہ رائل ووپاک کے پیشرو کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے ذریعے کیمیکل اسٹوریج کی دنیا میں داخل ہوا تھا اور مشترکہ طور پر کاروباری شروع کیا تھا۔ اس مشترکہ منصوبے کے حوالے سے مزید معلومات کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

نومبر 2017 میں اینگرو کارپوریشن اور رائل ووپاک کے درمیان یاک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے تاکہ وہ ایل این جی، کیمیکل استوریج اور ٹرمینل آپریشن جیسے صنعتوں میں پاکستان اور بیرون ملک ترقی کے مزید مواقع ڈھونڈ سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com